آلٹو اور ویگن آر سے بہتر؟ Kia Picanto کا تفصیلی جائزہ۔

698

سال 2019 میں اپنی لانچنگ کے بعد سے Kia Picanto کا پاکستانی مارکیٹ میں سفر کافی دلچسپ رہا ہے۔ اسے ایک پریمیم ہیچ بیک کے طور پر متعارف کروایا گیا تھا تاکہ مقامی مارکیٹ میں ہلچل مچائی جا سکے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس گاڑی کے بارے میں ایک منفی تاثر مشہور ہو گیا: “گاڑی کی بلڈ کوالٹی تو شاندار ہے، لیکن یہ پٹرول بہت زیادہ پیتی ہے۔” اسی شہرت کی وجہ سے یہ گاڑی سوزوکی کی طرح مارکیٹ پر مکمل قبضہ نہ جما سکی۔

لیکن کیا یہ تاثر واقعی سچ ہے؟ آج ہم آپ کے لیے ایک تفصیلی اونر ریویو لے کر آئے ہیں جس میں ہمارے ساتھ موجود ہیں آغراز احمد۔ آغراز نے روایتی آٹومیٹک گاڑیوں کے بجائے ایک منفرد راستہ چنا اور “میجڈ بائی پاک ویلز” پروگرام کے ذریعے 2021 Kia Picanto Manual خریدی۔

آئیے جانتے ہیں ان کا گاڑی خریدنے کا تجربہ کیسا رہا، یہ گاڑی اپنے مدمقابل سوزوکی گاڑیوں کے سامنے کہاں کھڑی ہوتی ہے، اور اس کے پٹرول کی کھپت کی اصل حقیقت کیا ہے۔

گاڑی خریدنے کا سفر: ایک ایکسیڈنٹڈ ہنڈا سٹی سے پیکانٹو تک

آغراز نے 15 لاکھ روپے کے سخت بجٹ کے ساتھ گاڑی کی تلاش شروع کی تھی۔ ان کی پہلی پسند ایک یوزڈ (Used) ہنڈا سٹی (جسے پاکستان میں پیار سے ‘چوہا سٹی’ کہا جاتا ہے) تھی۔ یہ ایک منطقی فیصلہ تھا: بہترین ڈگی (بُوٹ اسپیس)، اچھا فیول ایوریج اور سستے اسپیئر پارٹس۔

تاہم، اوپن مارکیٹ میں صاف گاڑی ڈھونڈنا ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوا:

“مارکیٹ میں جو بھی ہنڈا سٹی صاف حالت میں تھی، اس کی قیمت بہت زیادہ تھی، اور جو بجٹ میں تھیں وہ بری طرح استعمال شدہ تھیں۔ میں نے پاک ویلز سے دو گاڑیوں کی انسپیکشن کروائی۔ ایک گاڑی میں انسپکٹر نے فوری طور پر بڑے مکینیکل مسائل کی نشاندہی کی، جبکہ دوسری گاڑی کی چھت پوری پینٹ تھی! انسپکٹر نے مجھے خبردار کیا کہ یہ گاڑی آگے چل کر سر درد بنے گی اور اس کی ری سیل بھی نہیں ہوگی۔ اسی وقت پاک ویلز کے انسپکٹر نے مجھے ہنڈا سٹی چھوڑ کر Kia Picanto دیکھنے کا مشورہ دیا۔”

اگرچہ پیکانٹو پہلے ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی، لیکن شوروم پر صرف ایک ٹیسٹ ڈرائیو نے انہیں اس گاڑی کے آرام کا دیوانہ بنا دیا۔

ہیچ بیکس کا مقابلہ: Alto بمقابلہ Wagon R بمقابلہ Cultus

پیکانٹو خریدنے سے پہلے آغراز پاکستان میں دستیاب تقریباً تمام مشہور ہیچ بیکس چلانے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ ان گاڑیوں کے بارے میں ان کا بے باک تجزیہ کچھ یوں ہے:

  • سوزوکی آلٹو (Alto AGS): آغراز کے پاس 2022 کی آلٹو اے جی ایس تھی جسے انہوں نے 13,000 کلومیٹر چلایا۔

    • اچھی بات: بائیک جیسا شاندار فیول ایوریج۔ “شروع کے دنوں میں مجھے لگا گاڑی کا فیول گیج خراب ہے کیونکہ پٹرول ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا!”

    • بری بات: اس کا بدنامِ زمانہ اے جی ایس (AGS) جھٹکا۔ گیئر شفٹ ہوتے وقت لگنے والے جھٹکے ڈرائیونگ کا پورا مزہ کرکرا کر دیتے ہیں۔

  • سوزوکی ویگن آر (Wagon R): انہوں نے کثرت سے ویگن آر چلائی ہے لیکن ہائی وے کا تجربہ اچھا نہیں رہا۔

    • بڑا نقص: گاڑی میں شدید باڈی رول ہے اور تیز رفتاری میں یہ بالکل اسٹیبل نہیں رہتی۔ “جب میں کینال روڈ یا جی ٹی روڈ پر اپنے گاؤں دیپالپور جا رہا ہوتا تھا، تو پاس سے کوئی تیز رفتار بس گزرنے پر گاڑی اس طرح ہلتی تھی کہ خوف آنے لگتا تھا۔” مزید برآں، اس کا انٹیریئر بہت بنیادی (بیسک) ہے۔

  • سوزوکی کلٹس اور سوئفٹ: کلٹس انہیں پسند تھی لیکن 15 لاکھ کے بجٹ میں صاف یونٹ ملنا ناممکن تھا۔ پرانی سوزوکی سوئفٹ ایک تفریحی ڈرائیو تو دیتی ہے، لیکن اس کا پٹرول کا خرچہ بہت زیادہ ہے۔

بیرونی ڈیزائن

پیکانٹو کا ڈیزائن ماڈرن اور یورپی ہیچ بیک جیسا ہے۔ اس کی سائیڈ پروفائل بہت کلین اور پریمیم لک دیتی ہے، جبکہ اس کی بڑی ہیلوجن ہیڈلائٹس اور دستخطی ‘ٹائیگر نوز’ گرل اس کے چھوٹے سائز کے حساب سے تھوڑی بڑی محسوس ہوتی ہیں۔

ڈی آر ایل (DRL) کا مسئلہ: پیکانٹو میں ایک مینوفیکچرنگ نقص ہے جس کی وجہ سے اس کی بڑی ڈے ٹائم رننگ لائٹس (DRLs) اکثر ایک یا دونوں سائیڈ سے خراب ہو جاتی ہیں۔ اس کا حل آغراز نے یہ نکالا کہ ایک لوکل الیکٹریشن سے اس کا کنکشن فوگ لیمپ کے سوئچ کے ساتھ کروا دیا، تاکہ وہ صرف ضرورت کے وقت مینولی آن کی جا سکیں۔

انٹیریئر، آرام اور خفیہ فیچرز

سوزوکی کی سادہ گاڑیوں کے کیبن سے نکل کر جیسے ہی آپ پیکانٹو کے اندر بیٹھتے ہیں، تو یہ ایک عیش و آرام (لگژری) اپ گریڈ محسوس ہوتی ہے۔

  • پریمیم آرام دہ سفر: آغراز نے یہ گاڑی کراچی سے خریدی تھی اور وہ خود اسے چلا کر لاہور لائے۔ اتنے طویل سفر کے باوجود انہوں نے تھکن محسوس نہیں کی۔ اس کی فیبرک سیٹس بہترین سپورٹ فراہم کرتی ہیں، جو آلٹو کے مقابلے میں دن رات کا فرق ہے۔

  • چھوٹے مگر اہم فیچرز: اس گاڑی میں کچھ ایسے پریمیم فیچرز دیے گئے ہیں جو اس کیٹیگری کی دوسری گاڑیوں میں غائب ہیں:

    • لائٹس والے بٹن: رات کے وقت ڈیش بورڈ کے تمام بٹنز میں لائٹس آن ہو جاتی ہیں۔

    • گلو باکس لائٹ: ڈیش بورڈ کے باکس کے اندر ایک چھوٹی لائٹ دی گئی ہے۔

    • فٹ ویل لائٹس: گاڑی کے فرش پر پاؤں والی جگہ پر ایمبیئنٹ لائٹس لگی ہوئی ہیں۔

    • ڈیگی کی لائٹ: رات کو سامان نکالنے کے لیے پچھلی ڈگی میں بھی لائٹ موجود ہے۔

خصوصیات اور پٹرول کی اصل حقیقت

یہاں ہم اس گاڑی سے جڑے سب سے بڑے جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ آٹومیٹک پیکانٹو پٹرول زیادہ کھاتی ہے، لیکن مینول ٹرانسمیشن  نے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر دیا ہے۔

گاڑی کی خصوصیات تفصیلات
انجن 1.0L MPI 3-سلنڈر
گیئر باکس 5-اسپیڈ مینول
پاک ویلز انسپیکشن اسکور 8.9 / 10
ہائی وے فیول ایوریج 18 کلومیٹر فی لیٹر (کراچی سے لاہور موٹر وے پر)

اسٹیئرنگ کے بارے میں اہم وارننگ: آغراز نے بتایا کہ تیز رفتاری میں بھی اس کا الیکٹرانک پاور اسٹیئرنگ (EPS) انتہائی نرم رہتا ہے۔ دوسری گاڑیوں کی طرح یہ تیز رفتاری میں سخت نہیں ہوتا، اس لیے ہائی وے پر تیز چلاتے وقت اسٹیئرنگ پر گرفت مضبوط رکھنا لازمی ہے۔

مینٹیننس: ڈیلرشپ کے نخرے بمقابلہ لوکل مارکیٹ

کیا کی گاڑی کی مینٹیننس سوزوکی جتنی سستی تو نہیں ہے، لیکن اگر آپ سمجھداری سے کام لیں تو یہ زیادہ مہنگی بھی نہیں پڑتی۔

  • روٹین آئل چینج: آغراز اس میں برانڈڈ Total 5W-30 سنتھیٹک انجن آئل استعمال کرتے ہیں۔ آئل اور تمام فلٹرز کی تبدیلی پر تقریباً 13,000 روپے کا خرچہ آتا ہے، جس کے بعد گاڑی 5,000 کلومیٹر آرام سے چلتی ہے۔

  • ڈیلرشپ کا جھٹکا بمقابلہ دیسی جگاڑ: جب گاڑی کا ماسٹر پاور ونڈو سوئچ پینل مٹی جانے کی وجہ سے خراب ہوا، تو آفیشل کیا (Kia) ڈیلرشپ نے پورا پینل بدلنے کے لیے 18,000 روپے کا کوٹیشن دیا اور کہا کہ پارٹس آرڈر پر آئیں گے۔ آغراز نے ڈیلرشپ جانے کے بجائے ایک ماہر مقامی الیکٹریشن کو دکھایا، جس نے سوئچ کھول کر صرف مٹی صاف کی اور محض 300 روپے میں اسے بالکل نیا جیسا چالو کر دیا!

  • یوزڈ پارٹس (بلال گنج، لاہور): اگر کوئی پارٹ ٹوٹ جائے تو بلال گنج سے سستے داموں مل جاتا ہے:

    • پچھلی لائٹ: 7,000 روپے

    • اگلی ہیڈلائٹ اسمبلی: 9,000 روپے

چھوٹی موٹی خامیاں

کوئی بھی گاڑی 100 فیصد پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ آغراز کے مطابق اس گاڑی میں دو چیزیں بہتر ہو سکتی تھیں:

  1. وینٹی مرر غائب ہے: گاڑی کے سن وائزر (دھوپ سے بچانے والے پیڈ) میں کوئی شیشہ نہیں دیا گیا۔

  2. ریڈ میٹر کلسٹر: اس کے اسپیڈو میٹر کی لائٹ اورنج/سرخ رنگ کی ہے جو جدید گاڑیوں کی سفید لائٹ کے مقابلے میں تھوڑی پرانی محسوس ہوتی ہے۔

فائنل فیصلہ

اگر آپ ایک بہترین بلڈ کوالٹی، مضبوط روڈ گرپ اور پریمیم انٹیریئر والی ہیچ بیک تلاش کر رہے ہیں، تو Kia Picanto کا مینول ورژن ایک بہترین اور پیسہ وصول آپشن ہے۔ یہ آپ کو سوزوکی سے کہیں بہتر کوالٹی فراہم کرتی ہے اور آٹومیٹک ویرینٹ کے برعکس پٹرول بھی انتہائی کم کھاتی ہے۔

پاک ویلز ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، تصدیق شدہ انسپکشن رپورٹ کے ساتھ اپنی پسندیدہ گاڑی خریدیں یا بیچیں، اور فراڈ سے محفوظ رہیں۔

گاڑیوں کے ریویوز، قیمتوں اور پاکستان آٹو انڈسٹری کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیےگوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel