پراڈو جیسا آرام اور رپٹر لُک: BYD Shark 6 کا تفصیلی جائزہ۔
جب بھی پاکستان کی سڑکوں پر ایک طاقتور، رعب دار اور اسٹیٹس سمبل سمجھی جانے والی پک اپ ٹرک (جسے مقامی زبان میں ڈالا کہا جاتا ہے) کا خیال آتا ہے، تو ذہن میں سب سے پہلا نام ٹویوٹا ہیلکس ریوو کا آتا ہے۔ لیکن اب مارکیٹ میں ایک نیا شکاری آ چکا ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے ایم بی بی ایس (MBBS) کے فائنل ایئر کے طالب علم، سرمد جاوید نے حال ہی میں اپنی بھروسے مند ریوو کو الوداع کہہ کر ایک مستقبل مزاج گاڑی یعنی BYD Shark 6 (2026 ماڈل) خریدنے کا فیصلہ کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر بھاری استعمال اور اوڈومیٹر پر 6,400 کلومیٹر سے زیادہ کا سفر طے کرنے کے بعد، سرمد نے اس گاڑی کا ایک ایماندارانہ اور بے باک ریویو شیئر کیا ہے۔
کیا یہ پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (PHEV) پاکستان کی آٹو مارکیٹ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگی، یا اس کے ساتھ کچھ سمجھوتے بھی کرنے پڑیں گے؟ آئیے جانتے ہیں۔
قیمت اور 1.5L انجن کا خوف
پہلے بات کرتے ہیں پیسوں کی! BYD Shark 6 کی ایکس فیکٹری قیمت تقریباً 2 کروڑ روپے کے آس پاس تھی، لیکن بھاری ٹیکسز اور پنجاب کی رجسٹریشن شامل کرنے کے بعد یہ گاڑی سڑک پر 2 کروڑ 56 لاکھ روپے کی پڑی۔
جب سرمد نے پہلی بار یہ گاڑی بک کروائی، تو ان کے ذہن میں وہی سوال تھا جو کسی بھی روایتی ڈالے کے مالک کے ذہن میں آتا ہے:
“ایک چھوٹا سا 1.5L انجن اتنے بڑے ڈالے کا وزن کیسے کھینچے گا، جو دیکھنے میں ریوو سے بھی بڑا ہے؟”
یہیں پر BYD کی جدید PHEV ٹیکنالوجی اپنا جادو دکھاتی ہے:
-
بیٹری ہی سب کچھ ہے: اس گاڑی کا اصل پاور ہاؤس اس کی 30 kWh کی الیکٹرک بیٹری ہے۔ 1.5L کا انجن بنیادی طور پر صرف ایک جنریٹر کا کام کرتا ہے جو بیٹری کو چارج رکھتا ہے۔
-
چارج ختم ہونے کا کوئی ڈر نہیں: اس کی بیٹری کبھی بھی صفر (0%) پر نہیں جاتی۔ جیسے ہی بیٹری 25% پر پہنچتی ہے، گاڑی خود بخود EV (الیکٹرک) سے HV (ہائبرڈ) موڈ پر شفٹ ہو جاتی ہے۔ اگر چارج 20% کے قریب پہنچے تو انجن اسٹارٹ ہو کر بیٹری کو دوبارہ 25% پر لے آتا ہے۔ یعنی آپ کو رینج ختم ہونے کی فکر کیے بغیر الیکٹرک گاڑی کا بہترین ٹارک ملتا ہے۔
ایکسٹیریئر اور انٹیریئر: رپٹر لُک اور فائٹر جیٹ وائبز
باہر سے دیکھا جائے تو شارک 6 کا بھاری اور چورس ڈیزائن مشہورِ زمانہ فورڈ رپٹر سے کافی ملتا جلتا ہے۔ اسے مزید خطرناک لُک دینے کے لیے سرمد نے اسے ‘آل بلیک تھیم’ میں تبدیل کروایا، جس میں رمز، سامنے کا BYD مونوگرام اور بمپر کی ٹرم کو بلیک آؤٹ کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سفر کے دوران سامان کی حفاظت کے لیے پیچھے ایک پریکٹیکل ٹرنک لِڈ کور بھی لگوایا۔
اندر قدم رکھتے ہی دنیا بالکل بدل جاتی ہے۔ ریوو سے موازنہ کرتے ہوئے سرمد نے کھل کر کہا:
“شارک 6 کے مقابلے میں ریوو کی سیٹیں کسی لوکل بس کی سیٹوں جیسی محسوس ہوتی ہیں۔”
گاڑی کا انٹیریئر جدید ڈیزائن اور اسپورٹی بلیک اور اورنج کلر کی پریمیم مکسنگ کا بہترین شاہکار ہے۔ سینٹر کنسول پر فائٹر جیٹ سے متاثر ہو کر بنایا گیا گیئر نوب دیا گیا ہے۔
صرف وہ لوگ جو پرانے بٹن پسند کرتے ہیں، انہیں تھوڑی مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی گھومنے والی آئی پیڈ جیسی بڑی اسکرین سے ہی اے سی (AC) سمیت سب کچھ کنٹرول ہوتا ہے۔ تاہم، BYD نے اس میں کچھ اچھے شارٹ کٹس دیے ہیں، جیسے اسکرین پر تین انگلیوں کو اوپر نیچے کر کے درجہ حرارت اور دائیں بائیں کر کے ہوا کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔
فیول اکانومی: ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں سے نجات
موجودہ دور میں جہاں ڈیزل کی قیمتوں نے ڈالے کے مالکان کی جیبیں خالی کر رکھی ہیں، شارک 6 ایک بڑا مالی مددگار ثابت ہوئی ہے۔ سرمد روزانہ لاہور رنگ روڈ کے ذریعے 40 سے 45 کلومیٹر کا سفر کرتے ہیں۔
فیول اور بیٹری پرفارمنس کی تفصیل:
| ڈرائیونگ موڈ | اصل پرفارمنس اور رینج | فیول ایوریج |
| پیور EV موڈ (صرف بجلی) | فل چارج پر 75 سے 85 کلومیٹر (AC اور اسپیڈ کے حساب سے) | بالکل مفت (گھر کے سولر پینلز سے چارجنگ) |
| HV موڈ (خالی بیٹری کے ساتھ) | ہائی وے پر 110 کلومیٹر/گھنٹہ کی رفتار پر | 9 سے 10 کلومیٹر فی لیٹر |
| HV موڈ (فل چارج + فل ٹینک) | ہائی وے پر طویل سفر کے دوران | 11 سے 12 کلومیٹر فی لیٹر |
سرمد بتاتے ہیں کہ 3 مہینوں کے شدید استعمال کے دوران انہیں صرف 3 یا 4 بار پٹرول کا ٹینک فل کروانا پڑا۔ چونکہ ان کے گھر پر سولر پینل لگے ہوئے ہیں، اس لیے بجلی کے بل پر بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
رائڈ کوالٹی: ڈالے کی شکل میں پراڈو جیسا آرام!
روایتی پک اپ ٹرکس اپنی سخت کمانی والی پچھلی سسپنشن کی وجہ سے بدنام ہیں، جس کی وجہ سے پچھلی سیٹ پر بیٹھنا کسی سزا سے کم نہیں ہوتا۔ لیکن شارک 6 نے اس سوچ کو بدل دیا ہے۔
اس کی پچھلی سیٹیں 90 ڈگری کے بجائے ایک آرام دہ زاویے پر جھکی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے تین بالغ افراد لمبا سفر بھی آسانی سے طے کر سکتے ہیں۔ ڈرائیور کی سیٹ 12 طریقوں سے ایڈجسٹ ہو سکتی ہے، جس میں ہیٹنگ، وینٹیلیشن اور کمر کو سہارا دینے کا فیچر بھی موجود ہے۔
اس بھاری گاڑی کو سنبھالنا حیرت انگیز طور پر بہت آسان ہے۔ سرمد نے اس کی سسپنشن کا موازنہ براہِ راست ٹویوٹا پراڈو سے کیا، جو کہ انتہائی نرم اور پریمیم ہے اور دیہات کے کچے راستوں کے جھٹکوں کو آرام سے جذب کر لیتی ہے۔ گاڑی میں باڈی رول (موڑ پر جھکاؤ) بہت کم ہے اور کیبن کی انسولیشن اتنی کمال ہے کہ سڑک اور ٹائروں کا شور اندر بالکل نہیں آتا۔
کچھ خامیاں اور روزمرہ کے مسائل
کوئی بھی گاڑی سو فیصد پرفیکٹ نہیں ہوتی۔ سرمد نے تین ایسے اہم مسائل کی نشان دہی کی جو ہر خریدار کو معلوم ہونے چاہئیں:
1. گرمیوں کی شدید تپش
لاہور کی کڑکتی دھوپ میں جب گاڑی کھلی جگہ پر کھڑی ہو، تو اندر کا آل بلیک لیدر انٹیریئر شدید گرم ہو جاتا ہے اور حبس کا احساس دلاتا ہے۔ اے سی کو کیبن ٹھنڈا کرنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے۔ سرمد اس کا حل یہ نکالتے ہیں کہ وہ ہسپتال کے وارڈ سے نکلنے سے 10 منٹ پہلے ہی BYD موبائل ایپ کے ذریعے گاڑی کا اے سی اور سیٹ وینٹیلیشن آن کر دیتے ہیں۔
2. ADAS اور پاکستانی ٹریفک
گاڑی کا ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹم (ADAS) جہاں موٹر وے پر بہترین ہے، وہاں شہر کی ٹریفک میں کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ اگر کوئی موٹر سائیکل والا گول چکر پر اچانک سامنے آ جائے، تو اس کا آٹو بریکنگ سسٹم اتنی زور سے بریک لگاتا ہے کہ پیچھے سے آنے والی ٹریفک کے گاڑی میں لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
-
پاکستانی جگاڑ: سرمد نے دریافت کیا کہ اگر شہر میں ڈرائیو موڈ کو ‘Sand’ (ریت) یا ‘Snow’ (برف) پر سیٹ کر دیا جائے، تو یہ سسٹم آٹو بریکنگ کی سختی کو خود بخود ختم کر دیتا ہے۔
3. چائنیز گاڑیوں کا سب سے بڑا مسئلہ: پارٹس کی عدم دستیابی
یہ اس گاڑی کا سب سے بڑا ریڈ فلیگ ہے۔ ایک بار پارکنگ میں سرمد کی گاڑی کی بائیں سائیڈ کی ٹیل لائٹ کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ جب انہوں نے BYD لاہور سے رابطہ کیا تو انہیں صرف ایک لائٹ کی قیمت 54,000 روپے بتائی گئی اور ساتھ ہی 1 ماہ کا ویٹنگ ٹائم دیا گیا۔ سرمد نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر یہی کام ریوو کا ہوتا تو میکلوڈ روڈ سے صرف 700 روپے میں شیشہ مل جاتا!
فائنل فیصلہ: کیا یہ گاڑی خریدنی چاہیے؟
پنجاب میں اس گاڑی کی رجسٹریشن پر تقریباً 4 لاکھ 75 ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے (جس میں پسند کا نمبر بھی شامل ہے)۔ جہاں تک ری سیل ویلیو کا تعلق ہے، تو سرمد کو اس کی زیادہ فکر نہیں ہے۔ اگرچہ انہوں نے یہ گاڑی انویسٹمنٹ کے لیے نہیں خریدی، لیکن سڑک پر اس گاڑی کی زبردست ڈیمانڈ اور لوگوں کی توجہ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسے مارکیٹ میں بیچنا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔
ہمارا نتیجہ: اگر آپ کے گھر پر پہلے سے سولر پینل سسٹم لگا ہوا ہے، آپ ڈیزل کے مہنگے خرچے سے جان چھڑانا چاہتے ہیں اور سڑک پر رعب دار موجودگی کے ساتھ ساتھ وی آئی پی لگژری کا مزہ لینا چاہتے ہیں، تو BYD Shark 6 روایتی ڈالوں سے صدیوں آگے ہے۔ بس گاڑی احتیاط سے چلائیں اور دعا کریں کہ آپ کو پارٹس کے لیے مہینہ بھر انتظار نہ کرنا پڑے!
گاڑیوں کے ریویوز اور نئی اپ ڈیٹس کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.