اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے روزمرہ ڈرائیونگ کو ڈیجیٹل بنانے کی مہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ آئی سی ٹی (ICT) انتظامیہ کے مطابق، اب تک 166,888 سے زائد گاڑیوں پر لازمی الیکٹرانک ٹیگز لگائے جا چکے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں سخت چیکنگ کے دوران صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 3,130 ٹیگز نصب کیے گئے۔
ایم-ٹیگ کیا ہے؟
یہ اب محض موٹروے ٹول ٹیکس کا اسٹیکر نہیں رہا۔ ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹی فکیشن پر مبنی یہ ‘ایم-ٹیگ’ اب اسلام آباد کے وہیکل مانیٹرنگ سسٹم کی بنیاد بن چکا ہے۔ شہر کے داخلی راستوں اور چیک پوائنٹس پر نصب خودکار اسکینرز کے ذریعے یہ ٹیگز گاڑیوں کی آمد و رفت کو تیز بنانے، دستی معائنہ کو کم کرنے اور شہر کی سیکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
سختی کے باعث قواعد کی پاسداری میں اضافہ
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور آئی سی ٹی انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اعداد و شمار رجسٹریشن کی تیز رفتاری اور عوام کے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں۔ شہر بھر میں نفاذِ قانون کی کارروائیاں جاری ہیں؛ اہم داخلی راستوں اور اندرونی چیک پوائنٹس پر ٹیگ ریڈرز فعال کر دیے گئے ہیں اور بغیر ایم-ٹیگ والی گاڑیوں کو روکا جا رہا ہے۔
شہریوں کی سہولت اور قطاروں سے بچنے کے لیے انتظامیہ نے رجسٹریشن کے نیٹ ورک کو وسعت دی ہے۔ اس وقت شہر بھر میں 17 ایم-ٹیگ بوتھ کام کر رہے ہیں، جبکہ 26 نمبر چونگی اور ستراہ میل (پھلگراں) ٹول پلازہ پر 24 گھنٹے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، کچنار پارک اور ایف-9 پارک میں قائم کاؤنٹرز بھی رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں مزید سختی
یہ کریک ڈاؤن حکومت کی سابقہ ہدایات کی کڑی ہے۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد بغیر ایم-ٹیگ والی گاڑیوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، لہٰذا مالکان جلد از جلد رجسٹریشن مکمل کرائیں۔
سمارٹ سٹی اقدام
حکومت ایم-ٹیگ سسٹم کو محض ایک ضابطہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر وژن کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اسے ‘سیف سٹی’ ٹیکنالوجی سے منسلک کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے، ہنگامی صورتحال میں بروقت جوابی کارروائی ممکن ہو اور شہری تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد کو ٹیکنالوجی پر مبنی شہری نقل و حمل کے لیے ایک ماڈل کے طور پر متعارف کروانے کی کوشش ہے۔
ڈرائیوروں کے لیے اہم معلومات
شہریوں کے لیے پیغام واضح ہے: چیک پوائنٹ پر بغیر ایم-ٹیگ پہنچنے کی صورت میں تاخیر، پوچھ گچھ یا واپسی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کی سہولیات میں اضافہ صرف شہریوں کی آسانی کے لیے ہے، اسے قانون میں نرمی نہ سمجھا جائے۔
ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک قدم
ایم-ٹیگ کا نفاذ حالیہ برسوں میں اسلام آباد کے بڑے ٹیکنالوجی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف ٹول ٹیکس کے نظام کو خودکار بنانا ہے بلکہ روزمرہ کے ٹرانسپورٹ مینجمنٹ میں ڈیجیٹل شناخت کو شامل کرنا ہے۔

تبصرے بند ہیں.