جب اسلام آباد میں عالمی سطح کے مذاکرات ہوتے ہیں، تو سیکیورٹی صرف پولیس اہلکاروں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کا بڑا حصہ وہ مخصوص گاڑیاں ہوتی ہیں جو کسی بھی حملے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
قافلے میں شامل اہم گاڑیاں:
-
کیڈیلک ایسکلیڈ (بکتر بند): امریکی سیکیورٹی بیڑے کی پہچان، جو وی 8 انجن اور جدید ترین حفاظتی ڈھانچے سے لیس ہوتی ہے۔
-
شیورلے سبربن: یہ گاڑی اپنے بڑے چیسس کی وجہ سے بلٹ پروفنگ کے لیے بہترین سمجھی جاتی ہے اور اکثر سیکیورٹی ٹیموں کے زیرِ استعمال ہوتی ہے۔
-
ٹویوٹا لینڈ کروزر 300: اپنی پائیداری اور شاہراہوں پر بہترین گرفت کی وجہ سے یہ سفارتی قافلوں کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے۔
-
مرسڈیز بینز ایس کلاس گارڈ: یہ لگژری اور اعلیٰ ترین حفاظتی معیار (VR-class) کا امتزاج ہے، جسے اہم ترین شخصیات (VVIPs) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سفارتی قافلے کی ساخت:
| گاڑی کی قسم | مثال (ماڈل) | مقصد (مشن) |
| روٹ کار | ٹویوٹا پراڈو / پولیس | قافلے سے چند میل آگے راستہ صاف کرتی ہے۔ |
| لیڈ گاڑی | شیورلے سبربن | قافلے کی رفتار کا تعین کرتی ہے اور ٹریفک ہٹاتی ہے۔ |
| وی آئی پی کور | بکتر بند ایسکلیڈ / ایس کلاس | قافلے کا مرکز جس میں اہم مہمان سوار ہوتا ہے۔ |
| بفر یونٹ | لینڈ کروزر 300 | گزرتے وقت سائیڈ کی گلیوں اور راستوں کو بلاک کرتا ہے۔ |
| ٹیل (آخر) | بکتر بند ایمبولینس | ہنگامی طبی امداد کے لیے ہر وقت ساتھ موجود۔ |
میزبان ملک اور وفد کی حکمتِ عملی:
سفارتی نقل و حرکت میں دوہرا نظام کام کرتا ہے۔ پاکستان (میزبان ملک) راستوں کی سیکیورٹی اور بیرونی حصار کی ذمہ داری سنبھالتا ہے، جبکہ غیر ملکی وفود اپنے مخصوص حفاظتی پروٹوکول کے لیے اپنی گاڑیاں (جو اکثر C-17 طیاروں کے ذریعے لائی جاتی ہیں) استعمال کرتے ہیں۔
پاک ویلز بصیرت: جب آپ سڑک پر ٹریفک رکا ہوا دیکھیں اور کالی شیشوں والی گاڑیوں کا قافلہ گزرے، تو سمجھ جائیں کہ یہ ایک انتہائی مربوط آپریشن ہے جس کا مقصد عالمی سفارت کاری کو محفوظ بنانا ہے۔

تبصرے بند ہیں.