پاکستان میں الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی فراہم کرنے والی اسکیم کو ایک بڑی رکاوٹ کا سامنا ہے، اور یہ مسئلہ خریداروں کی دلچسپی کی کمی نہیں، بلکہ بینکوں کی جانب سے منظوری نہ ملنا ہے۔
حکومتی الیکٹرک بائیک فنانسنگ اسکیم کے تحت موصول ہونے والی 44,689 درخواستوں میں سے کمرشل بینکوں نے صرف 4,075 کی منظوری دی۔ اس کا مطلب ہے کہ ای-بائیک کی تقریباً 91 فیصد درخواستیں مسترد کر دی گئیں، جس کے بعد حکومت اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔
پالیسی میں ان تبدیلیوں کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے “پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفیکیشن پروگرام” کے تحت دی ہے۔
مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟
حکومت نے سبسڈی کے ذریعے الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کو فروغ دینے کے لیے یہ اسکیم شروع کی تھی تاکہ الیکٹرک اور پیٹرول گاڑیوں کے درمیان قیمت کے فرق کو کم کیا جا سکے۔
تاہم، بینکوں نے مطلوبہ رفتار سے درخواستوں پر کارروائی نہیں کی۔ بینکوں کو بھیجی گئی 44,689 درخواستوں میں سے صرف 9,889 پر کام ہوا اور محض 4,075 منظور ہوئیں۔ رواں مالی سال کے لیے 119,000 سے زائد الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کا ہدف رکھا گیا تھا، لیکن اب تک صرف 5,409 کی منظوری مل سکی ہے، جو کہ ہدف کا محض 4.5 فیصد ہے۔
حکومت اب بینکوں کا کردار کم کرنا چاہتی ہے
بینکوں کے مایوس کن ردعمل کے بعد حکومت نے اگلے مرحلے میں “سیلف فنانس” (ذاتی سرمایہ کاری) اور سپلائر پر مبنی آپشنز کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے منصوبے کے تحت، درخواست گزار براہِ راست سپلائر سے الیکٹرک گاڑی حاصل کر سکیں گے، جہاں انہیں مقررہ قیمت میں سے سبسڈی کی رقم منہا کر کے بقایا رقم ادا کرنا ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ خریداروں کو پوری رقم پہلے جمع کروا کر واپسی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
حکومت گریڈ 16 اور اس سے کم کے وفاقی ملازمین کے لیے ایک علیحدہ سیلف فنانس اسکیم بھی متعارف کروا رہی ہے۔ اس آپشن کے تحت مینوفیکچرر محض 10,000 روپے کی پیشگی ادائیگی پر الیکٹرک بائیک ڈیلیور کرے گا، جبکہ رکشوں اور لوڈرز کے لیے یہ پیشگی ادائیگی 1,00,000 روپے ہوگی۔
سیلف فنانس کا ماڈل بینکوں سے بہتر رہا
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکومت اپنا رخ کیوں بدل رہی ہے۔ جہاں بینکوں نے صرف 9 فیصد درخواستیں منظور کیں، وہیں سیلف فنانس کا راستہ بہت کامیاب رہا۔ 1,339 سیلف فنانس درخواست گزاروں میں سے 1,334 کو الیکٹرک بائیکس مل گئیں اور 1,033 کے اکاؤنٹس میں سبسڈی کی رقم بھی منتقل کر دی گئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ طلب موجود ہے، لیکن بینک فنانسنگ کا ماڈل اسکیم کو سست کر رہا ہے۔
مزید الیکٹرک بائیکس کا منصوبہ
حکومت اگلے تین ماہ کے اندر ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے لیے پاکستان میں پہلے سے موجود CKD کٹس استعمال کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے تحت مینوفیکچررز کو فی بائیک 80,000 روپے سبسڈی دی جائے گی، جو رجسٹریشن اور ڈیلیوری کے ثبوت سے مشروط ہوگی۔ حکام کا اندازہ ہے کہ اس سے تین ماہ میں 86 لاکھ لیٹر پیٹرول اور پانچ سالوں میں تقریباً 222 ملین ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
یہ اسکیم پیٹرول اور ڈیزیل استعمال کرنے والوں سے جمع کیے گئے “کلائمیٹ سپورٹ لیوی” کے ذریعے فنڈ کی جا رہی ہے۔ عوام پہلے ہی 2.5 روپے فی لیٹر ادا کر رہے ہیں، جو جولائی سے دوگنا ہونے کی توقع ہے۔ لہٰذا، اگر عوام پیٹرول کے ذریعے ای وی کے لیے رقم ادا کر رہے ہیں، تو پروگرام کو صرف فائلوں تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں پر الیکٹرک بائیکس لانی چاہئیں۔
پاک ویلز کی رائے
حکومتی ای-بائیک اسکیم کا مقصد درست ہے، لیکن اس کے نفاذ کا طریقہ کار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر بینک اکثر درخواستیں مسترد کر رہے ہیں، تو واضح ہے کہ فنانسنگ کا یہ ماڈل عام خریدار کے لیے کام نہیں کر رہا۔ سیلف فنانس اور سپلائر پر مبنی ڈیلیوری کی طرف منتقلی مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ عمل شفاف اور تیز ہو۔
خریداروں کے لیے مشورہ یہ ہے کہ بینک کی منظوری کو یقینی نہ سمجھیں۔ PAVE پروگرام کے نئے آپشنز پر نظر رکھیں، اپنی اہلیت چیک کریں اور کسی کو بھی رقم ادا کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کریں۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.