بابوسر ٹاپ جانے والوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری!
بابوسر ٹاپ کی سیر کا ارادہ رکھنے والے سیاحوں کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں، کیونکہ علاقے میں ہونے والی حالیہ تازہ برف باری اور موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال کی وجہ سے پہاڑی راستوں پر سفر انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، برف باری کے باعث بابوسر ٹاپ روڈ پر ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور سڑک کے کچھ حصوں پر اس وقت صرف ایک طرفہ ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ حکام نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنا سفر شروع کرنے سے پہلے موسم اور راستوں کی تازہ ترین صورتحال لازمی چیک کریں۔
راستوں کی صورتحال: چیلنجز برقرار ہیں
بابوسر ٹاپ پاکستان کا مقبول ترین سیاحتی روڈ ہے جو وادی کاغان کو گلگت بلتستان سے جوڑتا ہے۔ یہ شاہراہ سردیوں کی طویل بندش کے بعد حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولی گئی ہے۔ تاہم، سیزن کے آغاز میں یہاں سفر کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کیونکہ سڑک کے اطراف موجود بڑے گلیشیئرز اور جمی ہوئی برف ابھی پوری طرح پگھلی نہیں ہے۔
ٹریفک حکام نے وارننگ دی ہے کہ شام 6 بجے کے بعد اس روڈ پر سفر کرنا شدید خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ درجہ حرارت گرنے سے سڑک پر پھسلن بڑھ جاتی ہے اور دھند کے باعث سامنے کا نظارہ انتہائی کم ہو جاتا ہے۔
ڈرائیورز کو درج ذیل خطرات سے ہوشیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے:
-
سڑک پر جمی ہوئی پوشیدہ برف جس سے گاڑی بے قابو ہو سکتی ہے۔
-
پہاڑوں سے اچانک پتھر گرنے کا خطرہ۔
-
گلیشیئرز کا سڑک کی طرف سرکنا۔
-
لینڈ سلائیڈنگ کے ممکنہ خطرات۔
-
شدید چڑھائی اور اترائی کے باعث بریک فیل ہونے کا ڈر۔
ڈرائیورز کے لیے اضافی احتیاط کیوں ضروری ہے؟
پہاڑی راستوں پر ڈرائیونگ کرنا عام ہائی ویز یا شہر کی سڑکوں پر گاڑی چلانے سے بالکل مختلف ہوتا ہے، خاص طور پر بابوسر ٹاپ جیسے اونچے مقام پر جہاں چند منٹوں میں موسم بادلوں سے برف باری میں بدل جاتا ہے۔
اپنی گاڑی (کار یا ایس یو وی) پر جانے والے سیاح علاقے میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی کا مکمل معائنہ لازمی کروائیں۔ پہاڑی اترائیوں اور چڑھائیوں پر گاڑی کے بریکس کی حالت، ٹائروں کی گرپ، کولنٹ کا لیول اور انجن کی پرفارمنس سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
بریک استعمال کرنے کی اہم ٹپ: لمبی اترائیوں پر گاڑی چلاتے وقت مسلسل بریک دبانے سے گریز کریں، کیونکہ بریک پیڈز گرم ہو کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بجائے گاڑی کو چھوٹے گیئر میں رکھیں تاکہ انجن بریکنگ کے ذریعے گاڑی کی رفتار کنٹرول میں رہے اور بریکس پر بوجھ نہ پڑے۔
سفر پر نکلنے سے پہلے اہم حفاظتی تدابیر
اگر آپ کا بابوسر ٹاپ جانے کا پروگرام پکا ہے، تو ان باتوں پر لازمی عمل کریں:
-
سورج ڈوبنے (شام 6 بجے) کے بعد پہاڑی راستوں پر سفر ہرگز نہ کریں۔
-
گھر سے نکلنے سے پہلے محکمہ موسمیات کی تازہ ترین رپورٹ دیکھیں۔
-
گاڑی میں گرم کپڑے، ضروری ادویات اور ہنگامی خوراک لازمی رکھیں۔
-
دور دراز پہاڑی علاقوں میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی کا فیول ٹینک فل کروا لیں۔
-
لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والی جگہوں کے نیچے گاڑی ہرگز نہ روکیں۔
-
مقامی انتظامیہ اور ہائی وے ٹریفک پولیس کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
شمالی پاکستان میں سیاحت کا سیزن شروع ہوتے ہی لاکھوں لوگ پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ سڑک کا کھل جانا ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ وہاں سفر کرنا بھی محفوظ ہے۔ اونچے پہاڑی مقامات پر موسم سیکنڈوں میں بدل سکتا ہے، اس لیے احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
پاکستان کے تمام سیاحتی راستوں کی لائیو صورتحال اور آٹو مارکیٹ کی خبروں کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.