گلفشاں طارق، جو پیشے کے لحاظ سے سافٹ ویئر انجینئر اور مارکیٹنگ ایگزیکٹو ہیں، مانچسٹر میں اپنے شوہر اور تین سالہ بیٹی کے ساتھ رہتی ہیں۔ وہ لندن سے پاکستان تک کا یہ سفر کئی یورپی اور ایشیائی ممالک سے گزر کر مکمل کریں گی۔
ایک منفرد مشن
گلفشاں پہلی خاتون بائیکر بننے کی کوشش کر رہی ہیں جو لندن سے لاہور تک کا سفر موٹرسائیکل پر طے کریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سفر صرف سیر و سیاحت کے لیے نہیں بلکہ ایک خاص پیغام کے لیے ہے:
-
خواتین کے حقوق: وہ پاکستان میں خواتین کے حقوق اور خاص طور پر دیہی خواتین کی طاقت کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہیں۔
-
حوصلہ افزائی: وہ اپنی بیٹی اور پاکستان کی دیگر خواتین کو یہ دکھانا چاہتی ہیں کہ عزم اور ہمت سے کسی بھی سماجی رکاوٹ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔
گلفشاں طارق کون ہیں؟
گلفشاں کا تعلق پنجاب کے شہر سرگودھا سے ہے جبکہ ان کے سسرال کا تعلق سوات (خیبر پختونخوا) سے ہے۔ وہ ایڈونچر کی دنیا میں پہلے ہی کئی کارنامے سر انجام دے چکی ہیں:
-
2015: اسلام آباد سے خنجراب پاس (16,000 فٹ بلندی) تک سائیکل پر سفر۔
-
خیبر پختونخوا و گلگت بلتستان: موٹرسائیکل پر 20 دنوں میں 3,000 کلومیٹر کا تنہا سفر مکمل کرنے والی پہلی خاتون۔
-
پیرا گلائیڈنگ: 2017 میں کاک لشٹ کے میدانوں سے تنہا پیرا گلائیڈنگ کا تجربہ۔
سفر کا ممکنہ راستہ
گلفشاں کا سفر درج ذیل ممالک سے گزرے گا:
-
لندن سے یورپ: فرانس → سوئٹزرلینڈ → اٹلی۔
-
سمندری راستہ: اٹلی سے یونان تک فیری۔
-
ترکیہ: یونان سے استنبول، ترکیہ تک زمینی سفر۔
-
پاکستان تک رسائی: اصل منصوبہ ترکیہ سے ایران اور پھر پاکستان میں داخل ہونا تھا، لیکن علاقائی کشیدگی کی وجہ سے وہ متبادل راستے (جیسے جارجیا کے راستے) پر بھی غور کر رہی ہیں۔
خواتین کے لیے پیغام
گلفشاں کہتی ہیں کہ ان کا یہ سفر ان خواتین کے لیے ہے جنہیں مواقع اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ ان کے شوہر اور بیٹی پہلے ہی پاکستان میں ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ دنیا پاکستان کے مثبت پہلو اور وہاں کی مضبوط خواتین کو دیکھے۔
پاکستان میں موٹرسائیکل سواری کا کلچر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور گلفشاں جیسی خواتین اس رجحان کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروا رہی ہیں۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.