ٹرینڈنگ

پاک ویلز کا خصوصی تجزیہ: بجٹ 2026 میں چھپی آٹو سیکٹر کی 6 اندرونی کہانیاں

449

بجٹ 2026-27 پر ہونے والی زیادہ تر گفتگو کا محور نئے ٹیکس، مہنگی ہوتی ایس یو ویز (SUVs) اور گاڑیوں کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات رہے ہیں۔ لیکن فنانس بل، ٹیکس ایکسپینڈیچر اسٹیٹمنٹ، رعایتی شیڈولز اور دیگر معاون دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

مجموعی طور پر، یہ دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کی آٹوموٹو انڈسٹری کو کس سمت میں دیکھنا چاہتی ہے۔

1. آٹو انڈسٹری کا سب سے بڑا ہندسہ ٹیکس اضافہ نہیں ہے

اس بجٹ میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا ہندسہ کوئی ٹیکس اضافہ نہیں ہے، بلکہ وہ 285 ارب روپے کی رقم ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق:

  • آٹوموٹو او ای ایم (OEMs/گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں) کو 219.6 ارب روپے کی مراعات دی گئیں۔

  • آٹوموٹو وینڈرز (پرزے بنانے والوں) کو 41.7 ارب روپے کی مراعات ملیں۔

  • ای وی (EV) اور سی کے ڈی (CKD) کٹس سے متعلق مراعات کی مالیت تقریباً 23.9 ارب روپے ہے۔

جب ان سب کو ملایا جائے تو پورے آٹوموٹو ایکو سسٹم کو تقریباً 285 ارب روپے کی مالیاتی امداد ملتی ہے۔ یہ بجٹ دستاویزات میں نظر آنے والے سب سے بڑے صنعتی امدادی پیکجز میں سے ایک ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بحث انڈسٹری کو تحفظ دینے پر نہیں رہی، بلکہ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ تحفظ مقامی سطح پر پرزے بنانے (Localization)، برآمدات، سرمایہ کاری اور بدلے میں گاڑیوں کو عوام کی پہنچ میں لانے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔

انڈسٹری کا چیلنج اب ‘بقا’ نہیں ہے

کئی دہائیوں سے آٹو انڈسٹری کا بنیادی ہدف صرف اپنی بقا قائم رکھنا تھا۔ اسمبلرز اور وینڈرز کا یہ استدلال تھا کہ مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے انہیں ٹیرف کے تحفظ، رعایتی ڈیوٹیز اور پالیسی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ لیکن بجٹ 2026 یہ تجویز کرتا ہے کہ اب یہ بحث بدل رہی ہے۔

کئی دہائیوں کے تحفظ اور مراعات کے بعد، اب پالیسی ساز انڈسٹری سے کڑے سوالات پوچھیں گے:

  • گاڑیاں اب بھی اتنی مہنگی کیوں ہیں؟

  • برآمدات (Exports) اب بھی اتنی محدود کیوں ہیں؟

  • لوکلائزیشن (مقامی پرزوں کی تیاری) اب بھی ایک متنازعہ مسئلہ کیوں ہے؟

  • انڈسٹری نے تقریباً 285 ارب روپے کی اس بھاری سرکاری مدد کے بدلے ملک کو کیا دیا ہے؟

اب انڈسٹری کا چیلنج آہستہ آہستہ بقا سے ہٹ کر ‘جوابدہی’ (Accountability) کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سرکاری سرپرستی ختم ہو رہی ہے۔ درحقیقت، بجٹ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت بھاری مراعات کے ذریعے مقامی مینوفیکچرنگ کی پشت پناہی جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن مستقبل کی پالیسیوں کا محور اب صارفین اور معیشت کے لیے حاصل ہونے والے نتائج ہوں گے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2026-27: آٹو سیکٹر کے لیے ایک تفصیلی جائزہ۔

2. حکومت اب بھی مقامی مینوفیکچرنگ کی پشت پناہی کر رہی ہے

آٹو سیکٹر سے وابستہ بہت سے لوگوں کو یہ ڈر تھا کہ آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کے باعث امپورٹ پالیسی کو جارحانہ طور پر کھول دیا جائے گا (یعنی باہر کی گاڑیاں دھڑا دھڑ امپورٹ ہوں گی)۔ مگر بجٹ اس کے برعکس اشارہ دیتا ہے۔

ای وی (EV) مینوفیکچرنگ کے لیے سپورٹ برقرار ہے، سی کے ڈی (CKD) سے متعلق مراعات جاری ہیں اور وینڈرز کے لیے ترغیبات بھی واضح ہیں۔ حکومت نے الیکٹرک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی مدد کے لیے ‘پیو’ (PAVE) یعنی ‘پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن’ پروگرام بھی شروع کیا ہے۔ اشارہ بالکل واضح ہے: پالیسی ساز امپورٹڈ گاڑیوں پر انحصار کرنے کے بجائے اب بھی مقامی پیداوار کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

3. ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے 10 ارب روپے کی رعایت خاموشی سے غائب

حکومت کے ‘ٹیکس ایکسپینڈیچر اسٹیٹمنٹ’ میں ایک انتہائی دلچسپ تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ SRO 499(I)/2013 کے تحت ہائبرڈ گاڑیوں کی امپورٹ پر دی جانے والی رعایت نے مالیاتی سال 2023-24 کے دوران لگ بھگ 10.1 ارب روپے کا ٹیکس استثنیٰ پیدا کیا تھا، لیکن تازہ ترین بجٹ دستاویزات میں یہ ہندسہ صفر (Zero) ہو چکا ہے۔

دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ رعایت ختم ہو گئی ہے، اسے بدلا گیا ہے یا اب اس سے ریونیو کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔ تاہم، یہ فرق قابلِ غور ہے۔ دوسری طرف، ای وی (EV) مینوفیکچرنگ، ای وی پارٹس اور لوکلائزیشن کے لیے سپورٹ بجٹ میں دیگر مقامات پر واضع طور پر موجود ہے۔ اگرچہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر جرمانہ لگایا جا رہا ہے، لیکن یہ اشارہ ضرور ہے کہ مستقبل کی مراعات امپورٹڈ ہائبرڈ گاڑیوں کے بجائے اب الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی تیاری اور لوکلائزیشن کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: حکومتِ پاکستان نے لگژری کاروں کی امپورٹ پر ایکسائز ڈیوٹی میں بڑے اضافے کی تجویز دے دی۔

4. پاکستان اپنی کار امپورٹس کا انتخاب اب سوچ سمجھ کر کرے گا

بجٹ امپورٹڈ گاڑیوں کے لیے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرتا، لیکن یہ درآمدات کی اقسام میں فرق ضرور کرتا ہے۔

پریمیم گاڑیوں، بڑے انجن والی کاروں اور لگژری سیگمنٹس کو 41 فیصد تک کے اضافی ٹیکس کا سامنا ہے کیونکہ 2,000cc سے بڑے انجن یا 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیوں پر نئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف، وسیع تر ٹیرف اصلاحات متوازی طور پر جاری ہیں۔ نتیجہ ایک ایسا پالیسی فریم ورک ہے جو عیاشی اور لگژری کے لیے امپورٹ کے بجائے اسٹریٹجک صنعتی امپورٹ (مشینری اور خام مال) کے ساتھ زیادہ کمفرٹیبل نظر آتا ہے۔

5. ای وی بائیکس اور اسکوٹرز خاموش فاتح ہیں

الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر ہونے والی زیادہ تر گفتگو مہنگی اور پریمیم الیکٹرک کاروں کے گرد گھومتی رہی ہے، لیکن بجٹ 2026 الیکٹرک ٹو-وہیلرز (بائیکس اور اسکوٹرز) کے لیے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کسی بھی بڑے نئے ٹیکس سے محفوظ رہے ہیں، جبکہ نیا شروع کیا جانے والا PAVE پروگرام خاص طور پر آسان فنانسنگ اور پالیسی سپورٹ کے ذریعے ان بائیکس کو عام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مزید برآں، حکومت نے ای-بائیکس کے لیے ٹیکس مراعات میں اگلے سال تک توسیع کر دی ہے۔ چونکہ پاکستان کی سڑکوں پر موٹر سائیکلوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس لیے الیکٹرک ٹو-وہیلرز پٹرول کی کھپت اور آلودگی کو کم کرنے میں مسافر ای وی کاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑا اور حقیقی اثر ڈال سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کار خریداروں کے لیے بجٹ 2026 کا کیا مطلب ہے (صرف 2 منٹ میں سمجھیں)۔

6. حکومت کی پسندیدہ ای وی ‘پاکستانی ای وی’ ہے

بجٹ 2026 سے ابھرنے والا شاید سب سے واضح سگنل یہ ہے کہ پالیسی ساز محض ای وی کی فروخت بڑھانے کی کوشش نہیں کر رہے، بلکہ وہ پاکستان کے اندر ایک مکمل ‘ای وی انڈسٹری’ کھڑی کرنا چاہتے ہیں۔

ساری سرکاری سپورٹ ای وی مینوفیکچرنگ، ای وی پارٹس، سی کے ڈی (CKD) کٹس، لوکلائزیشن کے اقدامات اور فنانسنگ پروگرامز (جیسے PAVE) کے گرد مرکوز ہے۔ دوسری طرف، باہر سے آنے والی مہنگی امپورٹڈ ای وی گاڑیوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کھڑا کیا گیا ہے، جبکہ مقامی اسمبلنگ کے لیے مراعات برقرار رکھی گئی ہیں۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ حکومت کا حتمی ہدف امپورٹڈ ای وی گاڑیوں کا سیلاب لانا نہیں ہے، بلکہ وہ یہ چاہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ الیکٹرک گاڑیاں پاکستان کے اندر اسمبل اور تیار کی جائیں۔ یہ مقصد تب اور واضع ہو جاتا ہے جب ہم بجٹ کے دیگر اقدامات کو دیکھتے ہیں۔ پریمیم امپورٹس اور بڑے انجن والی گاڑیوں پر ہائی ٹیکسز امپورٹڈ اور مقامی طور پر اسمبل شدہ گاڑیوں کے درمیان قیمت کا فرق مزید بڑھا دیں گے، جس سے لوکل پروڈکشن مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی (Competitive) ہو جائے گی۔

آٹو میکرز کے لیے اب پیغام بالکل صاف ہے: مستقبل کی مراعات صرف ان کمپنیوں کو ملیں گی جو پاکستان میں گاڑیاں صرف بیچنے کے بجائے انہیں ‘پاکستان میں بنانے’ کے لیے تیار ہوں گی۔

مزید پڑھیں: بجٹ 2026-27 میں ان گاڑیوں کے لیے ڈیوٹی میں نئی تبدیلیاں تجویز۔

پاک ویلز کا فیصلہ (The PakWheels Verdict)

بجٹ 2026 میں آٹو سیکٹر کی سب سے بڑی کہانی ایس یو ویز پر لگنے والا نیا FED یا لگژری ای وی پر ٹیکس نہیں ہے، اور نہ ہی گاڑیوں کی قیمتوں پر پڑنے والا فوری اثر ہے۔

اصل کہانی حکومت کی ترجیحات میں چھپی ہے۔

پریمیم گاڑیوں پر ہائی ٹیکسز کے باوجود، بجٹ آٹو سیکٹر کے ایکو سسٹم کو تقریباً 285 ارب روپے کی بھاری سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ مقامی مینوفیکچرنگ کے تحفظات برقرار ہیں، ای وی لوکلائزیشن کی حوصلہ افزائی جاری ہے، اور وینڈرز کو تحفظ دیا گیا ہے۔ نیا PAVE پروگرام یہ ظاہر کرتا ہے کہ الیکٹریفیکیشن ملک کی طویل مدتی صنعتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

اس کے ساتھ ہی، حکومت اب مقامی پیداوار اور امپورٹ، عوامی سواریوں اور لگژری گاڑیوں، اور روایتی ہائبرڈز اور اگلی نسل کی الیکٹرک گاڑیوں کے درمیان ایک واضع لکیر کھینچ رہی ہے۔

یہ تمام اشارے بتاتے ہیں کہ پاکستان کی آٹوموٹو پالیسی اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کئی دہائیوں تک انڈسٹری کا بنیادی ہدف صرف بقا تھا۔ اب اگلا چیلنج یہ ثابت کرنا ہوگا کہ برسوں کے تحفظ، مراعات اور پالیسی سپورٹ کو آخر کار بہترین لوکلائزیشن، بامعنی برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سب سے بڑھ کر، پاکستانی صارفین کے لیے سستی اور سستی گاڑیوں میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے۔

بجٹ 2026 نے یہی سوال اٹھایا ہے، اور انڈسٹری اس کا کیا جواب دیتی ہے، اسی پر ‘آٹو پالیسی 2026-31’ کی کامیابی اور پاکستان کے آٹو سیکٹر کے مستقبل کی سمت کا فیصلہ ہوگا۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel