چین میں سیلف ڈرائیونگ ٹیکسی سروس کا آغاز

0 4 470

آپ کو بغیر ڈرائیور کی گاڑی میں سفر کرنا کیسا لگے گا؟ بہت سے لوگ اسے مذاق سمجھتے ہوں گے وہ بھی ایسا جس پر ہنسی بھی نہیں آتی۔ لیکن کچھ ایسے مہم جُو قسم کے لوگ بھی ہیں جو سیلف ڈرائیونگ کار میں سفر کو دلچسپ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مستقبل اسی کا ہے۔ چین میں ٹیکنالوجی کے بڑے ادارے بیڈو (جی ہاں، وہی سرچ انجن کمپنی) ان یقین رکھنے والوں میں سے ایک ہے۔ کمپنی نے بیجنگ میں باضابطہ طور پر ایک سیلف ڈرائیونگ ٹیکسی سروس لانچ کی ہے۔ جس کی تفصیلات یہ ہیں۔

چین نے ایک ٹیکسی سروس کے ساتھ ڈرائیور لیس گاڑیوں کے دور کا آغاز کیا ہے۔ وہ اسے اپالو روبو ٹیکسی کہہ رہے ہیں کیونکہ اس میں کوئی انسانی ڈرائیور نہیں ہے؛ اس کے بجائے ایک روبوٹ بیٹھا ہوا ہے۔

بیجنگ میں اپالو گو روبو ٹیکسی

3 مربع کلومیٹرز کے علاقے میں چلنے والی تقریباً 10 اپالو روبو ٹیکسیاں مغربی بیجنگ کے شوگانگ پارک میں آٹھ اسٹاپس پر مسافروں کو اتارتی اور بٹھاتی ہیں۔ ہر سفر کی لاگت 4.6 ڈالرز (30 یوآن) ہے۔

مسافر اپالو گو ایپ کے ذریعے روبو ٹیکسی کو بلا سکتے ہیں۔ جب ٹیکسی پہنچتی ہے تو مسافر اپنی شناخت کی تصدیق کرتا ہے اور ایک داخل ہونے سے پہلے ایک ہیلتھ کوڈ اسکین کرتا ہے۔ جب مسافر نشست پر بیٹھ کر اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیتا ہے تو گاڑی چلنا شروع ہوتی ہے۔ مسافروں کے لیے 18 سے 60 سال کی عمر کی حد بھی ہے۔

گو کہ گاڑی میں کوئی ڈرائیور نہیں ہے لیکن اگلی نشست پر ایک سیفٹی ممبر موجود ہوتا ہے۔ روبو ٹیکسیوں کی کمپنی کی جانب سے ریموٹلی نگرانی کی جاتی ہے، تاکہ ہنگامی صورت میں بروقت سپورٹ فراہم کی جا سکے۔

عوامی رائے

اپالو گو روبو ٹیکسی سروس چین کے تین شہروں میں 2,10,000 سے زیادہ مسافروں کو منزل پر پہنچا چکی ہے، اور اس حوالے سے رائے ملتی جلتی ہے۔ کچھ لوگوں نے نئی ٹیکنالوجی کو سراہا ہے اور ایک دلچسپ تجربے کے لیے دوسروں کو یہ سروس تجویز بھی کی ہے۔ لیکن دیگر افراد نے سڑک پر اچانک کوئی ہنگامی صورت پیدا ہونے پر روبوٹ کی ان حالات سے نمٹنے کی صلاحیت پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔

مجموعی طور پر چین میں سیلف ڈرائیونگ ٹیکسی ٹیکنالوجی کامیاب ہے۔ بیڈو کا ہدف اسے اگلے تین سالوں میں 30 شہروں تک توسیع دینا ہے۔ شاباش بیڈو!

مزید انٹرنیشنل آٹو نیوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.