بجٹ 2026 اور پیٹرول گاڑیوں کا مستقبل: سنیل منج کا تجزیہ

21

جیسے جیسے نئے مالیاتی بجٹ کا وقت قریب آ رہا ہے، پاکستان کی پوری آٹو انڈسٹری شدید دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے۔ ہر کوئی یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے کہ بجٹ کے حتمی اعداد و شمار کیا ہوں گے۔ حال ہی میں، پاک ویلز کے کو-فاؤنڈر سنیل منج نے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر ممکنہ ٹیکسز اور آٹو مارکیٹ پر اس کے اثرات کے حوالے سے اپنے جاندار تجزیے کا اظہار کیا ہے۔

اندرونی ذرائع اور رپورٹس کے مطابق، حکومت اس بجٹ میں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر سخت وار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے، بھاری جی ایس ٹی (GST) اور ممکنہ طور پر %10 سے %19.5 تک کے اضافی لیویز کے ذریعے روایتی گاڑیوں کو عام آدمی کی پہنچ سے انتہائی دور کیا جا رہا ہے۔

لیکن اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے سنیل منج نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے: کیا حکومت کی یہ پالیسی زمینی حقائق پر مبنی ہے، یا ہم صرف عام آدمی کو سزا دے رہے ہیں اور اپنے ملک کے جغرافیے کو نظر انداز کر رہے ہیں؟

آئیے سنیل منج کے اس تجزیے کے اہم نکات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

پاکستان کے پہاڑی علاقوں کا دارومدار اب بھی پیٹرول/ڈیزل گاڑیوں پر ہے

سنیل منج کے مطابق، پاکستان کا شمالی بیلٹ اور پہاڑی علاقے اپنی مخصوص جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے مکمل طور پر روایتی انجن (ICE) والی گاڑیوں پر منحصر ہیں۔ کاغذ پر تو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ سب کو الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی طرف منتقل کر دیا جائے، لیکن یہ تھیوری تب ناکام ہو جاتی ہے جب آپ حقیقت میں پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں۔

مستقبل کے بجٹ میں امپورٹ ڈیوٹی، جی ایس ٹی اور اضافی ٹیکسوں کی جو خبریں آ رہی ہیں، وہ ان علاقوں میں استعمال ہونے والی ہیوی ڈیوٹی (4×4) اور تجارتی گاڑیوں کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان یا آزاد کشمیر جیسے علاقوں میں الیکٹرک کاریں (EVs) فی الحال ڈیزل یا ہیوی پیٹرول گاڑیوں کا متبادل نہیں بن سکتیں:

  • پاور اور رینج کا مسئلہ: بھاری ڈیزل 4×4 گاڑیاں اور کمرشل ٹرک شدید چڑھائیوں اور بھاری وزن اٹھانے کے لیے بنے ہیں۔ شدید سردی کے موسم میں الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں اپنی طاقت تیزی سے کھو دیتی ہیں، جس سے ان کی رینج آدھی رہ جاتی ہے۔

  • چارجنگ انفراسٹرکچر کا نہ ہونا: اگر پہاڑی راستوں پر کسی ڈیزل گاڑی کا فیول ختم ہو جائے، تو آپ کین سے پٹرول ڈال کر سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ لیکن جہاں میلوں تک بجلی کا نام و نشان نہ ہو، وہاں آپ الیکٹرک کار کو چارج نہیں کر سکتے۔

سنیل کا ٹیک: “ہمیں اپنی زندگیوں میں روایتی انجنوں (ICE) کی ضرورت ہے۔ ہیوی ڈیوٹی پرفارمنس اور پہاڑی علاقوں کے لیے الیکٹرک گاڑیاں اس طرح کام نہیں کر سکتیں جیسے ہمارے روایتی انجن کرتے ہیں۔”

موٹرسائیکل سوار بھی بجٹ کے دباؤ کی زد میں

ٹیکسوں کی اس دوڑ میں صرف کاریں خریدنے والے ہی متاثر نہیں ہو رہے، بلکہ مڈل کلاس، نوکری پیشہ افراد اور سٹوڈنٹس جو موٹرسائیکل استعمال کرتے ہیں، وہ بھی ان مسلسل ٹیکسوں اور لیویز کی وجہ سے شدید دباؤ میں ہیں۔

یہ وہ عام شہری ہیں جو پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم موجودگی کی وجہ سے مجبوری میں 70cc یا 125cc بائیکس چلاتے ہیں۔ لیکن پٹرول پمپ پر پہنچ کر انہیں بدترین مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پٹرول کی اصل قیمت اور اس پر لگے بے شمار ٹیکسوں کو ملا کر، ایک عام شہری کو اپنے بنیادی دو پہیہ گاڑی کو چلانے کے لیے فی لیٹر مجموعی طور پر 250 سے 300 روپے تک کا بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

 پٹرولیم لیوی کو دوگنا کرنے کی رپورٹس

عوام کی مشکلات کو مزید بڑھانے کے لیے بجٹ سے قبل ایسی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں جن کے مطابق کاربن/پٹرولیم لیوی کے ہدف کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

اگر ہم ماضی کی تاریخ دیکھیں، تو یہ مخصوص کاربن/پٹرولیم لیوی شروع میں صرف 2.5 روپے فی لیٹر کے معمولی ریٹ پر متعارف کرائی گئی تھی۔ اب آنے والے بجٹ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ حکومت اس رقم کو دوگنا کر کے سیدھا 5 روپے فی لیٹر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ بظاہر 2.5 سے 5 روپے کا فرق چھوٹا لگتا ہے، لیکن جب اسے پہلے سے موجود دیگر بھاری ٹیکسوں میں شامل کیا جائے، تو یہ عام شہری کی جیب پر ایک بہت بڑا بوجھ بن جاتا ہے۔

پاک ویلز کا حتمی فیصلہ 

ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کی طرف جانا ایک اچھا ہدف ہے، لیکن روایتی انجنوں پر اندھا دھند بھاری ٹیکس لگانا فوری طور پر نئے مسائل کھڑے کر دے گا۔ یہ حکمت عملی براہِ راست ہمارے شمالی علاقوں کی معیشت کو متاثر کرے گی جو اپنی بقا کے لیے ان گاڑیوں پر منحصر ہیں، اور ساتھ ہی روزانہ موٹرسائیکل پر سفر کرنے والے غریب مسافروں کی زندگی مزید مشکل بنا دے گی۔

بجٹ 2026-27 کی تمام لائیو اپڈیٹس، ٹیکسوں کی تفصیلات اور آٹو مارکیٹ کی خبروں کے لیے گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel