حکومت نے پٹرولیم لیوی میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ کر دیا

3 693

موجودہ مالی سال میں ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے پٹرولیم لیوی میں 106 فیصد کا اضافہ کر دیا ہے جو جون 2020ء تک متوقع طور پر 40 ارب روپے کی آمدنی دے گی۔ تفصیلات کے مطابق تیل کی عالمی قیمتوں میں پچھلے مہینے بڑی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) نے فائنانس ڈویژن کو ایک سمری بھیجی تھی کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اسی حساب سے کمی لائے۔ 

وزارتِ خزانہ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کی کمی کی اور نئی قیمتیں یکم مارچ 2020ء سے لاگو ہوئیں۔ 

اسی دوران حکومت نے تیل کی قیمتوں میں آنےو الی عالمی کمی کا فائدہ واٹھاتے ہوئے پٹرولیم لیویز بڑھا کر ریونیو کا سالانہ ہدف پورا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر حکومت نے پٹرولیم لیوی کی پرانی قیمت 18 روپے فی لیٹر میں 7.03 روپے کا اضافہ کر دیا۔ HSD پر لیوی کی نئی شرح 25.05 روپے فی لیٹر ہے جس سے ماہانہ اضافی 4.6 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے۔ 

اس سے پہلے اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 12 روپے فی لیٹر یعنی 9.5 فیصد کی کمی تجویز کی تھی لیکن حکومت نے اسے 5 روپے فی لیٹر ہی کم کیا جو 3.9 فیصد بنتا ہے۔ اگر حکومت HSD پر اوگرا کی تجاویز کے مطابق کمی کرتی تو یکم مارچ سے اس کی قیمت 122.25 روپے کے بجائے 115.2 روپے فی لیٹر ہوتی۔

اسی طرح پٹرول پر لیوی کی قیمت بھی 4.75 روپے سے بڑھا کر 19.75 روپے فی لیٹر کردی گئی۔ نتیجتاً حکومت کو ٹیکس میں 32 فیصد اضافے کے ساتھ ماہانہ 3.6 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ پٹرول کے لیے اتھارٹی نے 9.76 روپے فی لیٹر یعنی 8.4 فیصد کمی تجویز کی تھی لیکن حکومت کی جانب سے صرف 5 روپے فی لیٹر یعنی 4.29 فیصد کی کمی کی منظوری دی گئی۔ کم ہونے کی قیمت 111.60 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جو 106.84 روپے ہوتی اگر حکومت نے پٹرولیم لیویز میں اضافہ کرکے اپنے ریونیو کو بڑھانے کا کام نہ کیا ہوتا۔

اسی طرح، مٹی کے تیل کی قیمت بھی 13.33 روپے فی لیٹر کم ہوتی لیکن اس میں صرف 7 روپے کی کمی کی گئی۔ لائٹ ڈیزل آئل (LDO) پر لیوی 3 روپے کی پرانی قیمت میں 65 فیصد اضافہ کرکے 4.94 روپے فی لیٹر تک بڑھا گئی۔ اس اضافے سے حکموت کو ماہانہ 30 ملین روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ 

ٹیکس میں اتار چڑھاؤ: 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 19.35 فیصد تک گر گئی ہیں جبکہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد کی ہی کمی کی ہے۔ حکومت کو 480 ارب روپے کے ریونیو خسارے کا سامنا ہے جسے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے باقی چار مہینوں میں ختم کرنا ناممکن ہے۔

لیکن یہ قدم اٹھا کر حکومت ہر مہینے 10 ارب روپے حاصل کر سکتی ہے جس کا مطلب ہے کہ جون 2020ء تک اسے 40 ارب روپے ملیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر 17 فیصد کا جنرل سیلز ٹیکس (GST) لے رہی ہے۔ 

جنوری 2019ء تک یہ شرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے 13 فیصد اور پٹرو ل پر 8 فیصد جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل پر بالترتیب 2 اور 0.5 فیصد تھی۔ ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود حکومت مالی سال ‏2019-20ء‎ کی پہلی ششماہی کے دوران تیل و گیس کی مصنوعات پر 44 فیصد زیادہ ریونیو حاصل کر چکی ہے۔ مقامی سطح پر پیداوار کو بھی 10 فیصد کمی کا سامنا ہے جبکہ درآمدات میں 20 فیصد کی بڑی کمی آئی ہے۔ 

پٹرولیم مصنوعات قومی خزانے کو ریونیو کا بہت بڑا حصہ دیتی ہے کیونکہ ان کی کھپت اب بھی بڑھ رہی ہے خاص طور پر پٹرول اور ڈیزل کی۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ کھپت اس وقت بالترتیب 7,50,000 اور 6,00,000 ٹن ہے۔

عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کے باوجود پٹرولیم لیویز میں اضافے پر آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا حکومت کو اپنے ریونیو میں اضافے کے بجائے مستقبل میں عالمی سطح پر گھٹتی ہوئی قیمتوں کا فائدہ صارفین تک پہنچانا چاہیے؟ ہمیں نیچے تبصروں میں ضرور بتائیں اور مزید جاننے کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔ 

Google App Store App Store
تبصرے