بجٹ 2026-27: کیا الیکٹرک بائیکس پر 18% ٹیکس لگنے والا ہے؟
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا رجحان اب صرف مہنگی اور پرتعیش ای-وی کاروں تک محدود نہیں رہا۔ اصل اور عملی تبدیلی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں (موٹرسائیکلوں اور رکشوں) میں آ رہی ہے، جہاں طلبہ، دفتری ملازمین، ڈیلیوری رائیڈرز اور رکشہ ڈرائیور پٹرول کے مہنگے اخراجات سے بچنے کے لیے سستا متبادل ڈھونڈ رہے ہیں۔ ان صارفین کے لیے ای-بائیک کوئی عیاشی یا لائف اسٹائل پروڈکٹ نہیں، بلکہ پٹرول کی قیمتوں سے نمٹنے کے لیے ایک مجبوری اور معاشی فیصلہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آئندہ بجٹ 2026-27 انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر جی ایس ٹی (GST) میں مجوزہ اضافے کی وجہ سے الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کی قیمتیں بڑھ گئیں، تو خریدار الیکٹرک پر شفٹ ہونے کا فیصلہ مؤخر کر دیں گے اور پٹرول بائیکس ہی چلاتے رہیں گے۔ اس فیصلے سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ حکومت اسی سیکٹر پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا دے گی جہاں الیکٹرک ٹیکنالوجی کو اپنانا سب سے آسان، سستا اور تیز ترین ہے۔
ٹیکس کا بڑا خطرہ: 1% سے بڑھ کر 18% جی ایس ٹی؟
پاکستان کی ای-وی پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو ہمیشہ ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ابتدائی قیمت بیٹریوں، موٹرز اور امپورٹڈ پرزوں کی وجہ سے پہلے ہی کافی زیادہ ہوتی ہے، اور کم ٹیکسز کی بدولت یہ خریداروں کی پہنچ میں رہتی ہیں۔
یہ سپورٹ الیکٹرک ٹو-وہیلرز (بائیکس) کے لیے اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ ایک عام ای-بائیک جو اس وقت تقریباً 250,000 روپے کی ہے، مڈل کلاس خریدار کے لیے پہلے ہی مہنگی ہے۔ اب اگر جی ایس ٹی کو رعایتی شرح سے بڑھا کر معیاری 18 فیصد کر دیا گیا، تو قیمتوں پر انتہائی برا اثر پڑے گا۔
اس ممکنہ اضافے کا اندازہ آپ نیچے دیے گئے حساب سے لگا سکتے ہیں:
| تفصیلات | متوقع رقم (روپوں میں) |
| ای-بائیک کی موجودہ اوسط قیمت | 250,000 روپے |
| جی ایس ٹی کی شرح میں ممکنہ اضافہ | تقریباً 17 فیصد پوائنٹس |
| قیمت پر پڑنے والا اندازاً اثر | تقریباً 42,000 روپے |
| ٹیکس کے بعد نئی ممکنہ قیمت | تقریباً 292,000 روپے |
ایک امیر کار خریدار کے لیے جو کروڑوں روپے کی گاڑی لے رہا ہے، ٹیکس بڑھنے سے خریداری میں صرف چند دن کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ لیکن ایک عام مزدور یا ملازم جو بڑی مشکل سے 250,000 روپے جمع کر کے ای-بائیک خریدنے کا سوچ رہا ہے، اس کے لیے اضافی 42,000 روپے کا مطلب خریداری کا ارادہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دینا ہے۔
مڈل کلاس بجٹ پر براہِ راست وار
ہر طرح کی الیکٹرک گاڑی پر ایک جیسا فلیٹ ٹیکس لگانا سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ ایک پرتعیش ای-وی کار خریدنے والے اور ای-بائیک لینے والے کی آمدنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لگژری ای-وی ایک شوق یا سٹیٹس سمبل ہو سکتی ہے، لیکن ایک الیکٹرک موٹرسائیکل ورکنگ کلاس کے گھرانے کے لیے بقا کا ذریعہ ہے۔
| گاڑی کی قسم | اوسط قیمت | خریدار کون ہے؟ | ٹیکس (GST) بڑھنے کا اثر |
| پریمیم ای-وی کاریں | 1.5 کروڑ روپے یا زائد | امیر اور ہائی انکم کلاس | خریدار اس بوجھ کو برداشت کر لے گا یا خرید مؤخر کر دے گا |
| الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز | تقریباً 250,000 روپے سے شروع | طلبہ، دفتری ملازمین، ڈیلیوری رائیڈرز | ای-بائیک عام آدمی کی پہنچ سے بالکل باہر ہو جائے گی |
| الیکٹرک رکشے اور لوڈرز | کمرشل استعمال کی وجہ سے زیادہ لاگت | غریب رکشہ ڈرائیور اور دیہاڑی دار | روزگار کمانے اور سستی سواری کی سہولت کمزور ہو جائے گی |
یہی وجہ ہے کہ بجٹ 2026-27 میں تمام الیکٹرک گاڑیوں کو ایک ہی لاٹھی سے نہیں ہانکا جانا چاہیے۔ اگر حکومت امیروں کی امپورٹڈ گاڑیوں سے ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا چاہتی ہے تو وہ ایک الگ بحث ہے، لیکن اس کی زد میں ای-بائیکس کو لانا مارکیٹ کو تباہ کر دے گا۔
بجٹ 2026-27 کو کیا کرنا چاہیے؟
حکومت کو ایک متوازن اور درجے وار ٹیکس نظام اپنانا چاہیے۔ سستی الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کو ٹیکسوں سے بچا کر رکھنا چاہیے کیونکہ یہ عام عوام کی سواری اور روزگار کا ذریعہ ہیں۔
اس بجٹ میں حکومت کو ان 4 نکات پر کام کرنا چاہیے:
-
رعایتی ٹیکس برقرار رکھیں: ای-بائیکس اور الیکٹرک رکشوں پر جی ایس ٹی کو کم ترین سطح پر رکھا جائے۔
-
سبسڈی کا تحفظ: حکومت جو ڈسکاؤنٹ یا سبسڈیز دے رہی ہے، انہیں ہائی جی ایس ٹی لگا کر برابر یا ختم نہ کیا جائے۔
-
کوالٹی اور وارنٹی: انوینٹوز اور مراعات کو بیٹری کے معیار، وارنٹی اور آفٹر سیلز سروسز کے ساتھ مشروط کیا جائے۔
-
مقامی مینوفیکچرنگ: پاکستان کے اندر بیٹری، موٹر، کنٹرولر اور چارجر بنانے والی لوکل فیکٹریوں کو خصوصی رعایتیں دی جائیں۔
پاک ویلز کی رائے
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کا انقلاب کسی کروڑوں روپے کی لگژری الیکٹرک ایس یو وی (SUV) سے نہیں آئے گا۔ اس کا آغاز ایک بائیک رائیڈر، ایک طالب علم، ایک ڈیلیوری بوائے اور ایک رکشہ ڈرائیور سے ہوگا۔
مجوزہ 18% جی ایس ٹی کاغذ پر تو حکومت کا ریونیو بڑھانے کا ایک طریقہ نظر آتا ہے، لیکن ای-بائیک مارکیٹ کے لیے یہ ایک بڑا جھٹکا ثابت ہوگا جو لوگوں کو واپس پٹرول کی طرف دھکیل دے گا۔ اب سب کی نظریں بجٹ 2026-27 پر ہیں کہ آیا حکومت مڈل کلاس ٹو-وہیلر کمیونٹی کا ساتھ دیتی ہے یا الیکٹرک بائیکس کو مزید مہنگا بناتی ہے۔ سمجھداری اسی میں ہے کہ سستی ای ویز کی حفاظت کی جائے اس سے پہلے کہ وہ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں۔
بجٹ، ٹیکسز اور آٹو انڈسٹری کی لائیو اپڈیٹس کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔
تبصرے بند ہیں.