آٹو سیکٹر کے لیے بہترین آغاز: جنوری 2026 میں آٹو فنانسنگ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کے لیے نئے سال کا آغاز انتہائی مثبت رہا ہے۔ جنوری 2026 میں صارفین کی جانب سے گاڑیوں کے لیے حاصل کردہ بینک قرضوں (آٹو فنانسنگ) کی مالیت 328 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ تین سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات روپے کی قدر میں استحکام اور شرح سود کا بہتر ہونا ہیں، جس سے عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر ترقی
یہ حالیہ تیزی محض سالانہ بنیادوں پر نہیں بلکہ ماہانہ کارکردگی میں بھی واضح ہے۔ دسمبر 2025 میں آٹو فنانسنگ کا کل حجم 319 ارب روپے تھا، جو جنوری میں بڑھ کر 328 ارب روپے ہو گیا۔ یہ 2.8 فیصد کا ماہانہ اضافہ صارفین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور بینکوں کی جانب سے قرضوں کی آسان شرائط کی عکاسی کرتا ہے۔
بحالی کا طویل سفر
گاڑیوں کے شعبے میں یہ بہتری ایک طویل مندی کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔ آخری بار آٹو لونز کا اتنا بڑا حجم جنوری 2023 میں دیکھا گیا تھا جب یہ 332 ارب روپے تھا، لیکن اس کے بعد مہنگائی، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور کمزور قوتِ خرید کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل گراوٹ کا شکار رہی۔
مارکیٹ میں تبدیلی کا رجحان اکتوبر 2024 سے شروع ہوا جب اس شعبے نے زوال کے بعد دوبارہ ترقی کی راہ اپنائی۔ تب سے اب تک یہ سفر سست مگر مستقل مزاجی سے جاری ہے، جو اب تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
آٹو فنانسنگ کیا ہے؟
عام فہم زبان میں آٹو فنانسنگ سے مراد وہ قرضے ہیں جو صارفین بینکوں سے گاڑیاں خریدنے کے لیے حاصل کرتے ہیں۔ گاڑی کی پوری قیمت یکمشت ادا کرنے کے بجائے، گاہک بینک سے رقم ادھار لیتا ہے اور اسے ماہانہ اقساط کی صورت میں ایک مقررہ مدت میں واپس کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) ہر ماہ اس ڈیٹا کو جاری کرتا ہے۔
یہ اعداد و شمار کیا ظاہر کرتے ہیں؟
آٹو فنانسنگ کے اعداد و شمار معیشت کے اہم اشارے ہوتے ہیں:
-
جب حجم کم ہوتا ہے: تو یہ معاشی تنگی کی علامت ہوتا ہے۔ بلند شرح سود اور گاڑیوں کی آسمان چھوتی قیمتیں صارفین کو قرض لینے سے روکتی ہیں۔
-
جب حجم بڑھتا ہے (جیسا کہ اب ہو رہا ہے): تو یہ معاشی بحالی کی مضبوط علامت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرض لینے کی لاگت (مارک اپ) کم ہو رہی ہے، مہنگائی میں استحکام آ رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صارفین کی قوتِ خرید اور مارکیٹ پر ان کا اعتماد واپس آ رہا ہے۔

تبصرے بند ہیں.