اٹلس ہونڈا کا پاکستان میں 250cc اور 500cc بائیکس متعارف کروانے پر غور

1,161

پاکستان میں ہیوی بائیکس اور زیادہ طاقتور انجن والی موٹر سائیکلوں کے شوقین افراد کے لیے ایک شاندار خبر سامنے آئی ہے۔ ٹاپ لائن سیکورٹیز کی جانب سے جاری کردہ ایک کارپوریٹ بریفنگ نوٹ کے مطابق، اگر مارکیٹ میں بڑی بائیکس کی مانگ میں اسی طرح اضافہ ہوتا رہا، تو اٹلس ہونڈا پاکستان میں 250cc اور 500cc موٹر سائیکلیں متعارف کروانے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ اہم معلومات اٹلس ہونڈا کے سی ای او (CEO) ثاقب شیرازی اور ان کی مینجمنٹ ٹیم کے ساتھ ہونے والے ایک اجلاس کے بعد سامنے آئی ہیں، جس میں کمپنی کی سیلز، پروڈکشن، مارکیٹ کی ڈیمانڈ اور مستقبل کے پلانز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

خریداروں کا رجحان اب 70cc سے بڑی بائیکس کی طرف منتقل

اٹلس ہونڈا اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی موٹر سائیکل بنانے والی کمپنی ہے، لیکن اب خریداروں کا رجحان بدل رہا ہے:

  • بریفنگ کے مطابق، ہونڈا کی کل سیلز میں اب روایتی 70cc بائیکس کا حصہ کم ہو کر 50 سے 55 فیصد رہ گیا ہے۔

  • دوسری طرف، 100cc سے بڑی بائیکس (جیسے ہونڈا 125 اور 150) کی فروخت بڑھ کر 40 سے 45 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

کمپنی کے لیے یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کیونکہ بڑی بائیکس میں منافع کا مارجن زیادہ ہوتا ہے۔ مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے زرمبادلہ نے بھی بڑی بائیکس کی ڈیمانڈ بڑھانے میں مدد کی ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ہونڈا 250cc اور 500cc کے ماڈلز پر کام شروع کرے گا، تاہم ابھی تک کسی فائنل لانچنگ ڈیٹ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پیداواری صلاحیت میں بڑا اضافہ (دسمبر 2026 تک ہدف)

کمپنی کو توقع ہے کہ آنے والے مالی سال (MY27) میں بائیکس کی فروخت میں ڈبل ڈیجٹ (بہت بڑا) اضافہ ہوگا۔ اٹلس ہونڈا اس وقت سالانہ 16.5 لاکھ بائیکس بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے (یعنی تقریباً 137,500 بائیکس ماہانہ)۔ گزشتہ مئی میں کمپنی نے اوور ٹائم لگا کر ریکارڈ 163,000 بائیکس تیار کیں۔

اب کمپنی 5 سے 6 ارب روپے کی بھاری سرمایہ کاری سے اپنی سالانہ پیداواری صلاحیت کو 20 لاکھ (2 ملین) بائیکس تک بڑھا رہی ہے۔ یہ توسیعی منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔

الیکٹرک بائیکس (EVs) کے لیے الگ سے کوئی نیا پلان نہیں

آج کل الیکٹرک بائیکس کا چرچا تو بہت ہے، لیکن اٹلس ہونڈا کا ماننا ہے کہ ابھی الیکٹرک بائیکس کے لیے الگ سے فیکٹری بڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق، پٹرول بائیکس ہی مارکیٹ پر راج کر رہی ہیں اور ان کا موجودہ سیٹ اپ ہی موجودہ الیکٹرک بائیکس کی ڈیمانڈ پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔

پاکستان میں پٹرول بائیکس کے حاوی رہنے کی بڑی وجہ ان کی کم قیمت، لانگ روٹ پر چلنے کی صلاحیت، آسان مرمت اور بہترین ری سیل ویلیو ہے۔

چائنیز بائیکس کی مارکیٹ ڈاؤن، دیہی خریدار اب بھی اہم

بریفنگ میں بتایا گیا کہ مقامی چائنیز موٹر سائیکل برانڈز کی سیلز میں شدید کمی آئی ہے۔ چائنیز بائیکس کی فروخت جو کبھی 12 لاکھ سالانہ تک پہنچ گئی تھی، اب گر کر صرف 4 لاکھ رہ گئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی کل موٹر سائیکل مارکیٹ تقریباً 23 لاکھ یونٹس پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ، ہونڈا کے 60 فیصد خریداروں کا تعلق دیہی اور زرعی شعبے سے ہے۔ اگر فصلوں کی قیمتیں اچھی ملیں تو دیہاتوں میں بائیکس کی فروخت مزید تیز ہو جائے گی۔ کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹیکسز کے علاوہ انہوں نے گزشتہ تین سالوں سے بائیکس کی قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں کیا، تاکہ خریداروں پر بوجھ نہ پڑے۔

پاکستان میں نئی ہونڈا بائیکس، قیمتوں اور آٹو انڈسٹری کی ہر فوری اپ ڈیٹ کے لیے گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel