ہائی وے ٹیسٹ: کیا GAC Hyptec HT ایک چارج میں اسلام آباد پہنچ سکتی ہے؟
ہم ایک بار پھر موٹروے پر موجود ہیں اپنے ہائی وے رینج ٹیسٹ سلسلے کی دوسری قسط کے ساتھ، اور اس بار ہمارے پاس ہے سب کی توجہ کا مرکز بننے والی پریمیم الیکٹرک کار GAC Hyptec HT۔
ہائپٹیک ایچ ٹی جی اے سی کی ایک شاندار پریمیم الیکٹرک کراس اوور گاڑی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پاکستان کے لاہور-اسلام آباد موٹروے کے کٹھن حالات کا مقابلہ کیسے کرتی ہے؟ کیا 620 کلومیٹر رینج کا دعویٰ کرنے والی یہ ای وی (EV) موٹروے کی قانونی اسپیڈ پر چلتے ہوئے کلر کہار کی چڑھائی پر آپ کا ساتھ نبھا پائے گی یا آپ کو سڑک کے بیچوں بیچ بے یار و مددگار چھوڑ دے گی؟
آئیے اس گاڑی کی اصل رینج، ایڈاس (ADAS) فیچرز کی کارکردگی اور کیبن کے آرام کے بارے میں حقیقی اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں۔
گاڑی کا ماڈل: Hyptec HT (نارمل دروازوں والا ویرینٹ)
ہم نے جس ماڈل کا ٹیسٹ کیا وہ سنگل موٹر، ریئر ویل ڈرائیو (RWD) ویرینٹ ہے۔ اگرچہ اس کے ٹاپ ماڈل میں ٹیسلا (Tesla Model X) کی طرح اوپر کھلنے والے شاندار ‘گل ونگ’ دروازے آتے ہیں، لیکن یہ بنیادی ویرینٹ عام دروازوں کے ساتھ آتا ہے جو روزمرہ استعمال کے لیے زیادہ پریکٹیکل ہے۔
اہم خصوصیات پر ایک نظر:
-
بیٹری کیپیسٹی: 83 کلو واٹ آور (kWh) – جو GAC کی مشہور سیف “میگزین بیٹری” ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔
-
پاور اور ٹارک: 320 ہارس پاور اور 380 نیوٹن میٹر ٹارک۔
-
پک اپ (0-100 km/h): صرف 5.8 سیکنڈ (کمپنی کا دعویٰ)۔
-
کمپنی کی بتائی گئی رینج (NEDC): 620 کلومیٹر۔
-
چارجنگ اسپیڈ: الٹرا فاسٹ چارجنگ کی صلاحیت، جس سے فاسٹ چارجر پر یہ گاڑی محض 15 منٹ میں 80 فیصد تک چارج ہو سکتی ہے۔
ٹاپ ماڈل سے فرق:
-
مینول دروازے: اس کے آگے اور پیچھے کے دروازے عام گاڑیوں کی طرح ہاتھ سے کھلتے ہیں (گل ونگ اسٹائل نہیں ہے)۔
-
ایرو ڈسک وہیل کورز: رمز کا سائز ٹاپ ماڈل جیسا ہی ہے لیکن اس پر خاص ایرو ڈائنامک کورز لگے ہیں جو مائلیج بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
-
انٹیریئر کلر: اس کے اندرونی حصے کا رنگ ٹاپ ماڈل سے مختلف اور ملٹی ٹون ہے۔
لاہور سے اسلام آباد کا سفر (120 کلومیٹر کی رفتار پر رینج کا ڈر)
گاڑی کا اصل امتحان لینے کے لیے ہم نے موٹروے پر ایڈپٹیو کروز کنٹرول (ACC)، لین کیپ اسسٹ اور لین سینٹرنگ آن کر دی اور رفتار کو موٹروے کی آخری قانونی حد یعنی 120 کلومیٹر فی گھنٹہ پر فکس کر دیا۔
جب گاڑی 100% چارج تھی تو اسکرین پر 620 کلومیٹر کی رینج نظر آ رہی تھی۔ لیکن جیسے ہی ہم نے سفر شروع کیا، گاڑی کے سمارٹ سسٹم نے ہماری اسپیڈ کے حساب سے اصل رینج کو فوری طور پر تبدیل کر کے صرف 243 کلومیٹر دکھایا، جبکہ اسلام آباد کا فاصلہ 232 کلومیٹر باقی تھا۔
ابتدائی اصل رینج: 243 کلومیٹر | اسلام آباد کا فاصلہ: 232 کلومیٹر
یہ وہ لمحہ تھا جہاں کسی بھی الیکٹرک گاڑی کے ڈرائیور کو رینج ختم ہونے کا شدید خوف ہونے لگتا ہے۔
کلر کہار کی چڑھائی اور بیٹری کا گرنا
کلر کہار سالٹ رینج کی تیز چڑھائی کسی بھی الیکٹرک کار کی بیٹری کے لیے موت ثابت ہوتی ہے۔ مسلسل چڑھائی اور تیز رفتار لوڈ کی وجہ سے گاڑی کا بجلی کا خرچ بڑھ کر 18.9 kWh فی 100 کلومیٹر تک پہنچ گیا۔
جب ہم نے سالٹ رینج پار کی، تو صورتحال کافی تشویشناک ہو چکی تھی:
-
باقی بیٹری: 10%
-
کمپنی کے مطابق رینج: 60 کلومیٹر
-
گاڑی کے حساب سے اصل رینج: 41 کلومیٹر
-
منزل کا فاصلہ: 46 کلومیٹر
ایمرجنسی موڈ کا استعمال
چونکہ گاڑی کی اصل رینج منزل کے فاصلے سے 5 کلومیٹر کم ہو چکی تھی، اس لیے ہم نے پینک سے بچنے کے لیے کچھ سخت اقدامات کیے:
-
جب منزل 37 کلومیٹر دور رہ گئی، تو ہم نے گاڑی کا اے سی (AC) بالکل بند کر دیا۔
-
گاڑی کی اسپیڈ پہلے 100 اور پھر کم کر کے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ پر لے آئے۔
-
جب بیٹری 5% رہ گئی تو ہم نے “سپر پاور سیونگ موڈ” آن کر دیا۔
سافٹ ویئر کی ایک عجیب غلطی: جیسے ہی 4% بیٹری پر سپر پاور سیونگ موڈ آن ہوا، گاڑی کے میٹر نے اچانک دکھایا کہ یہ اب بھی 124 کلومیٹر چل سکتی ہے۔ 4 فیصد بیٹری سے 124 کلومیٹر کی رینج کیسے نکل سکتی ہے، یہ تو ایک معجزہ ہی تھا، لیکن ہم کوئی خطرہ نہیں لینا چاہتے تھے۔ چنانچہ ہم پٹرول پمپ کی طرح رینگتے ہوئے محض 3% بیٹری کے ساتھ اسلام آباد کے چارجنگ اسٹیشن پہنچ گئے، اور یوں لاہور سے اب تک کا 429 کلومیٹر کا سفر مکمل ہوا۔
کیبن کا آرام اور ٹیکنالوجی: خوبیاں اور خامیاں
طویل سفر کے دوران ہمیں گاڑی کے انٹیریئر، آرام اور فیچرز کو باریک بینی سے دیکھنے کا پورا موقع ملا۔
خوبیاں (Pros):
-
کمرشل کلاس جتنا اسپیس: بڑے وہیل بیس کی وجہ سے گاڑی کے اندر لیگ روم بہت شاندار ہے۔ پیچھے بیٹھنے والے مسافر کے لیے “بوس سیٹ” (Boss Seat) کا فیچر ہے جس میں الیکٹرک لیگ ریسٹ (ٹانگیں رکھنے کی جگہ)، ایک فولڈنگ ٹرے اور سیٹ کو پیچھے جھکانے کا بہترین اینگل ملتا ہے۔
-
پریمیم سیٹیں: آگے کی ناپا لیدر سیٹیں ہیٹنگ، وینٹیلیشن (ٹھنڈک) اور مساج کے فیچر کے ساتھ آتی ہیں۔
-
یو وی پروٹیکٹڈ شیشے کی چھت: گاڑی کی بڑی پینورامک شیشے کی چھت پر براہِ راست دھوپ پڑنے کے باوجود کیبن گرم نہیں ہوا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یو وی (UV) کوٹنگ بہترین کام کرتی ہے۔
-
خاموش کیبن: ایرو ڈائنامک ڈیزائن کی وجہ سے 120 کلومیٹر کی رفتار پر بھی ہوا کا شور کیبن میں بالکل محسوس نہیں ہوتا۔
-
شاندار آڈیو: گاڑی کا 22 اسپیکرز پر مشتمل پریمیم ساؤنڈ سسٹم کمال کا ہے۔
خامیاں:
-
اسٹیئرنگ کی فنشنگ: اسٹیئرنگ پر چمڑا تو چڑھا ہے لیکن اندرونی سلائی ہاتھ کو کھردری محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہارن والا حصہ سستے ہارڈ پلاسٹک کا بنا ہوا ہے۔
-
تنگ کرنے والا سیفٹی سینسر: گاڑی کا ڈرائیور مانیٹرنگ کیمرہ ضرورت سے زیادہ حساس ہے۔ اگر ڈرائیور سڑک پر بھی دیکھ رہا ہو، تب بھی یہ بار بار “توجہ دیں!” کا الرٹ دیتا ہے، جس سے تنگ آ کر ہمیں اسے بند کرنا پڑا۔
-
اسکرین کی چمک: 14.6 انچ کی بڑی سینٹرل اسکرین کی برائٹنس تیز دھوپ میں کم محسوس ہوتی ہے اور باہر کی روشنی پڑنے سے اسکرین پر کچھ نظر نہیں آتا۔
-
ٹائروں کا شور: موٹروے کے کھردری سڑک والے حصوں پر ٹائروں کی آواز کیبن کے اندر کافی زیادہ آتی ہے، کیونکہ انجن نہ ہونے کی وجہ سے کیبن بہت خاموش ہوتا ہے۔
واپسی کا سفر (110 کلومیٹر کی رفتار پر ایک پرسکون تجربہ)
اسلام آباد سے لاہور واپسی کے لیے ہم نے اپنی حکمتِ عملی بدلی۔ اس بار ہم نے گاڑی کو 120 کے بجائے صرف 10 کلومیٹر کم یعنی 110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر کروز کنٹرول پر لگا دیا۔
اس معمولی تبدیلی کے نتائج حیران کن تھے:
رینج اور کارکردگی کا موازنہ
| خصوصیت | لاہور سے اسلام آباد (120 km/h) | اسلام آباد سے لاہور (110 km/h) |
| ڈرائیونگ اسپیڈ | 120 کلومیٹر فی گھنٹہ | 110 کلومیٹر فی گھنٹہ |
| اوسط بجلی کا خرچ | 18.5 kWh / 100 کلومیٹر | 16.5 kWh / 100 کلومیٹر |
| کلر کہار کا اثر | شدید بیٹری ڈرین (چڑھائی) | 6 سے 7 کلومیٹر رینج واپس ملی (ڈھلان پر چارجنگ) |
| منزل پر باقی بیٹری | 3% (اے سی بند کرنا پڑا) | 16% (اے سی فل آن رہا) |
| باقی متوقع رینج | تقریباً 30 کلومیٹر (تخمینہ) | 77 کلومیٹر (حقیقی) |
صرف 10 کلومیٹر اسپیڈ کم کرنے اور کلر کہار کی ڈھلان پر بریک انرجی ریکوری کی وجہ سے ہم پورے راستے اے سی فل چلا کر بھی لاہور 16% بیٹری کے ساتھ انتہائی پرسکون انداز میں پہنچ گئے۔ نہ کوئی ٹینشن ہوئی اور نہ ہی رینج کا خوف۔
فائنل فیصلہ
GAC Hyptec HT ایک بہترین اور شاندار الیکٹرک کراس اوور کار ہے۔ اس کی روڈ پریزنس، بہترین ہینڈلنگ، فوری پک اپ اور پچھلی سیٹوں کا لگژری آرام کسی مہنگی ترین وی آئی پی گاڑی سے کم نہیں ہے۔
ہمارے اس ٹیسٹ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جدید الیکٹرک گاڑیاں پاکستان کے موٹرویز پر طویل سفر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن اس کے لیے دو باتیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں:
-
ڈرائیونگ کا انداز سب سے اہم ہے: ای وی (EV) کو موٹروے پر مسلسل 120 کلومیٹر کی رفتار پر بھگانے سے بیٹری جلدی ختم ہوتی ہے۔ اگر آپ رفتار کو 110 پر رکھیں تو آپ کا سفر بالکل ٹینشن فری رہے گا۔
-
چارجنگ نیٹ ورک کی ضرورت: ہائپٹیک ایچ ٹی جیسی بڑی رینج والی گاڑیوں کا پورا فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو موٹرویز پر زیادہ سے زیادہ اور تیز رفتار ڈی سی (DC) فاسٹ چارجرز لگانے کی اشد ضرورت ہے۔
گاڑیوں کے تفصیلی ریویوز، قیمتوں اور آٹو انڈسٹری کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.