کیا گاڑی کی ٹیون اپ اب مہنگی ہو جائے گی؟
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے پاکستان میں اسپارک پلگز کی درآمد پر کسٹمز ویلیوز کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے۔ “ویلیو ایشن رولنگ نمبر 2032” کے ذریعے حکومت نے ان مقررہ قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے جن کی بنیاد پر درآمدی ڈیوٹی کا حساب لگایا جاتا ہے۔ یہ نئی رولنگ سال دو ہزار پچیس کے پرانے نظام کی جگہ لے گی۔
معیار اور ملک کے لحاظ سے نئی قیمتیں
ایف بی آر نے ٹیکس کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے اسپارک پلگز کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے:
-
پریمیم برانڈز: جاپان اور یورپ سے آنے والے اعلیٰ معیار کے پلگز (جیسے اریڈیم ٹپڈ) پر کسٹمز ویلیو زیادہ رکھی گئی ہے۔
-
عام آپشنز: چین اور دیگر خطوں سے آنے والے پلگز کی قیمتیں کم رکھی گئی ہیں۔
اس نظام کا مقصد “انڈر انوائسنگ” کو روکنا ہے، جہاں درآمد کنندگان ٹیکس سے بچنے کے لیے کم قیمت ظاہر کرتے تھے، جس سے اب حکومت کو صحیح ریونیو حاصل ہو سکے گا۔
قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟
پرانی قیمتیں ایک سال سے زیادہ پرانی ہو چکی تھیں اور عالمی مارکیٹ کے نرخوں سے میل نہیں کھاتی تھیں۔ درآمد کنندگان کا کہنا تھا کہ پرانے ریٹس کی وجہ سے قانونی طور پر کاروبار کرنا مشکل ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں اسمگل شدہ اور ناقص معیار کے پارٹس کی بھرمار ہو رہی تھی۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز نے گزشتہ تین ماہ کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر نئے ریٹس مقرر کیے ہیں۔
کار مالکان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
عام گاڑی مالکان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی بار جب آپ انجن کی ٹیون اپ کروائیں گے، تو اسپارک پلگز کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ خاص طور پر جاپانی برانڈز جیسے کہ این جی کے (NGK) یا ڈینسو (Denso) کے ریٹس ریٹیل مارکیٹ میں بڑھ سکتے ہیں۔
نقلی اور دو نمبر پارٹس سے بچنے کے لیے ہمیشہ قابلِ بھروسہ دکانوں سے خریداری کریں جو قانونی طریقے سے درآمد شدہ سامان فروخت کرتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.