عراق میں تیل کی پیداوار بند، پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ
عراق نے ایران سے منسلک حملوں اور آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی نقل و حرکت میں دشواری کے باعث اپنے سب سے بڑے آئل فیلڈ “رمیلا” سے کام روک دیا ہے۔ یہ فیلڈ عراق کی کل پیداوار کا چھتیس فیصد فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکیہ جانے والی پائپ لائن سے بھی سپلائی معطل ہو گئی ہے، جس نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو اسی ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا ہے۔
پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات:
پاکستان میں یکم مارچ دو ہزار چھبیس سے پیٹرول کی قیمت دو سو چھیاسٹھ روپے اور ڈیزل کی قیمت دو سو اسی روپے فی لیٹر مقرر ہے، لیکن عالمی حالات درج ذیل طریقوں سے قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں:
-
درآمدی لاگت میں اضافہ: عالمی سطح پر خام تیل مہنگا ہونے سے پاکستان کے لیے تیل منگوانا مزید مشکل اور مہنگا ہو جائے گا۔
-
فریٹ اور انشورنس: بحری راستوں میں خطرات کی وجہ سے تیل لانے والے جہازوں کے کرائے اور انشورنس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جو پیٹرول پمپ پر قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔
-
لاجسٹکس پر اثر: ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے مال بردار ٹرکوں کے اخراجات بڑھیں گے، جس سے گاڑیوں کے پرزہ جات اور نئی گاڑیوں کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
عالمی منڈی کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا عراق اپنے جنوبی بندرگاہوں سے سپلائی دوبارہ بحال کر پائے گا یا نہیں۔ اگر یہ تعطل طویل ہوا تو پاکستان کو اگلے پندرہ روز میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.