کورونا وائرس کی وباء: سفر کے دوران یہ حفاظتی اقدامات اٹھائیں!

3 063

کورونا وائرس بہت تیزی سے دنیا بھرمیں پھیلتا جا رہا ہے، اور پاکستان نے بھی حال ہی میں کراچی اور اسلام آباد میں اس مہلک وائرس کے شکار دو مریضوں کی تصدیق کی ہے۔ سید یحییٰ جعفری نامی ایک 22 سالہ طالب علم میں COVID-19 کی علامات پائی گئی ہیں کہ جو پچھلے ہفتے ہی ایران سے وطن واپس پہنچا تھا۔ اس نوجوان کو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کے گھر والوں کے بھی ٹیسٹ لیے گئے ہیں تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ کہیں اس کے گھر کے دیگر افراد بھی اس مرض میں مبتلا تو نہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک 50 سالہ شخص کا ٹیسٹ بھی مثبت ثابت ہوا ہے کہ جو اس وقت پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS)، اسلام آباد میں زیرِ علاج ہے۔ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پھیلنا شروع ہوا اور اب تک دنیا کے مختلف حصوں میں 80,000 سے زیادہ افراد کو متاثر کر چکا ہے۔ وائرس اب تک 3,000 لوگوں کی جانیں بھی لے چکا ہے۔ دیگر کئی ملکوں میں بھی کورونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں کہ جن میں ایران، افغانستان، اٹلی، برازیل، جنوبی کوریا، ناروے اور مشرق وسطیٰ کے کچھ حصے شامل ہیں۔ 

اس صورت حال میں لازمی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، خاص طور پر سفر کے دوران۔ یہ نہ صرف آپ کی حفاظت کے لیے بلکہ پاکستان میں اس وائرس کے تیز ی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ موٹر سائیکل پر یا کار میں سفر کے دوران یقینی بنائیں کہ اس خطرناک وائرس کی وبا سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں: 

  • غیر ضروری طور پر مارکیٹوں اور خریداری کے مراکز وغیرہ میں جانے سے گریز کریں
  • سفر کے دوران ماسک پہنیں
  • گھر سے باہر نکلتے ہوئے چہرے کے لیے حفاظتی ماسک کا استعمال یقینی بنائیں
  • اپنی صفائی کا خاص خیال رکھیں 
  • وقتاً فوقتاً ہاتھ اور منہ اچھی طرح دھوئیں
  • زیادہ میل جول سے اجتناب کریں
  • سفر کے دوران sanitizer ساتھ رکھیں۔ کرنسی نوٹ وغیرہ لینے کے بعد ہاتھوں کو اسی سے صاف کریں
  • عوامی مقامات پر کسی کو بھی چھونے سے اجتناب کریں کیونکہ کوئی بھی اس وائرس کا حامل ہو سکتا ہے 
  • پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر سے گریز کریں
  • موٹر سائیکل پر سفر کے دوران ہیلمٹ کا استعمال کریں
  • ہوٹلوں پر ادھ پکا کھانا کھانے سے اجتناب کریں
  • ہاتھوں کو دھوئے بغیر اُن سے اپنی آنکھ، ناک یا منہ کے چھونے سے گریز کریں

ملک میں بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے ماسک مارکیٹ سے غائب ہو گئے ہیں۔ کچھ علاقوں میں دوا خانوں پر ماسک بہت مہنگی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مارکیٹ میں ایسے حفاظتی سامان کی مناسب قیمت پر دستیابی ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ لوگوں کو کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس خطرناک وائرس کی وباء بہت شدید ہے اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ہمیں اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی یہ حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 

ہماری طرف سے اتنا ہی۔ سفر کے دوران مزید احتیاط کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے