حکومتِ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اب پندرہ دن کے انتظار کے بجائے ہر ہفتے قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
اس فیصلے کی وجوہات اور اثرات:
-
عالمی منڈی سے ہم آہنگی: ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتیں بدلنے سے حکومت کو بین الاقوامی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کا بوجھ بانٹنے میں آسانی ہوگی۔
-
تیل کمپنیوں کو فائدہ: آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اب عالمی قیمتوں کے مطابق اپنے اسٹاک اور اخراجات کو بہتر طریقے سے منظم کر سکیں گی۔
-
صارفین پر اثر: اگر عالمی منڈی میں قیمتیں گرتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام کو پندرہ دن کے بجائے سات دن میں مل جائے گا، تاہم قیمتیں بڑھنے کی صورت میں اضافہ بھی فوری ہوگا۔
-
ٹرانسپورٹ کرایوں میں اتار چڑھاؤ: پیٹرول کی قیمتیں ہر ہفتے بدلنے سے مال برداری اور سواریوں کے کرایوں میں بھی بار بار تبدیلی کا امکان ہے۔
کیا یہ نظام نافذ ہو چکا ہے؟
اگرچہ اندرونی طور پر اس کی منظوری دے دی گئی ہے، لیکن ابھی تک وزارتِ خزانہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری ہونا باقی ہے۔ اس وقت تک پرانا پندرہ روزہ نظام ہی لاگو رہے گا، لیکن توقع ہے کہ جلد ہی پہلا ہفتہ وار جائزہ شروع کر دیا جائے گا۔
گاڑیوں کے مالکان اور خریداروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اب ہر ہفتے کے اختتام پر قیمتوں میں ممکنہ تبدیلی کے لیے تیار رہیں۔

تبصرے بند ہیں.