پاکستان کے بڑے شہروں میں رائڈ ہیلنگ اور ڈیلیوری سروسز اب روزمرہ کی ضرورت بن چکی ہیں۔ لاکھوں لوگ دفتر جانے، کھانا منگوانے یا پارسل بھیجنے کے لیے ان ڈرائیو، یانگو اور فوڈ پانڈا جیسی ایپس کا استعمال کرتے ہیں۔
تاہم، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر ان سروسز کے کرایوں پر پڑے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کا بحران اور پاکستان کی سپلائی کو خطرہ
عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ پاکستان کے لیے صورتحال اس لیے تشویشناک ہے کہ ہماری تیل کی کل درآمدات کا 80 فیصد اسی راستے سے آتا ہے۔ اس راستے میں کوئی بھی رکاوٹ یا بحری جہازوں کی انشورنس میں اضافہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتا ہے۔
ہفتہ وار قیمتوں کا تعین: ایک نئی غیر یقینی صورتحال
حکومتِ پاکستان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ اب قیمتیں ہر 15 دن کے بجائے ہر اتوار کی رات تبدیل کی جائیں گی۔
-
یکم مارچ 2026 کی صورتحال: پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے اور ڈیزل میں 5 روپے اضافہ کیا گیا، جس کے بعد پیٹرول 266 روپے اور ڈیزل 280 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔
-
اگلا خدشہ: ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں، تو اگلی ترمیم میں پیٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
کرایوں میں اضافے کی وجوہات
جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، تو رائڈ ہیلنگ ڈرائیورز کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کے ردعمل میں:
-
کم کرایوں کا انکار: ڈرائیور کم منافع والی سواریاں اٹھانا بند کر دیتے ہیں۔
-
بھاؤ تاؤ: ان ڈرائیو جیسے پلیٹ فارمز پر ڈرائیورز زیادہ پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
-
سروس میں کمی: منافع کم ہونے کی وجہ سے بہت سے ڈرائیور بائیک یا گاڑی نکالنا بند کر دیتے ہیں، جس سے سواری ملنا مشکل ہو جاتی ہے۔
اندازہ: رش کے اوقات میں کرایوں میں 100 سے 150 فیصد تک اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ماضی کے تجربات: 2022 اور 2023 کے اسباق
-
فروری 2022: روس یوکرین جنگ کے دوران جب عالمی سطح پر تیل مہنگا ہوا، تو پاکستان میں پیٹرول 283 روپے تک جا پہنچا۔ اس دوران ڈرائیورز نے بڑے پیمانے پر رائیڈز کینسل کیں اور کرایوں میں شدید اضافہ ہوا۔
-
2023 کا بحران: جب پیٹرول 311 روپے تک پہنچا، تو ڈیلیوری پلیٹ فارمز نے ڈسکاؤنٹس ختم کر دیے اور ‘سروس چارجز’ میں اضافہ کر دیا۔
ڈیلیوری سروسز پر اثرات
موٹر سائیکل پر مبنی ڈیلیوری سروسز پیٹرول کی قیمتوں کے لیے بہت حساس ہوتی ہیں۔ ایک ڈیلیوری رائیڈر روزانہ 80 سے 120 کلومیٹر سفر کرتا ہے۔ اگر پیٹرول 300 روپے سے اوپر جاتا ہے، تو:
-
کھانے کی ڈیلیوری کے چارجز بڑھ جائیں گے۔
-
پروموشنل کوڈز اور ڈسکاؤنٹس میں کمی آئے گی۔
-
پارسل بھیجنا مہنگا ہو جائے گا۔
شہری مسافر سب سے زیادہ متاثر
لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں وہ طلباء اور ملازمت پیشہ افراد جو روزانہ ان ایپس پر انحصار کرتے ہیں، ان کے ماہانہ سفری اخراجات میں بھاری اضافہ ہو سکتا ہے۔ بہت سے مسافروں کو مجبوراً پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف واپس جانا پڑ سکتا ہے۔
خلاصہ
آنے والے اتوار کو ہونے والی پیٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر عالمی حالات برقرار رہے تو عام آدمی کے لیے سفر کرنا اور گھر بیٹھے اشیاء منگوانا مزید مہنگا ہو جائے گا۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.