پنجاب میں اسموگ کے خلاف جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ عمران حامد شیخ کی قیادت میں ای پی اے نے روایتی طریقوں کو چھوڑ کر جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے، جس کا اعتراف حکومت نے انہیں اعلیٰ ترین سول اعزاز دے کر کیا ہے۔
گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن: 298,000 ٹیسٹ
گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اسموگ کی بڑی وجہ ہے۔ ای پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق:
-
بڑے پیمانے پر چیکنگ: اب تک پنجاب بھر میں 298,000 سے زائد گاڑیوں کے اخراج (Emission) کا ٹیسٹ کیا جا چکا ہے۔
-
ڈیجیٹل میٹرز کا استعمال: اب صرف آنکھوں سے دیکھ کر نہیں بلکہ جدید میٹرز سے کاربن مونو آکسائیڈ (CO) چیک کی جاتی ہے۔ 6% سے زیادہ اخراج پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
-
گرین اسٹیکر: اگر آپ کی گاڑی کے پاس گرین اسٹیکر نہیں ہے، تو آپ کو 2,000 سے 10,000 روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اینٹی اسموگ گنز اور انفورسمنٹ فورس
ڈی جی ای پی اے نے لاہور کی سڑکوں پر گرد و غبار بیٹھانے کے لیے ٹرکوں پر نصب اینٹی اسموگ گنز متعارف کرائیں۔ ان گنز نے اب تک لاہور کے 47,000 کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی انوائرمنٹل پروٹیکشن فورس (EPF) بھی قائم کی گئی ہے جو 24 گھنٹے خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے۔
گاڑیوں کے مالکان کے لیے ہدایات
حکومتی دعووں کے مطابق 2025 لاہور کی فضائی آلودگی کے لحاظ سے بہترین سال رہا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ اب چیکنگ مزید سخت ہوگی۔
-
ٹیوننگ لازمی ہے: اپنی گاڑی کے کیٹلیٹک کنورٹر اور انجن کی ٹیوننگ کروائیں۔
-
گرین اسٹیکر حاصل کریں: کسی بھی سرکاری ٹیسٹنگ سینٹر سے اپنی گاڑی کا معائنہ کروا کر اسٹیکر حاصل کریں تاکہ بھاری جرمانوں سے بچ سکیں۔
پاک ویلز بصیرت: عمران حامد شیخ کو ستارہِ امتیاز ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ماحولیاتی قوانین پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ پرانی گاڑی یا ڈیزل انجن والی گاڑی چلا رہے ہیں، تو اب وقت آگیا ہے کہ اسے سڑک پر لانے سے پہلے اس کی فٹنس کو یقینی بنائیں۔ اسموگ کے سیزن میں اب “سفارش” کام نہیں آئے گی۔

تبصرے بند ہیں.