دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں کی سب سے بڑی کمپنی BYD نے پاکستان میں درآمد کنندہ سے مقامی اسمبلر بننے کا بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ میگا موٹر کمپنی کے اشتراک سے کراچی کے قریب ایک جدید اسمبلی پلانٹ لگانے کا منصوبہ ہے، جس سے پاکستانی آٹو مارکیٹ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
نکی ایشیا کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں BYD کی آفیشل پارٹنر، میگا موٹر کمپنی کے وائس پریذیڈنٹ برائے سیلز اینڈ اسٹریٹیجی، دانش خالق نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کو تقریباً 15 کروڑ ڈالر (150 ملین ڈالر) کی سرمایہ کاری حاصل ہے اور اس کا ہدف جولائی سے اگست 2026 تک آپریشنز (پیداوار) کا باقاعدہ آغاز کرنا ہے۔
اسمبلی پلانٹ اور سرمایہ کاری کی تفصیلات
میگا موٹر کمپنی (BYD کی آفیشل پارٹنر) کے مطابق، اس منصوبے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
-
سرمایہ کاری: تقریباً 15 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم۔
-
آغاز کا وقت: پلانٹ میں کام کا آغاز جولائی تا اگست 2026 کے درمیان متوقع ہے۔
-
پیداواری صلاحیت: سالانہ تقریباً 25,000 گاڑیاں (ڈبل شفٹ میں)۔
-
ٹیکنالوجی: اس پلانٹ میں صرف مکمل الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں اسمبل کی جائیں گی۔
جاپانی اجارہ داری کے لیے خطرہ
پاکستان کی کار مارکیٹ پر دہائیوں سے ٹویوٹا، سوزوکی اور ہونڈا کا قبضہ رہا ہے۔ لیکن BYD کی مقامی آمد ان برانڈز پر درج ذیل حوالوں سے دباؤ بڑھائے گی:
-
قیمت میں کمی: مقامی اسمبلی سے ڈیوٹیز کم ہوں گی، جس سے گاڑیوں کی قیمتیں خریدار کی پہنچ میں آ سکیں گی۔
-
جدید فیچرز: چینی برانڈز ADAS (حفاظتی نظام) اور جدید انفوٹینمنٹ سسٹم جیسے فیچرز میں جاپانی گاڑیوں سے آگے نکل رہے ہیں۔
-
ٹیکنالوجی کی رفتار: جاپانی کمپنیوں کے پرانے ماڈلز کے مقابلے میں BYD جیسے برانڈز تیزی سے نئے ماڈلز متعارف کرواتے ہیں۔
چینی برانڈز کا بڑھتا ہوا مقابلہ
BYD ایک ایسی مارکیٹ میں آ رہا ہے جہاں پہلے ہی کئی چینی کمپنیاں اپنی جگہ بنا چکی ہیں:
-
چیری : ٹگو 8 کی کامیابی کے بعد آج ٹگو 9 لانچ کی جا رہی ہے۔
-
جیٹور : یونائیٹڈ گروپ کے ساتھ مقامی اسمبلی کی تیاری میں ہے۔
-
جیکو اور اومودا : نشاط گروپ کے ذریعے مقامی اسمبلی کا منصوبہ۔
-
ڈیپل : چنگان کے اشتراک سے مارکیٹ میں داخل ہو چکا ہے۔
حکومتی پالیسی اور مستقبل کا وژن
حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت کی آٹو پالیسی (2021-26) نئے کھلاڑیوں کو پرزوں کی درآمد پر 20 فیصد تک رعایت دے رہی ہے۔ پاکستان کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں فروخت ہونے والی 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں۔
خلاصہ:
اگر BYD اپنے شیڈول کے مطابق 2026 کے آخر تک مقامی اسمبل شدہ گاڑیاں سڑکوں پر لے آتا ہے، تو یہ پاکستان میں ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کے خاتمے کی شروعات ثابت ہو سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ BYD اپنی قیمتوں کو کتنا پرکشش رکھتا ہے اور چارجنگ نیٹ ورک کتنی تیزی سے پھیلاتا ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.