بجٹ 2026-27 میں کیا تبدیلیاں متوقع ہیں؟

62

یکم جولائی سے گاڑیوں کی مارکیٹ میں دو بڑے عوامل اثر انداز ہونے والے ہیں:

  1. گاڑیوں کی بنیادی قیمتوں میں اضافہ: بجٹ 2026-27 کے نئے ریونیو اہداف اور پٹرولیم فریم ورک کے تحت، مقامی طور پر اسمبل ہونی والی چھوٹی اور مڈ-سائز گاڑیوں (مثلاً سوزوکی آلٹو، کلٹس، سوئفٹ اور دیگر 1300cc تک کی کاروں) پر ٹیکسز اور جنرل سیلز ٹیکس کی نئی شرحوں کی وجہ سے ایکس فیکٹری قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ اضافہ فائلر اور نان-فائلر دونوں کے لیے یکساں ہوگا۔

  2. نان-فائلرز پر رجسٹریشن کا اضافی دباؤ: حکومت کا بنیادی مقصد معیشت کو ڈاکومنٹ (دستاویزی) کرنا ہے۔ اسی لیے نان-فائلرز کے لیے رجسٹریشن کاؤنٹر پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو اس حد تک بڑھایا جا رہا ہے کہ فائلر بننا ہی واحد سستا آپشن بچے۔

 فائلر بمقابلہ نان-فائلر: رجسٹریشن ٹیکس کا موازنہ (Section 231B)

اسلام آباد اور وفاقی شیڈول کے مطابق، نئی گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت لیے جانے والے ایڈوانس ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کا فرق کچھ یوں ہے:

انجن کی گنجائش (Engine Size) فائلر (Active Filer) نان-فائلر (Non-Filer) اضافی بوجھ (Difference)
850cc تک (مثلاً آلٹو) 10,000 روپے 20,000 روپے 10,000 روپے کا اضافہ
851cc سے 1000cc (مثلاً کلٹس، ویگن آر) 1,500 روپے 3,000 روپے 1,500 روپے کا اضافہ
1001cc سے 1300cc (مثلاً یارس، سٹی، سوئفٹ) 2,500 روپے 5,000 روپے 2,500 روپے کا اضافہ
1301cc سے 1600cc (مثلاً کورولا، ایلینٹرا) 5,000 روپے 10,000 روپے 5,000 روپے کا اضافہ
1601cc سے 1800cc (مثلاً سیوک، اسپورٹیج) 7,500 روپے 15,000 روپے 7,500 روپے کا اضافہ
1801cc سے 2000cc (مثلاً ٹکسان، سوناٹا) 10,000 روپے 20,000 روپے 10,000 روپے کا اضافہ
2001cc سے 2500cc (مثلاً فورچونر، ہائی لکس) 12,500 روپے 25,000 روپے 12,500 روپے کا اضافہ
2500cc سے اوپر 15,000 روپے 30,000 روپے 15,000 روپے کا اضافہ

 اہم نوٹ: یہ صرف وفاقی ودہولڈنگ ٹیکس ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی ایکسائز محکموں (پنجاب، سندھ، کے پی کے) کے اپنے ٹوکن ٹیکس اور لائف ٹائم ٹیکس اسٹرکچرز ہیں، جہاں نان-فائلر کو سالانہ ٹوکن ٹیکس کی مد میں بھی فائلر کے مقابلے میں ٹھیک دوگنا (Double) رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔

 کیا آپ کو گاڑی خریدنے سے پہلے فائلر بننا چاہیے؟

مختصر جواب: جی ہاں، بالکل!

حتیٰ کہ اگر آپ کی آمدنی ٹیکس لاگو ہونے کی حد سے کم ہے اور آپ پر کوئی ٹیکس واجب الادا نہیں بنتا، تب بھی FBR کی لسٹ (ATL) میں شامل ہونے سے آپ کا رجسٹریشن ٹیکس آدھا ہو جاتا ہے، آپ بینک سے کیش نکالنے پر 0.6% ٹیکس سے بچ جاتے ہیں اور کسی بھی پراپرٹی ٹرانزیکشن میں لاکھوں روپے بچا سکتے ہیں۔

یہ عمل مکمل طور پر آن لائن ہے اور اس میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت لگتا ہے:

  • NTN حاصل کریں: تنخواہ دار افراد کا شناختی کارڈ (CNIC) ہی ان کا NTN نمبر ہوتا ہے۔ iris.fbr.gov.pk پر جائیں اور اپنا اکاؤنٹ بنائیں۔

  • ریٹرن فائل کریں: تنخواہ دار طبقہ فارم 114 اور کاروباری حضرات فارم 116 پر اپنی معلومات درج کرتے ہیں۔ اگر آمدنی قابلِ ٹیکس حد سے کم ہے، تو صرف اسے ڈیکلیر کریں (زیرو ٹیکس ریٹرن بھی آپ کو فائلر بنا دیتا ہے)۔

  • اسٹیٹس چیک کریں: یہ لسٹ ہر اتوار کو اپ ڈیٹ ہوتی ہے۔ آپ اپنا شناختی کارڈ نمبر لکھ کر 9966 پر ایس ایم ایس بھیج کر یا Tax Asaan ایپ کے ذریعے اپنا اسٹیٹس لائیو چیک کر سکتے ہیں۔

(یاد رہے کہ ٹیکس سال 2025 کے لیے ریٹرن جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہے۔ اگر آپ یکم جولائی سے پہلے گاڑی خرید رہے ہیں، تو موجودہ ایکٹو لسٹ میں آپ کا نام ہونا لازمی ہے)۔

 پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The Bottom Line)

بجٹ 2026-27 یہ بات واضح کر رہا ہے کہ اب پاکستان میں نان-فائلر رہ کر گاڑی چلانا یا اثاثے بنانا ناممکن حد تک مہنگا سودا بننے والا ہے۔ حساب کتاب بالکل سیدھا ہے: اگر آپ اس سال نئی یا پرانی کار خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر چند منٹ لگا کر ریٹرن فائل کرنا آپ کو رجسٹریشن کاؤنٹر پر ہزاروں روپے کے فوری اور براہِ راست جرمانے سے بچا سکتا ہے۔

بجٹ 2026-27 کے فائنل پاس ہونے اور گاڑیوں کی نئی آن روڈ (On-Road) قیمتوں کی ہر لائیو اپڈیٹ کے لیے پاک ویلز بلاگ کو باقاعدگی سے وزٹ کرتے رہیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel