M-Tag لو بیلنس پر اضافی ٹول چیلنج؛ اسلام آباد ہائی کورٹ کے نوٹسز جاری

16

اسلام آباد ہائی کورٹ نے موٹروے پر ایم ٹیگ (M-Tag) میں کم بیلنس ہونے پر گاڑیوں سے 50 فیصد اضافی ٹول ٹیکس وصول کرنے کے اقدام کے خلاف دائر درخواست پر وزارتِ مواصلات اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، اس درخواست میں اس نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت ایم ٹیگ میں بیلنس کم ہونے کی صورت میں ڈرائیوروں سے عام ٹول ٹیکس سے آدھا (50 فیصد) زیادہ ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے کی۔

اضافی ٹول ٹیکس کے خلاف دائر درخواست

یہ درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے 3 جون 2025 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ اضافی چارجز بالکل بلا جواز، حد سے زیادہ اور غیر قانونی ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ ایم ٹیگ میں کم بیلنس ہونے کی صورت میں ڈرائیوروں پر بغیر کسی معقول وجہ کے اتنا بھاری جرمانہ عائد کرنا سراسر ناانصافی ہے۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اضافی ٹول بظاہر حکومتی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے، اور ایسے معاملات میں عدالتی مداخلت کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پالیسی فیصلہ امتیازی، غیر معقول یا قانون کے منافی ہو، تو عدالتوں کو اس کا جائزہ لینے اور اسے کالعدم قرار دینے کا پورا اختیار حاصل ہے۔

حکام کو جواب جمع کروانے کی ہدایت

ابتدائی دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارتِ مواصلات اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

عدالت نے فی الوقت اس اضافی ٹول ٹیکس کی وصولی کو معطل یا ختم نہیں کیا ہے۔ کیس پر مزید غور کیا جا رہا ہے، اور فریقین کے جوابات سے یہ واضح ہوگا کہ ایم ٹیگ میں کم بیلنس والی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس لگانے کی قانونی اور پالیسی بنیاد کیا ہے۔

آٹو انڈسٹری اور ملکی قوانین سے جڑی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیےگوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel