جیلی نے جاپانی آٹو میکرز کو ٹکر دینے کے لیے نیا ہائبرڈ سسٹم متعارف کرا دیا
جیلی (Geely) نے اپنا نیا i-HEV انٹیلیجنٹ ہائبرڈ سسٹم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے وہ اس شعبے میں قدم رکھ رہی ہے جہاں دہائیوں سے جاپانی آٹو میکرز کا راج رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، یہ نیا سسٹم درجہ حرارت، بلندی اور نمی جیسے حقیقی ڈرائیونگ حالات کے مطابق خود کو ڈھال کر گاڑی کی کارکردگی (efficiency) کو بہتر بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ صرف ایک نئی ٹیکنالوجی کا اعلان نہیں ہے، بلکہ مارکیٹ کے اس حصے میں مقابلہ کرنے کی جیلی کی ایک کوشش ہے جہاں جاپانی برانڈز نے بہت پہلے اپنی ساکھ بنائی تھی۔
ہائبرڈ کاروں میں یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؟
جب لوگ ہائبرڈ گاڑیوں کے بارے میں سوچتے ہیں، تو اب بھی سب سے پہلے جاپانی برانڈز ہی ذہن میں آتے ہیں۔
ٹویوٹا نے Prius کے ساتھ ایک معیار قائم کیا، جو دنیا کی ابتدائی اور سب سے مشہور بڑے پیمانے پر تیار ہونے والی ہائبرڈ کاروں میں سے ایک بن گئی۔ پاکستان میں بھی، پریوس نے مقامی خریداروں کو ہائبرڈ کاروں سے روشناس کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک اور جاپانی ہائبرڈ جو پاکستانی سڑکوں پر مقبول رہی، وہ Honda Vezel ہے۔ یہ ان خریداروں کے لیے ایک عام درآمدی انتخاب بن گئی جو بہتر فیول اکانومی اور کراس اوور کی عملیت (practicality) کے خواہشمند تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جیلی کا یہ اقدام اہمیت کا حامل ہے۔ وہ کسی خالی مارکیٹ میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہی، بلکہ ایک ایسی جگہ جگہ بنانا چاہتی ہے جہاں جاپانی برانڈز کے پاس پہلے سے ہی اعتماد، تاریخ اور مضبوط کسٹمر بیس موجود ہے۔
جیلی کی ہائبرڈ مہم صرف ایک لانچ سے بڑھ کر ہے
جیلی کا منصوبہ ہے کہ وہ اپنا i-HEV سسٹم Emgrand، Preface، Monjaro اور Starray جیسے ماڈلز میں متعارف کروائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اسے محض ایک نمائشی ماڈل تک محدود رکھنے کے بجائے ایک وسیع پروڈکٹ حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
ہائی وے ٹیسٹ کے دوران اس سسٹم سے لیس Geely Emgrand نے 2.22 لیٹر فی 100 کلومیٹر کی ایندھن کی کھپت ریکارڈ کی، جس کے بارے میں جیلی کا دعویٰ ہے کہ اس نے گنیز ورلڈ ریکارڈ حاصل کیا ہے۔
وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوچ مزید واضح ہوتی ہے۔ اس سال کے شروع میں، جیلی نے CES 2026 کا استعمال اپنی “فل ڈومین AI 2.0” حکمت عملی پیش کرنے کے لیے کیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ کمپنی سافٹ ویئر، انٹیلی جنس، وہیکل انٹیگریشن اور پاور ٹرین ڈویلپمنٹ کے ذریعے مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
کیا یہ ای وی (EVs) سے ہٹ کر ایک تبدیلی ہے؟
گزشتہ چند سالوں سے چینی آٹو میکرز کے گرد ہونے والی زیادہ تر گفتگو الیکٹرک گاڑیوں (EVs) اور پلگ ان ہائبرڈز پر مرکوز رہی ہے۔ جیلی کے تازہ ترین اقدام سے پتہ چلتا ہے کہ اب “فل ہائبرڈز” بھی اس گفتگو کا ایک بڑا حصہ بن سکتے ہیں۔
ابھی اسے مارکیٹ میں بڑی تبدیلی قرار دینا قبل از وقت ہے، لیکن اگر جیلی اس سسٹم کو کامیابی سے بڑے پیمانے پر پھیلانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ ان مارکیٹوں میں چینی برانڈز کے لیے ایک نیا باب کھول سکتا ہے جہاں روایتی ہائبرڈز اب بھی بہت مقبول ہیں۔ یہ خاص طور پر ان ممالک میں اہم ہوگا جہاں خریدار ہائبرڈ کی کارکردگی پر تو بھروسہ کرتے ہیں لیکن ابھی مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر منتقل ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ایک ایسی پیش رفت جس پر پاکستان کو نظر رکھنی چاہیے
یہیں سے یہ کہانی پاکستانی خریداروں کے لیے متعلقہ ہو جاتی ہے۔
یہاں کی مارکیٹ پہلے ہی ہائبرڈز کو سمجھتی ہے۔ پریوس، ویزل اور ایکوا جیسی کاروں نے وقت کے ساتھ ساتھ یہ جان پہچان پیدا کی ہے، خاص طور پر ان خریداروں میں جو فیول اکانومی اور شہری استعمال پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
اگر چینی برانڈز مسابقتی قیمتوں اور جدید ان-کار ٹیکنالوجی کے ساتھ قابل بھروسہ ہائبرڈ سسٹم پیش کر سکتے ہیں، تو وہ اس شعبے میں جاپانی برانڈز پر حقیقی دباؤ ڈالنا شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم، فی الحال پاکستان کی مارکیٹ پر اس کے کسی بھی براہ راست اثر کا اندازہ لگانا محض قیاس آرائی ہے۔ ابھی تک اس بارے میں کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا جیلی کے نئے i-HEV سسٹم والے ماڈلز یہاں آ رہے ہیں یا نہیں۔

تبصرے بند ہیں.