پاکستان میں GWM Tank 500 خریدنے والے ابتدائی صارفین نے شکایت کی ہے کہ جنوری میں لانچنگ کے وقت ایس یو وی (SUV) بک کروانے کے کئی ماہ گزر جانے کے باوجود انہیں اب تک گاڑی ڈیلیور نہیں کی گئی۔
سوشل میڈیا اور پبلک گروپس میں صارفین کا کہنا ہے کہ جنوری کی کچھ بکنگز اب تک ادھوری ہیں، جبکہ مبینہ طور پر بعد میں بکنگ کروانے والے خریداروں، ڈیلرز اور انویسٹرز کو گاڑیاں مل چکی ہیں۔ تاہم، پاک ویلز نے آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

ڈیلیوری کے طریقہ کار پر سوالات
ایک صارف نے بتایا کہ انہوں نے 23 جنوری کو گاڑی بک کروائی تھی لیکن اب تک انتظار کر رہے ہیں، جبکہ ان کے بعد بکنگ کروانے والوں کو ڈیلیوری مل چکی ہے۔ ایک اور خریدار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے آفیشل بکنگ شروع ہونے سے بھی پہلے Tank 500 PHEV بک کروائی تھی، لیکن لاہور کے ڈیلرز کے پاس گاڑیاں موجود ہونے کے باوجود انہیں اب تک گاڑی نہیں ملی۔ ان شکایات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا گاڑیاں بکنگ کی ترتیب کے مطابق دی جا رہی ہیں یا نہیں؟
بھاری بقایا رقم کا مطالبہ
کچھ خریداروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان سے ڈیلیوری سے پہلے گاڑی کی زیادہ تر بقایا رقم ادا کرنے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ ایک پبلک فورم پر Tank 500 PHEV کے ایک کسٹمر نے شکایت کی کہ انہیں 2.03 کروڑ روپے (Rs. 20.3 million) ادا کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ ڈیلیوری کے وقت لاگو ہونے والا کوئی بھی اضافی ٹیکس بھی انہیں ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
یاد رہے کہ لانچ کے وقت Tank 500 HEV کی قیمت 2 کروڑ 5 لاکھ روپے اور Tank 500 PHEV کی قیمت 2 کروڑ 25 لاکھ روپے رکھی گئی تھی۔

ڈیلیوری کے وقت میں تبدیلی
کمپنی نے شروع میں ڈیلیوری کے لیے 3 سے 4 ماہ کا وقت دیا تھا، لیکن بعد میں زیادہ ڈیمانڈ کا حوالہ دیتے ہوئے PHEV کے لیے یہ وقت بڑھا کر 6 سے 8 ماہ اور HEV کے لیے 7 سے 9 ماہ کر دیا گیا۔
تاہم، یہ نیا شیڈول 27 جنوری کے بعد کی بکنگز پر لاگو ہونا تھا۔ پہلے بکنگ کروانے والے خریداروں کا موقف ہے کہ ان پر پرانا وقت ہی لاگو ہونا چاہیے تھا۔

تبصرے بند ہیں.