کراچی — قانون نافذ کرنے کے ایک ریکارڈ ساز اقدام میں، کراچی حکام نے سنگین حفاظتی اور تعمیلی خلاف ورزیوں پر ایک ڈمپر مالک کو 100,000 روپے کا ای-چالان جاری کیا ہے، جو شہر کی ٹریفک تاریخ میں ریکارڈ کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا واحد جرمانہ ہے۔
GPS نہیں، فٹنس سرٹیفکیٹ نہیں
شیرزادہ نامی شخص کی ملکیت یہ ڈمپر مبینہ طور پر لازمی GPS ٹریکر اور ایک درست فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلایا جا رہا تھا۔ یہ دونوں شہر کی حدود میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے لیے قانونی تقاضے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق، یہ خلاف ورزیاں شہری علاقوں میں بھاری گاڑیوں کی تعمیل کو بہتر بنانے کے لیے چلائی جانے والی ایک ہدف شدہ معائنہ مہم کے دوران سامنے آئیں۔ ٹریفک قوانین کے تحت، اگر یہ جرمانہ 14 دن کے اندر ادا کر دیا جاتا ہے، تو اس میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔
کریک ڈاؤن کا تعلق رزاق آباد کے مہلک حادثے سے
یہ کارروائی رزاق آباد کے علاقے میں حالیہ مہلک حادثے کے بعد کی گئی ہے، جہاں مبینہ طور پر ایک ڈمپر نے ایک رکشے کو ٹکر مار دی تھی، جس کے نتیجے میں کئی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے تھے۔ حکام کا خیال ہے کہ ایسی گاڑیوں پر مناسب ٹریکنگ اور دیکھ بھال کی عدم موجودگی ان قابلِ گریز سانحات میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
ڈمپروں اور واٹر ٹینکرز کی سخت نگرانی
ایک سرکاری بیان میں، شہر کے ٹریفک کنٹرول آفس نے اپنے مینڈیٹ کی دوبارہ تصدیق کی: تمام ڈمپروں اور واٹر ٹینکرز کو GPS ٹریکر نصب کرنا ضروری ہے جو ٹریفک پولیس کو حقیقی وقت تک رسائی فراہم کریں۔ غیر تعمیل شدہ ٹریکرز والی گاڑیوں کو بھاری جرمانے، بشمول ضبطی، کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکام نے تمام بھاری گاڑیوں کے مالکان پر زور دیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ ان کی گاڑیاں سڑک پر چلنے کے قابل ہیں اور ان کی مناسب نگرانی کی جا رہی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل پر فیصلہ کن قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تبصرے بند ہیں.