پاکستان کی تیز ترین کار: صرف 1.9 سیکنڈز میں 0 سے 100 کی رفتار!
اگر آپ گاڑیوں کے سچے دیوانے ہیں، تو اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے۔ جب تک آپ اس گاڑی کا نام (Hyptec Hyper SSR) درست طریقے سے ادا کرنے کی کوشش کریں گے، یہ تب تک 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو پار کر چکی ہوگی۔ جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں صرف اور صرف 1.9 سیکنڈز میں 0 سے 100 کلومیٹر کی رفتار پکڑنے والی دنیا کی ایک تیز ترین گاڑی کی۔
یہ ہے Hyptec Hyper SSR، جسے GAC برانڈ اپنی بہترین انجینئرنگ اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستان لایا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی پہلی گل وِنگ دروازوں والی الیکٹرک کار ‘Hyptec GT’ کا ریویو کیا تھا، لیکن یہ گاڑی؟ یہ بالکل ایک الگ ہی مخلوق ہے۔ یہ پاک ویلز پر اب تک ریویو کی جانے والی سب سے تیز ترین کار ہے، بلکہ شاید پاکستانی سرزمیں پر دکھائی جانے والی تاریخ کی سب سے طاقتور ترین گاڑی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ اس آل-الیکٹرک ہائپر کار کو کون سی چیزیں ایک شاہکار بناتی ہیں:
1۔ ایکسٹیریئر اور غصیلی ایروڈائینامکس
چونکہ ہائپر ایس ایس آر (Hyper SSR) کو مکمل طور پر ایک خاص الیکٹرک وہیکل (EV) پلیٹ فارم پر بنایا گیا ہے، اس لیے اس کا ڈیزائن روایتی سپر کاروں سے بالکل مختلف ہے۔ آپ کو اس کے فرنٹ پر کوئی بڑی جالی نظر نہیں آئے گی، بلکہ اس کی باڈی کے ایک ایک ملی میٹر کو اس طرح تراشا گیا ہے کہ یہ ہوا کا سینہ چیرتی ہوئی گزر جائے۔
-
فرنٹ پروفائل: اس میں ہائی-ایفیشنسی اوپننگز دی گئی ہیں جو گاڑی کی انتہائی تیز رفتار میں پیدا ہونے والی گرمی کو کنٹرول کرنے کے لیے ہیٹ ایکسچینجرز کو ہوا فراہم کرتی ہیں۔
-
لائٹس: اس کی ایل ای ڈی (LED) ہیڈلائٹس اتنی شارپ اور باریک ہیں جیسے غصے میں تنی ہوئی بھنویں ہوں۔ جب آپ گاڑی کو لاک یا انلاک کرتے ہیں، تو یہ لائٹس ایک شاندار “لائٹ ڈانس” پیش کرتی ہیں۔
-
سائز: سائز کے معاملے میں یہ فیراری 296 GTB جیسی ہے، لیکن سڑک پر یہ اس سے زیادہ چوڑی اور خوفناک نظر آتی ہے۔
2۔ کاربن فائبر کا خبط
یہ کوئی عام اسپورٹس کار نہیں ہے، بلکہ اس نے باقاعدہ ہائپر کارز کی اشرافیہ کلاس میں انٹری ماری ہے۔ وجہ؟ کیونکہ یہ گاڑی دراصل پہیوں پر گھومتا ہوا کاربن فائبر کا ایک خول ہے۔
اس کا فرنٹ اسپلٹر، کینارڈز، سائیڈ اسکرٹس اور بونٹ سب کچھ خالص ایکسپوزڈ کاربن فائبر سے بنا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے شاندار پیلے رنگ کے پینٹ کے نیچے موجود پوری باڈی کاربن فائبر کی ہے۔ ایک بٹن دباتے ہی اس کے بٹر فلائی دروازے اوپر کی طرف کھلتے ہیں، اور یہ بھی مکمل طور پر کاربن فائبر سے تیار کیے گئے ہیں۔ اندر جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسافروں کے بیٹھنے کا پورا کیبن کاربن فائبر سے مضبوط کیا گیا ہے تاکہ وزن کم سے کم رہے اور مضبوطی اگلی سطح کی ہو۔
3۔ چوڑے ٹائر اور دیو ہیکل بریکس
اس الیکٹرک کار کی وحشیانہ طاقت کو سڑک پر سنبھالنے کے لیے مینوفیکچرر نے بہترین سامان کا استعمال کیا ہے:
| Component | Specification | تفصیلات |
| اگلے ٹائر | 245/35 R20 | مشیلن ہائی پرفارمنس ربڑ |
| پچھلے ٹائر | 305/30 R20 | بہترین گرپ اور لاؤنچ کے لیے چوڑے ٹائر |
| بریک روٹرز | 400mm کاربن-سیرامک | سائز میں عام ہونڈا سیوک کے 16 انچ کے وہیل رم جتنے بڑے |
| بریک کیلیپرز | ملٹی پسٹن | چمکدار اورینج رنگ کے؛ تیز ترین اسپیڈ پر بھی فوری بریک کی ضمانت |
تکنیکی حقیقت (Tech Fact): اس میں استعمال ہونے والا خاص میٹیریل استعمال کیا گیا ہے، تاکہ اچانک ملنے والے الیکٹرک ٹارک کے شدید دباؤ سے ٹائر کا ربڑ سڑک پر پگھل کر پھٹ نہ جائے۔
4۔ بیک پروفائل: 1,000 کلوگرام کا ڈاؤن فورس
گاڑی کا پچھلا حصہ انتہائی چوڑا اور زمین سے جڑا ہوا ہے۔ اس میں ایک الیکٹرانک کارپٹڈ اسپوائلر دیا گیا ہے جو کھڑی گاڑی میں باڈی کے ساتھ برابر رہتا ہے، لیکن تیز رفتار پر خود بخود اوپر اٹھ جاتا ہے۔
پچھلے شیشے کے نیچے کسی پٹرول انجن کے بجائے، آپ کو ایک خوبصورت لائٹ اسٹرپ نظر آئے گی جو چارجنگ کے دوران بیٹری کی فیصد بھی دکھاتی ہے۔ سب سے نیچے کاربن فائبر کا ایک بڑا ڈفیوزر موجود ہے جو ہوا کے دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے گاڑی کو 1,000 کلوگرام ڈاؤن فورس کے ساتھ سڑک سے چپکا کر رکھتا ہے، تاکہ یہ بآسانی اپنی 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ٹاپ اسپیڈ کو سنبھال سکے۔
5۔ کیبن: اورینج رنگ کا خلائی جہاز
جیسے ہی آپ اس کے سینسر والے خودکار دروازے کھول کر کاربن ٹب کو پار کرتے ہوئے اندر بیٹھتے ہیں، آپ کے بریک پیڈل پر پاؤں رکھتے ہی دروازے نرمی سے خود بخود بند ہو جاتے ہیں۔
-
انٹیریئر تھیم: کیبن کے اندر شوخ اورینج (نارنجی) رنگ کا استعمال کیا گیا ہے جو باہر لگے بریک کیلیپرز سے میچ کرتا ہے۔
-
سیٹس: کاربن فائبر بیک والی ریسنگ بالٹی سیٹیں دی گئی ہیں، جن پر الکانتارا اور پریمیم لیدر چڑھا ہوا ہے اور یہ 12 طریقوں سے الیکٹرانک ایڈجسٹ ہو سکتی ہیں۔
-
تکنیکی ڈیش بورڈ: درمیان میں 14.6 انچ کی بڑی انفوٹینمنٹ اسکرین ہے جس سے گاڑی کے ڈرائیونگ موڈز اور مکمل ADAS سیفٹی سسٹم کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس میں روایتی گیئر لیور نہیں ہے، بلکہ اس کے منفرد 2-اسپیڈ ٹرانسمیشن کے لیے ایک چھوٹا اور خوبصورت سلیکٹر دیا گیا ہے۔
-
اسٹیرنگ: ڈرائیور کے سامنے ایک مستطیل شکل کا ریسنگ اسٹیرنگ وہیل ہے، جس کے بالکل پیچھے 8.8 انچ کی ڈیجیٹل ڈسپلے اسکرین لگی ہے۔
6۔ ڈرائیونگ کا تجربہ: الیکٹرک ٹارک کا طوفان
ہائپر ایس ایس آر کے دونوں ایکسلز پر الگ الگ طاقتور الیکٹرک موٹرز لگی ہیں، جو 900 وولٹ کے الیکٹریکل آرکیٹیکچر کے ساتھ مل کر مجموعی طور پر 1,200 ہارس پاور پیدا کرتی ہیں۔
جب ہم نے اس گاڑی کو ایک مخصوص ٹریک پر ٹیسٹ کیا، تو اس کی پرفارمنس عقل کو دنگ کر دینے والی تھی۔ لاؤنچ پیڈل دباتے ہی چاروں پہیوں نے سڑک پر اپنی گرپ چھوڑی اور گاڑی گولی کی طرح آگے نکلی۔ اس کے شاکس ٹریک کے حساب سے کافی سخت ہیں جو سڑک کے ایک ایک انچ کا حال کیبن کے اندر واضح بتاتے ہیں۔ اس کا مستطیل اسٹیرنگ اتنا درست ہے کہ موڑ کاٹتے ہوئے آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے آپ فزکس کے قوانین کو چیلنج کر رہے ہوں۔ یہ ایک خالص اور سنسنی خیز ایڈونچر ہے۔
پریکٹیکلٹی اور چارجنگ رینج
کیا آپ اس گاڑی کو روزمرہ زندگی میں رکھ سکتے ہیں؟ حیران کن طور پر، ہاں!
-
رینج: یہ گاڑی ایک سنگل چارج پر 500 کلومیٹر سے زائد کی ڈرائیونگ رینج دیتی ہے اور الٹرا فاسٹ چارجنگ کو سپورٹ کرتی ہے۔
-
اسٹوریج: اس کا پچھلا پاورڈ ڈگی کا بٹن لوگو کے اندر چھپا ہوا ہے، جسے دبانے پر ایک مناسب جگہ کھلتی ہے جہاں آپ اپنے ویک اینڈ کا ایک سفری بیگ آرام سے رکھ سکتے ہیں۔
مختصر خلاصہ
ہائپ ٹیک ہائپر ایس ایس آر یہ ثابت کرتی ہے کہ چینی آٹو انڈسٹری اب کس راکٹ اسپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔ کچھ سال پہلے تک چینی الیکٹرک گاڑیوں کو صرف سستے اور عملی متبادل کے طور پر دیکھا جاتا تھا، لیکن اب GAC جیسے برانڈز کاربن فائبر باڈی، ایکٹیو ایروڈائینامکس، 1200 ہارس پاور اور 2 سیکنڈ سے کم کے لاؤنچ کے ساتھ ہائپر کار کی دنیا پر راج کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صرف ایک گاڑی کی نمائش نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جھلک ہے کہ مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کی پرفارمنس کس حد تک جانے والی ہے۔
دنیا بھر کی سپر کارز، ہائی ٹیک ای وی گاڑیوں اور آٹو انڈسٹری کی تمام تازہ ترین خبروں کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.