ایسٹن مارٹن کا ٹریڈ مارک تنازع پر جیلی (Geely) کو چیلنج

129

ایسٹن مارٹن نے برطانیہ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے جس میں جیلی سے وابستہ LEVC کے پروں والے لوگو (winged logo) کی درخواستوں پر اس کے اعتراض کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ یہ کیس اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جیلی خود ایسٹن مارٹن میں ایک بڑی شیئر ہولڈر ہے، جو اس تنازع کو محض ایک عام ٹریڈ مارک کیس سے بڑھ کر کچھ اور بنا دیتا ہے۔

فی الوقت ایسا نظر نہیں آتا کہ اس کیس سے کسی گاڑی کی لانچنگ یا پروڈکٹ کی فروخت پر اثر پڑے گا۔ تاہم، پریمیم کار مارکیٹ میں گاڑی کا نشان (Badge) برانڈ کی شناخت سے گہرا تعلق رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسٹن مارٹن اس اپیل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

ایسٹن مارٹن نے کیس اپیل کے لیے پیش کر دیا

رپورٹس کے مطابق، ایسٹن مارٹن نے 13 اپریل 2026 کو لندن کی ہائی کورٹ میں اپنی اپیل دائر کی۔ یہ تنازع اگست 2022 میں شروع ہوا تھا جب جیلی نے تین لوگو رجسٹر کروانے کی درخواست دی تھی، جس کی ایسٹن مارٹن نے جنوری 2023 میں مخالفت کی تھی۔

مارچ 2026 میں آنے والا پہلا فیصلہ ایسٹن مارٹن کے خلاف رہا اور جیلی سے وابستہ درخواستوں کو آگے بڑھنے کی اجازت مل گئی۔ اب ایسٹن مارٹن اپیل کے عمل کے ذریعے اس فیصلے کو تبدیل کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایسٹن مارٹن پہلا چیلنج کیوں ہاری؟

برطانوی انٹلیکچوئل پراپرٹی آفس کے ابتدائی فیصلے میں یہ پایا گیا کہ ایسٹن مارٹن کے پروں والے نشانات اور جیلی کے متنازع ڈیزائنز کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ غلط فہمی (Confusion) کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ٹریبونل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پروں والے بیجز پہلے ہی کئی کار برانڈز استعمال کر رہے ہیں، جن میں بینٹلے اور منی (Mini) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایسٹن مارٹن کو جیلی کو ہرجانے کے طور پر 2,200 پاؤنڈ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

اب یہی نکتہ اپیل کی بنیاد ہے۔ ایسٹن مارٹن درحقیقت اس نظریے کو چیلنج کر رہی ہے کہ یہ لوگو مارکیٹ میں الجھن سے بچنے کے لیے کافی حد تک مختلف ہیں۔

جیلی کی شیئر ہولڈنگ اس کیس کو غیر معمولی کیوں بناتی ہے؟

اس کیس کو جو چیز مزید دلچسپ بناتی ہے وہ ان کے درمیان کارپوریٹ تعلقات ہیں۔ جیلی نے 2023 میں ایسٹن مارٹن میں اپنا حصہ بڑھا کر تقریباً 17 فیصد کر دیا تھا، جس سے وہ برطانوی کار ساز کمپنی کے سب سے بڑے شیئر ہولڈرز میں سے ایک بن گئی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسٹن مارٹن ایک ایسی کمپنی کے خلاف ٹریڈ مارک کیس لڑ رہی ہے جس کا خود اس کے اپنے کاروبار میں مالی حصہ ہے۔ یہ ایک عجیب و غریب صورتحال ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس تنازع نے ٹریڈ مارک قانون سے ہٹ کر بھی وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے۔

اگے کیا ہوگا؟

اب یہ کیس برطانوی عدالتوں میں اگلے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، اور حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ فی الحال، جیلی سے وابستہ متنازع لوگو کی درخواستوں پر کوئی حتمی تصفیہ نہیں ہوا ہے۔

جب تک کوئی نیا فیصلہ نہیں آ جاتا، ان لوگو کی مستقبل کی حیثیت کے بارے میں سرکاری تصدیق زیرِ التوا رہے گی۔

قومی اور بین الاقوامی آٹوموبائل خبروں سے باخبر رہنے کے لیے پاک ویلز (Pakwheels) کے بلاگز پڑھتے رہیں۔ تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے ہمیں گوگل نیوز پر بھی فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel