جی سیون کا ہنگامی تیل نکالنے سے انکار

28

دنیا کے طاقتور ممالک کے گروپ (جی سیون) نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باوجود اپنے ہنگامی تیل کے ذخائر استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان محفوظ ذخائر کو کھولا جائے۔ یہ خبر پاکستانی صارفین کے لیے اہم ہے کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں کمی کا مطلب مقامی سطح پر قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ہنگامی ذخائر کیوں اہم ہیں؟

  • بحران کا حل: یہ وہ تیل ہوتا ہے جو ممالک ہنگامی حالات یا جنگ کی صورت میں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے محفوظ رکھتے ہیں۔

  • نوے دن کا اسٹاک: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، رکن ممالک کے لیے کم از کم 90 دن کی درآمد کے برابر تیل ذخیرہ کرنا لازمی ہے۔

  • قیمتوں پر اثر: جب یہ ممالک اپنا ذخیرہ مارکیٹ میں لاتے ہیں تو سپلائی بڑھنے سے قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔ اب اس عمل کے رکنے سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہے گا۔

پاکستان کے آٹو سیکٹر پر اثرات:

  1. مہنگا پیٹرول: عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں حالیہ 55 روپے کے اضافے کے بعد مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

  2. نقل و حمل کے اخراجات: ایندھن مہنگا ہونے سے گاڑیوں کی لاجسٹکس، پرزہ جات کی ترسیل اور رائیڈ ہیلنگ (کریم، اوبر) کے کرایوں میں اضافہ ہوگا۔

  3. گاڑیوں کی طلب: پیٹرول مہنگا ہونے سے لوگ بڑی گاڑیوں کے بجائے چھوٹی اور ہائبرڈ گاڑیوں کو ترجیح دیں گے، جس سے مارکیٹ کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے۔

فی الحال خریداروں اور ڈرائیوروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایندھن کی بچت کریں کیونکہ عالمی منڈی میں استحکام کے آثار ابھی نظر نہیں آ رہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel