پہلے BYD، اب Geely بھی تیز ترین EV چارجنگ کی دوڑ میں شامل

222

چین میں الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی چارجنگ کی دوڑ نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ BYD کی جانب سے فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی میں بڑی کامیابی کے بعد، اب Geely کی سرپرستی میں چلنے والے برانڈ Lynk & Co نے اپنی نئی 10+ کے ساتھ سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ حالیہ ٹیسٹ میں اس گاڑی نے چارجنگ کے حیران کن اعداد و شمار پیش کیے ہیں۔

پاکستانی قارئین کے لیے یہ خبر کسی شو روم میں فوری دستیابی سے زیادہ اس بات کی اہمیت رکھتی ہے کہ عالمی سطح پر EV ٹیکنالوجی کس سمت جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان ملک بھر میں 3,000 چارجنگ اسٹیشنز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

Lynk & Co 10+ کے چارجنگ ٹیسٹ نے سب کو حیران کر دیا

‘InsideEVs’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، Lynk & Co 10+ میں 900 وولٹ کی ‘Shield Gold Brick’ بیٹری استعمال کی گئی ہے۔ ٹیسٹ کے دوران اس گاڑی نے:

  • 10% سے 70% چارجنگ صرف 4 منٹ 22 سیکنڈز میں مکمل کی۔

  • 10% سے 80% تک کا سفر 5 منٹ 32 سیکنڈز میں طے کیا۔

  • 10% سے 97% تک چارج ہونے میں اسے محض 8 منٹ 42 سیکنڈز لگے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چارجنگ پاور 1.1 میگا واٹ (mW) سے بھی اوپر چلی گئی، جس نے Geely کو الٹرا فاسٹ چارجنگ کی بحث میں سب سے آگے لا کھڑا کیا ہے۔

پہلے BYD اور اب Geely

کہانی یہاں دلچسپ ہو جاتی ہے کیونکہ BYD پہلے ہی اپنے ‘Super e-Platform’ اور ‘Megawatt Flash Charging’ کے ساتھ اس میدان میں نام بنا چکا ہے۔ اگرچہ Lynk & Co 10+ نے 10 سے 97 فیصد کے مرحلے میں ہم پلہ BYD گاڑی سے بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن ماہرین اسے ابھی حتمی فیصلہ قرار دینے کے بجائے چارجنگ کی اس عالمی دوڑ کا ایک نیا مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟

پاکستان کے لیے اہم بات یہ نہیں ہے کہ Lynk & Co کی سیڈان کل یہاں پہنچ رہی ہے، بلکہ اصل سبق یہ ہے کہ چینی کار ساز کمپنیاں EV چارجنگ کو روایتی پیٹرول بھروانے جتنا تیز بنا رہی ہیں۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان میں Geely سے منسلک برانڈز پر پہلے ہی بات چیت جاری ہے۔ ‘Capital Smart Motors’ نے پاکستان میں نیو انرجی وہیکلز (NEVs) متعارف کروانے کے لیے Geely کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کر رکھے ہیں۔

آفیشل لانچ اور زمینی حقائق

یہاں ایک حقیقت پسندانہ پہلو بھی ہے؛ Lynk & Co کا یہ چارجنگ ٹیسٹ مثالی حالات (Ideal Conditions) میں کیا گیا تھا۔ ‘InsideEVs’ کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی فی الحال صرف چین کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے اور عالمی سطح پر اس کی دستیابی ابھی غیر یقینی ہے۔

چنانچہ یہ کہنا درست ہے کہ پہلے BYD اور اب Geely اس ٹیکنالوجی کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں، لیکن پاکستان کے لیے آفیشل لانچ اور مقامی چارجنگ انفراسٹرکچر کے ساتھ اس کی مطابقت ابھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel