حکومت کا پیٹرول کی قیمتوں میں 50 روپے فی لیٹر اضافہ خود برداشت کرنے کا فیصلہ

104

ہماری جمعہ کی رپورٹ کے تسلسل میں، وفاقی حکومت نے اس ہفتے ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھنے اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اوگرا (OGRA) کے جمعہ کی رات جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ حکومت دونوں مصنوعات پر 50 سے 75 روپے فی لیٹر تک سبسڈی دے رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صارفین فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی پرانی قیمتیں ہی ادا کرتے رہیں گے، کیونکہ حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے اسے خود سنبھال لیا ہے۔

ہنگامی ذخائر کا استعمال

یہ فیصلہ جمعہ کی رات قیمتوں کے طے شدہ جائزے سے قبل کیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عسکری قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے حکومت 389 ارب روپے کے ہنگامی فنڈز (Emergency Fund) کا استعمال کرے گی تاکہ قیمتوں کے فرق کو پورا کیا جا سکے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تفصیلی ڈھانچہ

اس ہفتے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

جزو (Component) پیٹرول ڈیزل
ایکس ریفائنری قیمت میں اضافہ 46.88 روپے/لیٹر 72.41 روپے/لیٹر
حکومتی سبسڈی 49.63 روپے/لیٹر 75.05 روپے/لیٹر
پیٹرولیم لیوی 105.37 روپے/لیٹر 55.24 روپے/لیٹر
IFEM میں اضافہ 2.75 روپے/لیٹر 2.64 روپے/لیٹر
OMC مارجنز 7.87 روپے/لیٹر 7.87 روپے/لیٹر
مجموعی تبدیلی 0 روپے/لیٹر 0 روپے/لیٹر

ایک ایسا بوجھ جو ریاست ہمیشہ نہیں اٹھا سکتی

تاہم، اس سطح کی سبسڈی زیادہ دیر تک برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ 50 سے 75 روپے فی لیٹر کا بوجھ سرکاری خزانے کے لیے بہت مہنگا ہے۔ اگر اگلے جمعہ تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مستحکم بھی رہیں، تب بھی حکومت بتدریج یہ اضافی لاگت صارفین پر منتقل کرنا شروع کر سکتی ہے کیونکہ وہ طویل عرصے تک اس مالی بوجھ کو اکیلے برداشت نہیں کر سکتی۔

لہٰذا، صارفین کو آنے والے ہفتوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے پاک ویلز (PakWheels) کو گوگل نیوز پر فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel