ٹویوٹا ہائی لکس اب برقی روپ میں
ٹویوٹا نے باضابطہ طور پر نویں جنریشن کی برقی ہائی لکس سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے، لیکن اس کی رینج نے ان لوگوں کو تشویش میں ڈال دیا ہے جو ہائی لکس کو طویل سفر اور بھاری بوجھ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
رینج اور بیٹری کی تفصیلات
نئی ہائی لکس میں انسٹھ اعشاریہ دو کلو واٹ آور کی بیٹری استعمال کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ شہر کے اندر استعمال کے لیے بہتر ہے، لیکن اس کی کل رینج صرف دو سو چالیس کلومیٹر بتائی گئی ہے۔
-
حقیقی رینج: اگر گاڑی پر بوجھ ہو یا اے سی پوری رفتار پر چل رہا ہو، تو یہ رینج دو سو کلومیٹر سے بھی کم ہو سکتی ہے۔
-
موازنہ: یہ رینج اپنے مدمقابل برانڈز جیسے بی وائی ڈی (BYD) کے مقابلے میں کافی کم ہے، جس کی وجہ سے یہ صرف شہر کے اندر چھوٹے کاموں کے لیے موزوں نظر آتی ہے۔
طاقت اور کارکردگی
برقی ہائی لکس میں دو موٹرز دی گئی ہیں جو اسے ‘آل وہیل ڈرائیو’ بناتی ہیں:
-
ٹارک: اگلی موٹر دو سو پانچ جبکہ پچھلی موٹر دو سو اڑسٹھ نیوٹن میٹر ٹارک فراہم کرتی ہے۔
-
بوجھ اٹھانے کی صلاحیت: اسے کم کر کے صرف سات سو پندرہ کلوگرام کر دیا گیا ہے، جبکہ کھینچنے کی صلاحیت بھی محض ایک اعشاریہ چھ ٹن رہ گئی ہے (جو عام ہائی لکس میں ساڑھے تین ٹن ہوتی ہے)۔
-
پانی میں چلنا: یہ اب بھی سات سو ملی میٹر گہرے پانی سے گزر سکتی ہے، جو کہ ڈیزل ماڈل کے برابر ہے۔
متبادل آپشنز: ہائبرڈ اور ہائیڈروجن
ٹویوٹا کا ماننا ہے کہ صرف برقی بیٹری ہر مسئلے کا حل نہیں، اسی لیے وہ درج ذیل ماڈلز پر بھی کام کر رہے ہیں:
-
ہائی لکس ہائبرڈ 48V: یہ دو اعشاریہ آٹھ لیٹر ٹربو ڈیزل انجن اور ہائبرڈ سسٹم کے ساتھ آئے گی، جو زیادہ بوجھ اٹھانے کے لیے بہترین ہے۔
-
ہائی لکس ہائیڈروجن: یہ ماڈل دو ہزار اٹھائیس تک متوقع ہے جو پانچ منٹ میں ری فیول ہو کر لمبی رینج فراہم کرے گا۔
کیا یہ پاکستان آئے گی؟
پاکستان میں انفراسٹرکچر کی کمی اور ہائی لکس کے سخت استعمال کو دیکھتے ہوئے، صرف دو سو چالیس کلومیٹر رینج والی گاڑی کا یہاں کامیاب ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ تاہم، ہائبرڈ ورژن (48V) پاکستان کے لیے ایک بہترین امیدوار ہو سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.