اگرچہ حکومت نے ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) میں 2% کی معمولی کمی کر کے کچھ ریلیف دینے کا تاثر دیا ہے، لیکن 40% فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کے جارحانہ نفاذ نے اس معمولی رعایت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ آفیشل ڈیٹا کے مطابق ٹیکسز کا موازنہ کچھ یوں ہے:
| ڈیوٹی / ٹیکس کا جزو (Tax Component) | موجودہ ٹیکس اسٹرکچر | نیا مجوزہ ٹیکس اسٹرکچر | خالص فرق (Net Difference) |
| مجموعی تخمینی ڈیوٹیز اور ٹیکس | 2.3 کروڑ روپے | 4.0 کروڑ روپے | +1.7 کروڑ روپے (اضافہ) 🔺 |
| ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) | 6% | 4% | -2% (معمولی کمی) |
| فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) | 0% | 40% | +40% (نیا ٹیکس) |
ٹیکس پر ٹیکس کا اہرام (The Compounding Tax Pyramid)
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ‘40% ٹیکس’ کا مطلب گاڑی کی اصل قیمت میں صرف 40 فیصد کا اضافہ ہے۔ لیکن پاکستان کا کسٹمز امپورٹ سسٹم ایک اہرام (Pyramid) کی طرح کام کرتا ہے جہاں ٹیکس کے اوپر ٹیکس لگایا جاتا ہے:
-
بنیاد (Base Value): سب سے پہلے کسٹمز حکام پورٹ پر گاڑی کی اصل قیمت، بحری کرایہ اور انشورنس ملا کر ایک ‘Assessed Value’ طے کرتے ہیں۔
-
پہلی تہہ: اس بنیادی قیمت پر کسٹمز ڈیوٹی (Customs Duty) لاگو ہوتی ہے۔
-
نئے FED کا ہٹ: اب یہ نیا 40% فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) ٹیکس گاڑی کی اصل قیمت پر نہیں لگے گا، بلکہ یہ کسٹمز ڈیوٹی لگنے کے بعد حاصل ہونے والی مجموعی رقم پر کیلکولیٹ ہوگا۔
چونکہ یہ ٹیکس پہلے سے بڑھی ہوئی رقم پر ضرب کھاتا ہے، اس لیے اس کا حتمی روپیہ امپیکٹ 1.7 کروڑ روپے کے ریکارڈ اضافے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
بی ایم ڈبلیو i7 کے خریدار اس ٹیکس سے کیوں نہیں بچ سکتے؟
پٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے خریدار اکثر کم انجن کپیسیٹی (cc) یا لوئر ٹرمز (Lower Trims) پر شفٹ ہو کر بجٹ کے جھٹکے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن BMW i7 کے معاملے میں چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے:
-
انجن سلیب کا کوئی لوپ ہول نہیں: روایتی گاڑیوں کے برعکس، یہ نیا 40% FED ایک بلینکٹ ٹیکس (Blanket Tax) ہے جو انجن سائز کے بجائے گاڑی کی کل امپورٹ ویلیو (اگر 3 کروڑ روپے سے زائد ہو) پر لاگو ہوتا ہے۔
-
ہر ویرینٹ پر نفاذ: آپ بی ایم ڈبلیو i7 کا بیس ماڈل امپورٹ کریں یا فل آپشن ویرینٹ، یہ کروڑوں روپے کا ٹیکس جمپ ہر ایک پر یکساں لاگو ہوگا۔
-
گرین انوائرمنٹ مراعات کا خاتمہ: پاکستان کی سڑکوں پر ‘گرین انرجی سستی امپورٹ’ کے نام پر پریمیم الیکٹرک کاریں رعایت کے ساتھ لانے کا سنہری دور اب باقاعدہ ختم ہو چکا ہے۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The PakWheels Verdict)
پچھلے دو سالوں میں پاکستان کے اشرافیہ اور امپورٹرز نے الیکٹرک گاڑیوں پر موجود زیرو فیصد FED کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جس کی وجہ سے BMW i7 پاکستانی سڑکوں پر اسٹیٹس سمبل بن گئی۔
تاہم، صرف ایک گاڑی پر حکومت کے ٹیکس ریونیو میں 1.7 کروڑ روپے کا اضافہ ہونے سے، اب اس کار کی فائنل انوائس پرائس تمام پچھلے ریکارڈ توڑ دے گی۔ حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب ماحول دوست لگژری کروزرز ہوں یا بڑی روایتی پٹرول ایس یو ویز، عیاشی کی ہر چیز پر برابر کا بھاری ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
وفاقی بجٹ 2026-27 کے آفیشل ایف بی آر نوٹیفیکیشنز اور نئی قیمتوں کی لائیو اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ کے ساتھ جڑے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.