سندھ حکومت نے خواتین کی نقل و حمل کو آسان اور آزادانہ بنانے کے لیے 300 پنک الیکٹرک اسکوٹرز تقسیم کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد خواتین کو سفر میں درپیش مشکلات کو کم کرنا اور انہیں معاشی و تعلیمی طور پر بااختیار بنانا ہے۔
کراچی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے اسکوٹرز خواتین کے حوالے کیے۔
مستقبل کا بڑا منصوبہ: 50 لاکھ اسکوٹرز
صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی پرجوش منصوبے کا اعلان کیا:
-
ہدف: سندھ حکومت کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں مرحلہ وار 50 لاکھ اسکوٹرز خواتین کو فراہم کیے جائیں۔
-
بغیر سفارش: حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں کسی سفارش یا خاص منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی تاکہ ہر مستحق خاتون اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
درخواست دینے کے لیے لازمی شرائط
وہ خواتین جو اس پروگرام کا حصہ بننا چاہتی ہیں، ان کے لیے درج ذیل معیار مقرر کیا گیا ہے:
-
پکا ڈرائیونگ لائسنس: درخواست گزار کے پاس مستقل ڈرائیونگ لائسنس ہونا ضروری ہے۔
-
تعلیم یا ملازمت کا ثبوت: طالبات یا ورکنگ پروفیشنلز ہی اس کے لیے اہل ہوں گی۔
-
تربیتی کورس: حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مفت ڈرائیونگ ٹریننگ میں شرکت کرنا ہوگی۔
فوائد اور اہمیت
-
اخراجات میں کمی: الیکٹرک اسکوٹرز کے استعمال سے خواتین کو مہنگے پیٹرول اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے نجات ملے گی۔
-
ماحول دوست: یہ اسکوٹرز بجلی سے چلتے ہیں، جس سے شہروں میں آلودگی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
-
آزادی: طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین اب کسی پر انحصار کیے بغیر اپنے وقت پر منزل تک پہنچ سکیں گی۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
300 اسکوٹرز کی تقسیم اس پروگرام کا پہلا مرحلہ ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی اور مانگ کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے مراحل میں اس کا دائرہ کار پورے سندھ تک پھیلایا جائے گا۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.