پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خدشہ

71

پاکستانی صارفین کو پیٹرول پمپس پر ایک بڑے جھٹکے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ آئندہ قیمتوں کے تعین میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا قوی امکان ہے۔ قیمتوں میں یہ متوقع اضافہ ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہِ راست نتیجہ ہے، جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) بند ہو چکی ہے۔

تیل کی تجارت کے لیے یہ تنگ بحری راستہ دنیا کے اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اس کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے۔

سعودی عرب سے خام تیل کی درآمد پر انحصار

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عالمی بحران پاکستانی عوام کی جیبوں پر اتنا بھاری کیوں پڑے گا۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب سے تیل درآمد کر کے پورا کرتا ہے۔ ملک بنیادی طور پر دو قسم کا خام تیل منگواتا ہے:

  1. لائٹ کروڈ (Light Crude)

  2. ایکسٹرا لائٹ کروڈ (Extra Light Crude)

چونکہ ان درآمدات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق طے ہوتی ہیں، اس لیے بین الاقوامی کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان کے لیے درآمدی لاگت فوری طور پر بڑھ جاتی ہے۔

قیمتوں میں اضافہ: اعداد و شمار کی روشنی میں

یکم مارچ کے قریب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے پہلے عالمی منڈی مستحکم تھی۔ اس وقت سعودی لائٹ کروڈ تقریباً 70 ڈالر فی بیرل اور ایکسٹرا لائٹ کروڈ 71.6 ڈالر فی بیرل پر تھا۔ ان نرخوں کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 266 روپے اور ڈیزل 280 روپے فی لیٹر تھی۔

تاہم، آبنائے ہرمز کی بندش نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیل دیا ہے۔ اب لائٹ کروڈ 78 ڈالر اور ایکسٹرا لائٹ کروڈ 75 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔ ان نئے نرخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ کے تخمینے ایک پریشان کن صورتحال ظاہر کر رہے ہیں۔

اگلے جائزے کے لیے ایندھن کی متوقع قیمتیں:

ایندھن کی قسم موجودہ قیمت (فی لیٹر) متوقع اضافہ متوقع نئی قیمت (فی لیٹر)
پیٹرول 266.00 روپے 15 سے 18 روپے 280+ روپے
ڈیزل 280.00 روپے 16 سے 20 روپے 295+ روپے

قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کا نیا نظام

حالیہ پیش رفت کے مطابق، وزارت خزانہ نے 15 روزہ (پندرہ دن بعد) قیمتوں کے تعین کے روایتی طریقہ کار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب حکومت ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرول کی قیمتوں کا جائزہ لے گی۔ اس فیصلے کا مقصد عالمی منڈی میں تیزی سے بدلتی ہوئی قیمتوں کے اثرات (چاہے اضافہ ہو یا کمی) کو فوری طور پر صارفین تک منتقل کرنا ہے، بجائے اس کے کہ دو ہفتوں کا انتظار کیا جائے۔

اگرچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کو قیمتوں میں اضافے کا جھٹکا جلد لگے گا، لیکن اس کا فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عالمی کشیدگی کم ہوتی ہے تو قیمتوں میں کمی کا ریلیف بھی فوری طور پر مل سکے گا۔ ہم اپنی اگلی رپورٹ میں اس ہفتہ وار ماڈل کے معاشی اثرات پر تفصیلی بات کریں گے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے پاک ویلز (PakWheels) کو گوگل نیوز پر فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel