پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ اس وقت شدید بے یقینی کا شکار ہے، کیونکہ ہائبرڈ گاڑیوں (HEVs اور PHEVs) پر ملنے والی سیلز ٹیکس رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔
پرانی رعایتی پالیسی کے تحت 1800cc تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر صرف 8.5% اور 1800cc سے اوپر کی گاڑیوں پر 12.75% سیلز ٹیکس لاگو تھا۔ لیکن اب اس رعایت کی مدت ختم ہونے کے بعد، تکنیکی طور پر سیلز ٹیکس دوبارہ اپنی پرانی اور اصل شرح یعنی 25% پر آ گیا ہے۔ تاہم، حکومت نے ابھی تک اس کا کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا فیصلہ جاری نہیں کیا، جس کی وجہ سے کار ساز کمپنیاں شدید الجھن کا شکار ہیں اور انہوں نے اپنی پروڈکشن اور انوائسنگ (بلنگ) روک دی ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پرانی رعایت ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے ابھی تک متبادل پالیسی کا اعلان نہیں کیا۔
-
گاڑیوں کی عام ٹیکس شرح کے مطابق، ہر وہ گاڑی جو 1400cc سے بڑی ہو یا جس کی قیمت 40 لاکھ روپے سے زیادہ ہو، اس پر 25% سیلز ٹیکس لگتا ہے۔
-
اس اصول کے تحت اب پاکستان میں بکنے والی تمام ہائبرڈ گاڑیوں پر 25% ٹیکس لگنا چاہیے، لیکن یہ صرف ایک قانونی تشریح ہے، حکومت کی طرف سے اس کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ اسی وجہ سے کمپنیاں پریشان ہیں کہ وہ گاہکوں کے بلوں (Invoices) پر کتنا ٹیکس لکھیں۔
نئی آٹو پالیسی میں تاخیر
حکومت کا کہنا ہے کہ ایک نئی آٹو پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس میں ہائبرڈ گاڑیوں پر 18% سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ لیکن یہ پالیسی تاخیر کا شکار ہے اور اب اس کا اعلان اگست 2026 میں متوقع ہے۔ حکومت نے کوئی حتمی تاریخ بھی نہیں بتائی کہ یہ پالیسی اگست کے شروع میں آئے گی یا آخر میں۔ اس وقت تک تمام کمپنیاں بغیر کسی گائیڈ لائن کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
پروڈکشن اور انوائسنگ (Invoicing) معطل
پاک ویلز (PakWheels) سے گفتگو کرتے ہوئے مینوفیکچررز نے تصدیق کی ہے کہ یکم جولائی سے ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری اور ان کی انوائسنگ مکمل طور پر بند ہے۔ آج 14 جولائی تک پروڈکشن بند ہوئے دو ہفتے ہو چکے ہیں اور یہ تعطل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
-
علی حمید (سی او او، سازگار موٹرز): انہوں نے بتایا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر ہو رہی ہے، ڈیلرز کا کام متاثر ہو رہا ہے اور پوری سپلائی چین پر شدید مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
-
سنیل منج (آٹو ایکسپرٹ): انہوں نے واضح کیا کہ پروڈکشن بند ہونے سے صرف فیکٹریاں نہیں بلکہ ہزاروں دیگر لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ وینڈرز، ٹرانسپورٹرز اور فیکٹریوں کے دیہاڑی دار مزدور روزگار سے محروم ہو رہے ہیں۔
گاہکوں کا غصہ کمپنیوں پر
گاڑیوں کی ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ سے گاہکوں نے سوشل میڈیا پر کمپنیوں کے خلاف شکایات شروع کر دی ہیں۔ علی حمید کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے مینوفیکچررز کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ چونکہ گاہک کا براہِ راست رابطہ حکومت سے نہیں بلکہ کمپنی سے ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنا سارا غصہ کمپنیوں پر نکال رہے ہیں، حالانکہ یہ تاخیر حکومت کی پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
حکومت کے پاس تیاری کا پورا وقت تھا
پاک ویلز کے پروگرام میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سنیل منج نے کہا کہ حکومت کو بہت پہلے سے معلوم تھا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کی یہ رعایت 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔ حکومت کے پاس متبادل پالیسی بنانے کے لیے کافی وقت تھا، لیکن اس کے باوجود سستی دکھائی گئی اور اب 14 دن گزرنے کے بعد بھی کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اگر پالیسی وقت پر آ جاتی تو آٹو انڈسٹری کو اس بڑے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
اگست کا انتظار
اب پوری آٹو انڈسٹری کی نظریں اگست میں آنے والی نئی آٹو پالیسی پر ٹکی ہوئی ہیں۔ یہ تعطل جتنا لمبا ہوگا، مالی نقصان اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ ٹیکس کے مستقبل کے تنازعات سے بچنے کے لیے کار ساز کمپنیاں پالیسی کے باقاعدہ اعلان تک پروڈکشن اور بلنگ بند رکھنے پر مجبور ہیں۔

تبصرے بند ہیں.