لاہور ہائی کورٹ نے نابالغ ڈرائیونگ اور ہٹ اینڈ رن روکنے کے لیے بھاری جرمانوں کو برقرار رکھا
لاہور ہائی کورٹ (LHC) نے پنجاب موٹر وہیکل (ترمیمی) آرڈیننس 2025 کو چیلنج کرنے والی ایک پٹیشن مسترد کر دی، جو ٹریفک خلاف ورزیوں پر زیادہ سخت جرمانے اور سزائیں عائد کرتا ہے۔
ایڈووکیٹ عاصف شاکر نے پہلے دلائل دیے تھے کہ یہ ترامیم نابالغ رائیڈرز کو بھاری جرمانوں اور فوجداری الزامات کا نشانہ بناتی ہیں، جبکہ عوامی تعلیم پر توجہ نہیں دی جا رہی۔
عدالت نے پٹیشن مسترد کر دی، اور چیف جسٹس عالیہ نیلم نے زور دیا کہ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین کو برقرار رکھنا لازم ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نابالغ ڈرائیورز سے متعلق تشویشناک روڈ سیفٹی کے اعدادوشمار کی طرف اشارہ کیا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ غلط سمت میں گاڑی چلانے کی وجہ سے تقریباً 5,000 بچے، جن میں سے اکثر نابالغ تھے، زخمی ہوئے یا ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے والدین کے چھوٹے بچوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت دینے کے عمل کی سخت مذمت کی اور اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
عدالت نے بڑھتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں، بالخصوص ہٹ اینڈ رن کیسز میں خطرناک اضافے کے خلاف روک تھام کے طور پر بھاری جرمانوں کو جائز قرار دیا۔
چیف جسٹس نے سخت سزاؤں کی حمایت میں دبئی جیسے شدید جرمانوں کی بین الاقوامی طرز عمل کا بھی حوالہ دیا۔
آخر کار، لاہور ہائی کورٹ نے پٹیشن کو “ناقابلِ سماعت” قرار دیتے ہوئے ترمیمی آرڈیننس کو برقرار رکھا۔
یہ فیصلہ حکومت کی سخت ٹریفک نفاذ کی پالیسی کو مضبوط کرتا ہے، جو روڈ سیفٹی کو ترجیح دیتا ہے، خاص طور پر بچوں اور نابالغ رائیڈرز جیسے کمزور گروہوں کے لیے۔ عدالت کا فیصلہ آرڈیننس کی سزاؤں کے خلاف مزید قانونی چیلنجز کو روکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.