استعمال شدہ گاڑی خریدنے سے پہلے یہ چیزیں ضرور چیک کریں

0 2 609

آج ہم آپ کے ساتھ کچھ اہم ٹپس شیئر کرنے جا رہے ہیں، جن پر آپ کو کوئی بھی استعمال شدہ گاڑی خریدنے سے پہلے عمل کرنا چاہیے۔ کئی لوگوں نے اس بارے میں پوچھا ہے، تو یہ رہیں وہ چیزیں جو آپ کو سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے سے پہلے لازمی چیک کرنی چاہئیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ لوگوں نے یہ سوالات اپنی پاک ویلز انسپکشن رپورٹ وصول ہونے کے بعد پوچھے ہیں۔ تو اگر آپ کو بھی رپورٹ میں ان مسائل، کمیوں یا خامیوں کا سامنا ہے تو وہ گاڑی مت خریدیں۔

1۔ دھوئیں کا اخراج

سب سے اہم مسئلہ ہے دھوئیں کا اخراج۔ عام طور پر تین قسم کا دھواں ہوتا ہے، سفید، نیلا اور کالا۔ آپ کو یاد رکھنا ہے کہ بھاپ اور دھوئیں میں فرق ہے۔ سردیوں میں گاڑیاں اپنے آپریٹنگ ٹمپریچر تک پہنچنے سے پہلے بھاپ خارج کرتی ہیں، اور یہ عام بات ہے۔

اب بات کرتے ہیں دھوؤں کی ان قسموں کی:

سفید دھواں:

اگر گاڑی مسلسل سفید دھواں چھوڑ رہی ہے، اپنے نارمل ٹمپریچر پر پہنچنے کے بعد بھی، تو اس کا مطلب ہے کہ کولینٹ گاڑی کے کمبسشن چیمبر میں پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ سلنڈر بلاک یا سلنڈر ہیڈ میں کوئی دراڑ پڑ جانا ہو سکتا ہے یا ہیڈ گیسکٹ میں کوئی مسئلہ۔ اگر ہیڈ گیسکٹ جل چکا ہے یا انجن کی گرمی کی وجہ سے اس کی شکل بگڑ گئی ہے تو واٹر جیکٹس سے نکلنے والا پانی کمبسشن چیمبر میں پہنچ رہا ہے جو سفید دھوئیں کا سبب بنتا ہے۔

نیلا دھواں:

نیلے دھوئیں کا مطلب ہے کہ کمبسشن چیمبر کے اندر انجن آئل جل رہا ہے۔ اس کی وجہ پسٹن رنگز ہیں، جو سلنڈر کی دیواروں کے ساتھ مناسب انداز میں سِیل نہیں ہوئے۔ گاڑی کو اس مسئلے کا سامنا مناسب سِیلز کی عدم موجودگی سے بھی ہو سکتا ہے، جس سے انجن کے اندر آئل کی کھپت زیادہ ہوتی ہے جو نیلے دھوئیں کا سبب بنتی ہے۔

کالا دھواں:

گاڑی سے کالا دھواں نکلنے کا مطلب ہے انجن کے اندر مکسچر کے غلط انداز میں جلنا۔ گاڑی کو گندے ایئر فلٹر یا ناقص اِن ٹیک والو یا کمزور اسپارک پلگ سے بھی اس مسئلے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایک چیز جو آپ کو لازماً یاد رکھنی ہے کہ کالا دھواں ڈیزل گاڑیوں میں بہت مانگا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان گاڑیوں میں الیکٹرانک پمپس ہوتے ہیں اور الیکٹرانک نوزلز میں خرابی اس مسئلے کا سبب بنتی ہے اور نئے پمپس اور نوزل کی قیمت 2 لاکھ روپے سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

مختصر یہ کہ گاڑی کسی بھی قسم کا دھواں چھوڑے تو اسے مت خریدیں۔

2۔ استعمال شدہ کار میں آئل لیکیج

ہمیشہ گاڑی سے کسی بھی قسم کے فلوڈ کی لیکیج کو چیک کریں، اور اگر آپ کو کوئی لیکیج ملے تو وہ گاڑی مت خریدیں۔ اگر خریدار آپ کو واش کروانے کے بعد گاڑی دکھا رہا ہے تو اسے 5 سے 10 منٹ تک ڈرائیو کریں اور گاڑی کے انجن کو آپریٹنگ ٹمپریچر پر چلا کر رکھیں۔ انجن کا ٹاپ کوَر، سِیلز، الیکٹرانک کنکشنز اور گاڑی کی انڈر باڈی چیک کریں کہ ان میں فلوڈ کے لِیک ہونے کی کوئی علامت تو نہیں ہے۔

3۔ استعمال شدہ کار میں انجن آئل کی کنڈیشن:

انجن آئل کی کنڈیشن اس کی اصل حالت کو ظاہر کرتی ہے اور اسے کافی کی رنگت کا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ گاڑی کو روڈ ٹیسٹ کے لیے لے جائیں اور پھر دوبارہ موبل آئل کی کنڈیشن چیک کریں۔ اگر آئل گہرے رنگ کا ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ کولینٹ اس میں مکس ہوا ہے، یعنی انجن میں مسائل ہیں۔ انجن آئل کیپ بھی ہٹا کر دیکھیں کہ اس کے اندر کوئی sludge تو نہیں ہے۔

4۔ باڈی پر زنگ

گاڑی کے پِلرز، باڈی پینل، ریڈی ایٹر سپورٹ اور پچھلی ڈِگی چیک کر کے دیکھیں کہ گاڑی کی باڈی پر کسی قسم کا زنگ تو نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زنگ کسی بھی گاڑی کی باڈی کو کمزور کرتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے کا سامنا زیادہ تر ساحلِ سمندر کے قریب واقع شہروں میں رہتا ہے۔

5۔ OBD کوڈ:

OBD کوڈز چیک کریں اور یقینی بنائیں کہ یہ ماضی کے کوڈز ہیں اور اب ایکٹو ہیں۔ زیادہ تر گاڑی میں دو اقسام کے کوڈز ہوتے ہیں، ہسٹری اور پرمیننٹ۔ ہسٹر کوڈز وہ ہوتے ہیں جو آپ حل نہیں کرتے مثلاً آپ نے مسئلہ حل کرنے کے بعد وارننگ لائٹ کا وائر نکال دیا۔ دوسری جانب پرمیننٹ کوڈز وہ ہوتے ہیں جو فروخت کے وقت گاڑی میں موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے آپ کو OBD کے ذریعے ان کوڈز کی سنجیدگی کو جانچنا چاہیے۔ مختصر یہ کہ آپ کو گاڑی بغیر کوڈز کے خریدنی چاہیے۔

6۔ استعمال شدہ گاڑی کے انجن سے عجیب آوازیں:

جس گاڑی کے انجن سے عجیب آوازیں آئیں اسے کبھی مت خریدیں۔ ان آوازوں کا مطلب ہے کہ انجن اچھی حالت میں نہیں ہے، اور اس سے کوئی سنجیدہ قسم کا حادثہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے انجن کی آوازیں چیک کرنے کے لیے گاڑی کو کچھ منٹس ضرور چلائیں۔

ہمیں امید ہے کہ یہ ٹپس آپ کو استعمال شدہ گاڑی خریدنے میں مدد دیں گی۔ مزید ایسی ٹپس کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیں۔

وڈیو دیکھیں:

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.