ایڈاس (ADAS) اور گاڑیوں کی اسکرینوں کا غلط استعمال ہے، نئی رپورٹ

18

اس عالمی ریسرچ میں ماہرین نے حادثات کی وجوہات کے حوالے سے درج ذیل اہم اشاریے پیش کیے ہیں:

  • جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال (30%): ماہرین کے مطابق 30 فیصد ٹرانسپورٹ حادثات کی بنیادی وجہ ADAS فیچرز (جیسے لین کیپ اسسٹ اور ایڈپٹیو کروز کنٹرول) کے بارے میں ڈرائیورز کی غلط فہمی یا ان کا حد سے زیادہ بھروسہ ہے۔

  • انفوٹینمنٹ اسکرینیں (24%): چوبیس فیصد ماہرین نے انگلی اٹھائی ہے کہ گاڑیوں کے کیبن میں نصب پیچیدہ اور مسلسل توجہ حاصل کرنے والی بڑی ٹچ اسکرینیں ڈرائیوروں کا دھیان بٹانے کی سب سے بڑی وجہ بن رہی ہیں۔

  • مکینیکل خرابی (صرف 3%): حیرت انگیز طور پر، صرف 3 فیصد ماہرین کا ماننا ہے کہ مکینیکل خرابی (جیسے بریک فیل ہونا یا ٹائر پھٹنا) جدید حادثات کی بنیادی وجہ ہے۔

  • مبالغہ آمیز مارکیٹنگ (66%): دو تہائی سے زائد پروفیشنلز کا ماننا ہے کہ کار مینوفیکچررز اپنی تشہیری مہمات میں ‘لیول 2’ آٹو پائلٹ سسٹمز کی صلاحیتوں کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، جس سے ڈرائیور غیر محتاط ہو جاتا ہے۔

پاکستانی انفراسٹرکچر: ADAS ہمارے ہاں کیوں ناکام ہو جاتا ہے؟

پاکستان میں اب ADAS صرف جرمن امپورٹڈ کاروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ مقامی طور پر اسمبل ہونے والی گاڑیوں جیسے Haval H6, Changan Oshan X7، اور Kia Sportage L میں بھی یہ فیچرز عام ملتے ہیں۔ تاہم، ہمارا روڈ انفراسٹرکچر ان سسٹمز کے لیے ایک مستقل الجھن ہے:

مٹی ہوئی لین مارکنگز (Faded Lane Markings)

گاڑی کا لین کیپ اسسٹ سسٹم سڑک پر لگی سفید پینٹ کی لائنوں کو دیکھ کر کام کرتا ہے۔ پاکستان کی اکثر سڑکوں پر یہ لائنیں مٹ چکی ہوتی ہیں یا اچانک ختم ہو جاتی ہیں، جس سے سسٹم بغیر کسی انتباہ کے ڈس اینگیج (بند) ہو جاتا ہے اور گاڑی دوسری لین میں جا گھستی ہے۔

نان اسٹینڈرڈ ٹریفک (Non-Standard Traffic)

گاڑیوں کے ریڈار اور کیمرے معیاری کاروں، ٹرکوں اور پیدل چلنے والوں کو پہچاننے کے لیے بنے ہیں۔ یہ سسٹم سڑک پر آڑے ترچھے چلنے والے چنگچی رکشوں، خطرناک انداز میں اوور ٹیک کرنے والے موٹر سائیکل سواروں اور سڑک کے بیچوں بیچ آ جانے والے جانوروں کے غیر متوقع رویے کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

 فینٹم بریکنگ کا خوف (Phantom Auto-Braking)

پاکستان میں متعدد ای وی اور کراس اوور مالکان نے شکایت کی ہے کہ کسی تیز موڑ پر سڑک کنارے لگی رکاوٹ یا پاس سے گزرنے والے موٹر سائیکل کو خطرہ سمجھ کر گاڑی کا آٹو بریکنگ سسٹم اچانک فل بریک لگا دیتا ہے، جس سے پیچھے آنے والی گاڑی کے ٹکرانے کا شدید خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

 پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The PakWheels Verdict)

اس میں کوئی شک نہیں کہ آٹو بریکنگ اور ایڈپٹیو کروز کنٹرول جیسے جدید فیچرز حادثات سے بچاؤ کے بہترین معاون ہیں، لیکن یہ ڈرائیور کا نعم البدل نہیں بلکہ محض ایک اسسٹنٹ (امداد دینے والے) سسٹمز ہیں۔

موٹر وے (M-2) ہو یا لاہور کی نہر (Canal Road) کی بے ہنگم ٹریفک، ٹیکنالوجی پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ ہمیشہ اپنے ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھیں، اپنی توجہ بڑی اسکرین کے بجائے سڑک پر رکھیں، اور ان آٹومیٹڈ سسٹمز کو صرف ایک ہنگامی سپورٹ کے طور پر استعمال کریں، نجی ڈرائیور کے طور پر نہیں۔

پاکستان میں نئے ٹریفک قوانین، موٹر وے اسپیڈ لمیٹس اور گاڑیوں کے سیفٹی فیچرز کی ٹیسٹنگ اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ مانیٹر کرتے رہیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel