: چیری ٹیگو 9 PHEV: کیا یہ گاڑی واقعی 100 کلومیٹر فری چلتی ہے؟
کیا پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اس دور میں کوئی ایسی بڑی اور بھاری SUV ہو سکتی ہے جو مہینوں پٹرول پمپ کا منہ نہ دیکھے؟ پاک ویلز کی اونر ریویو سیریز کی اس قسط میں ہم نے ملاقات کی لمز یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر کاشف سے، جنہوں نے حال ہی میں پاکستان کی پریمیم مارکیٹ میں تہلکہ مچانے والی Chery Tiggo 9 PHEV (2026 ماڈل) خریدی ہے۔
ڈاکٹر کاشف اس سے پہلے ہاول (H6 HEV) اور ہونڈائی سوناٹا جیسی پریمیم گاڑیاں چلا چکے ہیں، اس لیے وہ گاڑیوں کی پرفارمنس اور پائیداری کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کا اس نئی پلگ ان ہائبرڈ گاڑی کے ساتھ اب تک کا سفر کیسا رہا۔
ہاول H6 کے مقابلے میں ٹیگو 9 ہی کیوں؟
ڈاکٹر کاشف کے مطابق، ہاول H6 HEV سے چیری ٹیگو 9 PHEV پر جانا صرف ایک گاڑی بدلنا نہیں بلکہ ایک بالکل نئی کلاس میں قدم رکھنا ہے۔ سائز کے لحاظ سے یہ گاڑی ٹویوٹا فارچونر سے بھی زیادہ چوڑی اور لمبی ہے، جس کی وجہ سے سڑک پر اس کی لُک انتہائی جاندار ہے۔
جب انہوں نے دونوں گاڑیوں کی قیمت کا حساب لگایا تو فیصلہ بالکل واضح تھا:
-
ہاول H6 HEV کی قیمت: 12.0 ملین (1 کروڑ 20 لاکھ) روپے
-
چیری ٹیگو 9 PHEV کی قیمت: 13.79 ملین (1 کروڑ 37 لاکھ 90 ہزار) روپے
صرف 18 لاکھ روپے کے فرق کے ساتھ انہیں ایک بہت بڑی پلگ ان ہائبرڈ گاڑی، فور بائی فور (AWD) سسٹم اور مرسڈیز بینز جیسا لگژری کیبن مل رہا تھا، جو مارکیٹ میں موجود دیگر برانڈز جیسے کِیا سورینٹو یا سانتا فے میں اس پلگ ان ٹیکنالوجی کے ساتھ دستیاب نہیں ہے۔
چارجنگ اور رینج کی حقیقت: پاکستانی سڑکوں پر یہ کتنا چلتی ہے؟
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ٹیگو 9 صرف بیٹری پر 150 سے 170 کلومیٹر تک چل سکتی ہے، لیکن ڈاکٹر کاشف کے مطابق پاکستان کے گرم موسم اور ٹریفک میں (جہاں پارکنگ میں بھی فل اے سی چل رہا ہو) یہ گاڑی اصل میں 100 سے 110 کلومیٹر کی رینج دیتی ہے۔
روزمرہ کا استعمال: وہ روزانہ ڈیفنس فیز 6 سے فیز 5 اور اسکول، آفس کے چکر لگاتے ہیں جس میں روز کا سفر 40 سے 50 کلومیٹر بنتا ہے۔ اس طرح وہ ایک بار چارج کر کے 2 سے 3 دن تک پٹرول کا ایک قطرہ جلائے بغیر صرف بجلی پر گاڑی چلاتے ہیں۔
سولر گھروں کے لیے بڑی بچت:
چیری کمپنی گاڑی کے ساتھ 7 kW کا فاسٹ چارجر بالکل مفت دیتی ہے جس سے گاڑی 5 گھنٹے میں فل چارج ہو جاتی ہے۔ اگر آپ کے گھر پر سولر پینلز لگے ہیں تو آپ کا سفری خرچہ بالکل فری ہو جاتا ہے۔ البتہ کمرشل چارجنگ اسٹیشنز (جہاں ریٹ 100 سے 150 روپے فی یونٹ ہے) روزانہ استعمال کے لیے کافی مہنگے پڑتے ہیں۔
آل وہیل ڈرائیو: تیز رفتار اور بہترین کنٹرول
عام الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں میں جب آپ ریس دیتے ہیں تو اگلے پہیے اکثر سڑک پر پھسلتے ہیں، لیکن ٹیگو 9 کا سمارٹ AWD سسٹم الیکٹرک موٹر کی فوری پاور کو چاروں پہیوں میں اتنی خوبصورتی سے تقسیم کرتا ہے کہ گاڑی سڑک پر بالکل چپک کر چلتی ہے اور ڈرائیور کا کنٹرول برقرار رہتا ہے۔
کیبن کی لگژری: مرسڈیز اور سونی کا تڑکا
گاڑی کے اندر بیٹھتے ہی سب سے پہلے آپ کا دھیان مرسڈیز گاڑیوں جیسے سیٹ ایڈجسٹمنٹ بٹنوں پر جاتا ہے جو دروازوں پر لگے ہیں۔
-
کلاؤڈ سسپنشن: اس کے سمارٹ سینسرز سڑک کے گڑھوں کو پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں اور سسپنشن کو ایڈجسٹ کر دیتے ہیں، جس سے سفر انتہائی اسموتھ ہو جاتا ہے۔
-
ہیڈ ریسٹ اسپیکرز: سونی کے ساؤنڈ سسٹم کے اسپیکرز ڈرائیور کی سیٹ کے ہیڈ ریسٹ (سر کے پیچھے) میں فٹ ہیں۔ جب کوئی فون کال آتی ہے تو آواز پورے کیبن میں گونجنے کے بجائے صرف ڈرائیور کو سنائی دیتی ہے، جس سے پرائیویسی برقرار رہتی ہے۔
-
فرنٹ مساج سیٹیں: لمبی ڈرائیو کی تھکن دور کرنے کے لیے اگلی دونوں سیٹوں میں مساجر دیے گئے ہیں۔
(نوٹ: ڈاکٹر کاشف کے مطابق اس کی آخری تیسری رو کی سیٹیں بہت تنگ ہیں اور صرف 10 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ہی کام کی ہیں، اس لیے وہ اسے ایک لگژری 5-سیٹر کے طور پر ہی دیکھتے ہیں)
ٹیکنالوجی کے وہ مسائل جو پاکستان میں پیش آئے
کوئی بھی گاڑی سو فیصد پرفیکٹ نہیں ہوتی، اور اس ہائی ٹیک گاڑی کے ساتھ بھی کچھ مقامی مسائل سامنے آئے ہیں:
-
اردو نیویگیشن کا دردِ سر: گاڑی کے ہیڈز اپ ڈسپلے (جو سامنے شیشے پر نقشہ دکھاتا ہے) کا اپنا سسٹم بائی ڈیفالٹ اردو اسکرپٹ میں ہے۔ ہمارے ہاں لوگ انگریزی نقشوں کے عادی ہیں، اس لیے اردو میں ایڈریس لکھنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل میپ کے اشارے سامنے شیشے پر شو نہیں ہوتے۔
-
بیسمنٹ میں موبائل ایپ کا فیل ہونا: اس کی موبائل ایپ سے آپ گھر بیٹھے گاڑی کا اے سی چلا سکتے ہیں یا لاک کھول سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کاشف نے بتایا کہ ایک بار ایمپوریم مال کے گہرے بیسمنٹ پارکنگ میں جہاں موبائل سگنل نہیں تھے، ایپ کی وجہ سے وہ ڈر گئے کہ کہیں گاڑی کا سسٹم انٹرنیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہینگ ہی نہ ہو جائے۔
-
اسٹیپنی کا غائب ہونا: ڈگی کے نیچے کا پورا حصہ بیٹریوں نے گھیرا ہوا ہے، اس لیے اس گاڑی میں اسپیئر وہیل نہیں آتا۔ پاکستان میں ہائی ویز پر سفر کے دوران اسٹیپنی کا نہ ہونا ایک بڑا ذہنی خوف ہے، جس کے لیے مالک کو پنکچر کٹ چلانا سیکھنا پڑتا ہے۔
پٹرول مائلج کی حیران کن حقیقت
جب ڈاکٹر کاشف سے پٹرول کی اوسط کا پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ وہ شہر کے اندر گاڑی صرف بیٹری پر چلاتے ہیں، اس لیے ان کا ڈیجیٹل میٹر تقریباً 1,000 کلومیٹر فی لیٹر کی اوسط دکھاتا ہے، کیونکہ انجن اسٹارٹ ہی نہیں ہوتا۔
اگر کبھی گاڑی ہائبرڈ موڈ پر پٹرول استعمال کرے تو یہ تقریباً 11.1 کلومیٹر فی لیٹر دیتی ہے۔ لیکن چھوٹے سفر کرنے والوں کے لیے پٹرول پمپ جانے کی ضرورت مہینوں تک پیش نہیں آتی۔ جہاں فورچونر جیسی ڈیزل گاڑی کا ٹینک 30 ہزار روپے میں فل ہوتا ہے، وہاں ٹیگو 9 نے پٹرول کا خرچہ نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔
حتمی فیصلہ
ڈاکٹر کاشف کے مطابق چیری (Chery) کی ڈیلرشپ کا اب تک کا رویہ بہت اچھا اور ذمہ دارانہ رہا ہے۔ اگر آپ کے پاس گھر پر گاڑی چارج کرنے کا سیٹ اپ موجود ہے اور آپ پٹرول کے روز روز بدلتے ریٹس سے تنگ آ چکے ہیں، تو 1 کروڑ 37 لاکھ کی پرائس رینج میں چیری ٹیگو 9 PHEV سے بہتر، پرسکون اور فیچر سے بھرپور گاڑی اس وقت مارکیٹ میں کوئی دوسری نہیں ہے۔
تبصرے بند ہیں.