کیا پاکستان میں 150cc بائیکس کا دور ختم ہونے والا ہے؟

351

پاکستان میں سال 2017 سے پہلے تک موٹر سائیکل مارکیٹ بنیادی طور پر 70cc اور 125cc بائیکس کے گرد گھومتی تھی اور ہیوی یا زیادہ پاور والی بائیکس عام مارکیٹ کا حصہ نہیں تھیں۔

150cc سیگمنٹ میں ہونڈا کی انٹری

یہ صورتحال 2017 میں اس وقت بدلی جب اٹلس ہونڈا (Atlas Honda) نے CB150F لانچ کی، جو اس وقت ان کی سب سے مہنگی اور فلیگ شپ موٹر سائیکل تھی۔ اس وقت تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار روپے کی بھاری قیمت اور آئل کم کرنے (oil consumption) کے معلوم مسائل کے باوجود، یہ بائیک سپر ہٹ رہی۔ اس کے اسٹائلش لک، ایل ای ڈی ڈی آر ایلز (LED DRLs)، چوڑے فیول ٹینک اور اسپورٹی سائلنسر نے نوجوان خریداروں کے دل جیت لیے۔

سوزوکی کا جواب: GR150

ہونڈا کی اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے پاک سوزوکی نے بھی 2018 میں اپنی فلیگ شپ بائیک GR150 مارکیٹ میں اتاری۔ شروع میں یہ باہر سے امپورٹ کی جاتی تھی، لیکن 2019 کے وسط تک سوزوکی نے اسے مقامی سطح پر اسمبل کرنا شروع کر دیا۔ یہ بائیک اب تک پاک سوزوکی کی سب سے مہنگی پیشکش ہے۔ اس میں فرنٹ ڈبل پسٹن ڈسک بریک، سیلف اسٹارٹ اور فیول گیج جیسے تمام فیچرز موجود ہیں، جبکہ نرم سیٹ اور بہترین سسپنشن کی وجہ سے اس کا سفر ہونڈا کے مقابلے میں زیادہ آرام دہ ہے۔

ہائی اسپیڈ (Hi-Speed) کا انوکھا جوا

2018 میں ہائی اسپیڈ نے بھی مارکیٹ میں قدم رکھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک عام چائنیز بائیک کے ساتھ ہونڈا اور سوزوکی جیسے بڑے برانڈز کا مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔ اس لیے انہوں نے ڈیزائن کا پتا کھیلا اور پاکستان کی پہلی برانڈ نیو کیفے ریسر بائیک Infinity 150 متعارف کروائی۔

اگرچہ یہ بائیک چلانے میں اتنی آرام دہ نہیں ہے، اس کا بیٹھنے کا انداز (posture) کمر میں درد کر دیتا ہے اور انجن میں وائبریشن بھی ہے، لیکن یہ 2026 میں بھی بک رہی ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں کیفے ریسر کے شوقین افراد کا ایک مخصوص طبقہ ہے، کیونکہ خود سے ایسی بائیک تیار کرنے میں بہت زیادہ وقت اور پیسہ لگتا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا لک CB150F یا GR150 سے زیادہ پرکشش ہے۔ اس تجربے کے بعد 150cc مارکیٹ صرف دو جاپانی برانڈز تک محدود نہیں رہی۔

خریدار ایک، آپشنز بے شمار

آج 2026 میں 150cc کیٹیگری میں شدید مقابلہ ہے۔ یونائیٹڈ کی CCR150 اور روڈ پرنس کی Wego 150 مارکیٹ میں موجود ہیں، جبکہ گزشتہ سال اٹلس ہونڈا نے CB150F سے تھوڑی کم قیمت میں ایک اور آپشن CG150 بھی متعارف کروایا ہے۔ یہ تمام بائیکس ایسے خریداروں کے لیے ہیں جو 125cc سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور ان کا بجٹ اچھا ہے۔

150cc اب عام مارکیٹ ہے، لیکن اگلا رخ کیا ہے؟

آج نو سال بعد، 150cc اب ایک عام پریمیم کیٹیگری بن چکی ہے، لیکن اب مارکیٹ میں وہی تبدیلیاں نظر آ رہی ہیں جو 2017 سے پہلے تھیں۔ اس وقت ہونڈا نے پہلی موو کی تھی، لیکن اس بار چائنیز برانڈز آگے ہیں۔

  • ہائی اسپیڈ اور لیفان (Lifan): یہ دونوں برانڈز 2025 سے پاکستان میں 200cc اور 250cc بائیکس عام ماڈلز کے طور پر بیچ رہے ہیں۔

  • جی پی ایکس (GPX): گزشتہ ماہ تھائی لینڈ کے اس برانڈ نے بھی 200cc بائیکس کے ساتھ پاکستان میں انٹری ماری ہے۔ تین برانڈز کا ایک ہی وقت میں ایک ہی سمت میں کام کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مارکیٹ اب بڑے انجن کی طرف شفٹ ہو رہی ہے۔

اٹلس ہونڈا کی 250cc سیگمنٹ پر نظر

چائنیز برانڈز کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اٹلس ہونڈا نے بھی اس سیگمنٹ میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پاک ویلز کی رپورٹ کے مطابق، ہونڈا کے سی ای او ثاقب شیرازی کے ساتھ ایک مینجمنٹ سیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مارکیٹ میں ڈیمانڈ برقرار رہی تو کمپنی 250cc موٹر سائیکلز لانچ کرنے پر غور کر سکتی ہے۔

جاپانی برانڈز اس بار پیچھے کیوں ہیں؟

2017 میں ہونڈا اور سوزوکی نے شروعات کی تھی اور باقی کمپنیوں نے ان کی پیروی کی۔ لیکن اس بار چائنیز اور تھائی برانڈز پہلے بازی لے گئے ہیں اور ہونڈا ابھی صرف “غور” کر رہا ہے۔ جو کمپنی پہلے موو کرتی ہے، وہی قیمت اور ڈیزائن کا معیار طے کرتی ہے، اور اس بار یہ اختیار چائنیز برانڈز کے ہاتھ میں ہے۔

کیا عام خریدار یہ بائیکس خرید سکتا ہے؟

اس وقت چائنیز 200-250cc بائیکس کی قیمتیں بھی کم نہیں ہیں اور یہ 6 لاکھ روپے کے آس پاس سے شروع ہوتی ہیں، جو ایک عام خریدار کی پہنچ سے باہر ہیں۔ لیکن کسی بھی نئے سیگمنٹ کے آغاز میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر مقابلہ بڑھے گا تو قیمتیں اسی حد (6 لاکھ) کے آس پاس رک سکتی ہیں، جو کہ 150cc کے سنجیدہ خریداروں کے لیے زیادہ دور نہیں ہو گی۔

تاہم، اٹلس ہونڈا کی کہانی مختلف ہے۔ ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی بائیکس مہنگی رکھتے ہیں۔ آج ہونڈا کی CB150F ہی 5 لاکھ 30 ہزار روپے کی ہے، تو اگر وہ 200 یا 250cc کی بائیک لاتے ہیں، تو اس کی قیمت 6 لاکھ نہیں بلکہ 8 سے 9 لاکھ روپے کے درمیان ہوگی۔ یہ بائیک صرف ان لوگوں کے لیے ہوگی جو ہونڈا کا برانڈ نام چاہتے ہیں اور ان کا بجٹ بہت زیادہ ہے۔

نتیجہ

2017 میں پاکستان کی مارکیٹ 125cc سے 150cc پر شفٹ ہوئی تھی، اور اب یہی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے جہاں مارکیٹ 150cc سے 200-250cc کی طرف بڑھ رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار قیادت جاپانی کمپنیوں کے بجائے چائنیز اور تھائی برانڈز کر رہے ہیں۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ قیمت، ڈیزائن اور ویلیو کا یہ کھیل اس نئے سیگمنٹ کو کتنا کامیاب بناتا ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel