فیراری 296 GTB ریویو: کیا ہائبرڈ فیراری واقعی پیٹرول سے بہتر ہے؟

19

سنیل منج ایک ایسی کار کے ریویو کے ساتھ حاضر ہیں جو پہلی نظر میں کسی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا شاہکار لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کی سڑکوں پر موجود ایک سچی “مشین” ہے۔ یہ ہے فیراری 296 GTB—ایک ایسی گاڑی جو پلگ ان ہائبرڈ ہے، لیکن اس کا مقصد پیٹرول بچانا نہیں بلکہ “تباہ کن” رفتار حاصل کرنا ہے۔

“296” کیا ہے؟

فیراری کے مداحوں کے لیے یہ نام ایک کوڈ ہے:

  • 2.9: انجن کی گنجائش (2.9 لیٹر)۔

  • 6: سلنڈرز کی تعداد (V6 انجن)۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ V6 ہونے سے اس کی طاقت کم ہو گئی ہے، تو آپ غلط ہیں۔ فیراری نے سلنڈرز کم کیے ہیں لیکن “شدت” بڑھا دی ہے۔

کارکردگی: پلک جھپکتے ہی غائب

یہ کار صرف 2.7 سے 2.9 سیکنڈز میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ لیتی ہے۔

  • ہارس پاور: پیٹرول انجن اور الیکٹرک موٹر مل کر مجموعی طور پر 830 ہارس پاور پیدا کرتے ہیں۔

  • خاموش موڈ: یہ صرف بجلی پر 25 کلومیٹر تک چل سکتی ہے۔ یہ فیچر پاکستان کے شہروں میں اس وقت کام آتا ہے جب آپ پڑوسیوں کو جگائے بغیر خاموشی سے گھر سے نکلنا چاہیں، اور پھر سڑک پر پہنچ کر V6 انجن کا جادو جگا سکیں۔

ڈیزائن اور فیچرز: کاربن فائبر کا طوفان

سنیل کے مطابق، اس کار میں کاربن فائبر کا اتنا استعمال ہوا ہے کہ صرف ان آپشنز کی قیمت 60,000 پاؤنڈز (تقریباً 2 کروڑ روپے سے زائد) ہے۔

  • بریک: سیرامک بریکس دیے گئے ہیں جو اتنی تیز رفتار گاڑی کو قابو کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

  • انٹیریئر: اندر کا منظر کسی خلائی جہاز جیسا ہے۔ اسٹیئرنگ وہیل پر ہی تمام کنٹرولز موجود ہیں۔ ریسنگ کاربن بکٹ سیٹس اسے ایک خالص ٹریک کار کا احساس دلاتی ہیں۔

  • پیسنجر ڈسپلے: ڈیش بورڈ پر مسافر کے لیے الگ اسکرین دی گئی ہے تاکہ وہ نیویگیشن اور میڈیا سنبھال سکے اور ڈرائیور کا سارا دھرایان صرف سڑک پر رہے۔

پاکستان میں ہائبرڈ فیراری کا “منطق” (ٹیکس کا فرق)

پاکستان میں سپر کار خریدنا صرف شوق نہیں بلکہ “ریاضی” کا امتحان بھی ہے۔ سنیل نے ٹیکسز کا دلچسپ فرق بتایا:

  • ہائبرڈ ڈیوٹی: تقریباً 300%

  • پیٹرول ڈیوٹی: تقریباً 406% اسی لیے پاکستان میں ہائبرڈ فیراری درآمد کرنا زیادہ سمجھداری ہے، کیونکہ پیٹرول ورژن کے مقابلے میں اس کی قیمت (جو کہ 2022 ماڈل کے لیے تقریباً 28 کروڑ روپے ہے) نسبتاً کم پڑتی ہے۔

حتمی فیصلہ: کیا یہ خریدنی چاہیے؟

فیراری 296 GTB ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو:

  1. فیراری کی وراثت اور برانڈ ویلیو چاہتے ہیں۔

  2. جدید ترین ہائبرڈ ٹیکنالوجی اور اسپیڈ کے شوقین ہیں۔

  3. پاکستان کے بھاری ٹیکسز سے بچ کر بہترین پرفارمنس چاہتے ہیں۔

نتیجہ: یہ کار ثابت کرتی ہے کہ فیراری نے مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنا لیا ہے، اور پاکستان میں یہ “پیکج” نہ صرف اسپیڈ بلکہ امپورٹ میتھ کے لحاظ سے بھی بہترین ہے۔

فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel