گاڑیوں کی درآمد پر پابندی سے ایف بی آر کو 22 ارب روپے کے ریونیو کا نقصان

1 819

حکومت کی جانب سے ملک میں گاڑیوں کی درآمد پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو مالی سال ‏2019-20ء‎ کے ابتدائی سات مہینوں میں ٹیکس سے ہونے والے ریونیو کی مد میں 22 ارب روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ 

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے درآمد شدہ گاڑیوں کی وجہ سے ریونیو میں آنے والی بڑی کمی کی متعدد وجوہات بیان کی ہیں۔ حکومت نے گاڑیوں کی درآمد پر مختلف پابندیاں عائد کیں اور اپنی پالیسی کو تبدیل کیا کہ جس نے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے دوران ریونیو حاصل کرنے کے معاملے میں FBR کو نقصان پہنچایا۔ 

جولائی سے جنوری ‏2019-20ء‎ کے عرصے میں گاڑیوں کی درآمد میں تیزی سے کمی آئی کہ جس کا نتیجہ ریونیو کی کمی کی صورت میں نکلا۔ حکومت صرف تین شرائط پر ہی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیتی ہے گفٹ اسکیم، لگیج یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹیوں کی شرائط بھی لاگو کی گئیں اور یہ بھی ترسیلِ زر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اکاؤنٹ سے ہونی چاہیے۔ 

ملک میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے جس کا نتیجہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی ریونیو کلیکشن میں مزید کمی کی صورت میں نکلا ہے۔ پچھلے سال کے مقابلے میں آٹو سیکٹر نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کی مد میں بالترتیب 39 فیصد اور 28 فیصد کمی ظاہر کی ہے۔ 

بورڈ کو جولائی سے جنوری کے دوران بجٹ کے متعلق 40 ارب روپے کے خسارے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ریونیو میں کمی کے دیگر عوامل میں مالی سودوں کو دستاویزی صورت دینے کی قبولیت میں کمی بھی شامل ہے۔ 

حکومت نے خام مال اور درمیانی مصنوعات کے لیے پاکستان کسٹمز ٹیرف میں نیا 0 فیصد کسٹمز سلیب بھی متعارف کروایا ہے۔ اس وجہ سے ریونیو میں اس عرصے کے دوران تقریباً 8.4 ارب ڈالرز کی کمی آئی ہے۔

دوسری جانب عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے باوجود صارفین کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا کیونکہ حکومت نے ریونیو میں آنے والی کمی کی وجہ سے پٹرولیم لیوی کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ درآمد شدہ جاپانی گاڑیاں بھی بہت مہنگی ہو چکی ہیں کیونکہ حکومت نے متعدد ایڈیشنل ٹیکس اور ڈیوٹیاں بھی لگآئی ہیں۔ نتیجتاً صارفین کے پاس گھٹیا معیار کی مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں کے انتخاب کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور آٹوموبائل انڈسٹری کی مزید خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store
تبصرے