حکومت کا پیٹرولیم قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ: لیوی میں اضافے سے عوام ریلیف سے محروم
وفاقی حکومت نے آئندہ 15 روز (16 جنوری تا 31 جنوری 2026) کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود، حکومت نے پیٹرولیم لیوی (PL) میں اضافہ کر کے قیمتوں کو مستحکم رکھا ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں کی تفصیلات (16 جنوری 2026)
| مصنوعات | نئی قیمت (فی لیٹر) | تبدیلی | پیٹرولیم لیوی (نئی) |
| پیٹرول (MS) | 253.17 روپے | برقرار | 84.27 روپے |
| ڈیزل (HSD) | 257.08 روپے | برقرار | 76.21 روپے |
اہم نکات: قیمتیں کیوں نہیں کم ہوئیں؟
1. پیٹرول (Petrol):
عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کی وجہ سے ریفائنری کی سطح پر پیٹرول کی قیمت میں 4.57 روپے فی لیٹر کمی آئی تھی۔ تاہم، حکومت نے عوام کو یہ ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی میں 4.65 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا، جس کی وجہ سے قیمت 253.17 روپے پر برقرار رہی۔
2. ہائی اسپیڈ ڈیزل (Diesel):
ڈیزل کی ریفائنری قیمت میں صرف 0.69 روپے کی معمولی کمی ہوئی تھی۔ حکومت نے یہاں بھی لیوی میں 0.80 روپے کا اضافہ کیا، جسے فریٹ مارجن (IFEM) میں کمی کے ذریعے برابر کر دیا گیا، یوں ڈیزل کی قیمت بھی 257.08 روپے پر ساکن رہی۔
3. حکومتی حکمتِ عملی:
تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں (جو تقریباً 60 ڈالر فی بیرل پر ہیں) کم ہونے کے باوجود ریونیو اہداف پورے کرنے اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں (Circular Debt) کو مینیج کرنے کے لیے قیمتیں کم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.