حکومتِ بلوچستان نے فنانس ایکٹ دو ہزار پچیس کے تحت رینٹ اے کار اور گاڑیوں کے کرایے کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں پر آٹھ فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے قانون کا مقصد صوبائی آمدنی میں اضافہ کرنا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔
نئے ٹیکس کے اہم نکات اور اثرات:
-
لازمی رجسٹریشن: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے تمام رینٹ اے کار کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر اتھارٹی کے پاس رجسٹر ہوں اور باقاعدگی سے ٹیکس ریٹرن جمع کروائیں۔
-
کرایوں میں اضافہ: چونکہ سیلز ٹیکس ایک بلاواسطہ ٹیکس ہے، اس لیے رینٹل کمپنیاں یہ بوجھ صارفین پر ڈالیں گی، جس سے سیاحت اور کاروباری سفر کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔
-
سخت قانونی کارروائی: بی آر اے کی معائنہ ٹیموں نے غیر رجسٹرڈ آپریٹرز کی نشاندہی کے لیے کمرشل مراکز کے دورے شروع کر دیے ہیں۔ ٹیکس چوری کرنے والی کمپنیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
-
ترقیاتی مقاصد: حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقم صوبے میں بنیادی ڈھانچے، صحت اور تعلیم کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
صارفین کے لیے پیغام:
کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں میں رینٹ اے کار سروس استعمال کرنے والے افراد اب کرایوں میں معمولی اضافے کے لیے تیار رہیں۔ کمپنیوں کے لیے اب لازم ہے کہ وہ اپنے تمام لین دین کا ریکارڈ رکھیں اور حکومتی قواعد و ضوابط کی پاسداری کریں۔

تبصرے بند ہیں.