وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اسلام آباد کی سیکیورٹی اور انتظامی امور میں بڑی تبدیلیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت شہر کے 109 داخلی راستوں کو ختم کر کے صرف 25 اہم مقامات تک محدود کیا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی اہلکار گاڑیوں اور افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھ سکیں۔
منصوبے کے اہم نکات:
-
داخلی راستوں کی کمی: غیر ضروری راستوں کو بند کر کے صرف پچیس مخصوص پوائنٹس پر چیکنگ کی جائے گی، جس سے مانیٹرنگ کا عمل تیز اور موثر ہوگا۔
-
ریڈ زون کی سیکیورٹی: حساس سرکاری عمارتوں پر مشتمل ریڈ زون کو مکمل طور پر فعال اور محفوظ بنانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
-
ٹیکنالوجی کا استعمال: سیکیورٹی کے لیے ایم ٹیگ (M-Tag) اور جدید کیمروں کے استعمال پر زور دیا گیا ہے تاکہ گاڑیوں کی شناخت خودکار طریقے سے ہو سکے۔
-
شہری سہولیات: اس منصوبے کے ساتھ ساتھ شہر کی صفائی، تجاوزات کے خاتمے اور عوامی خدمات میں بہتری کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز کو خصوصی ٹاسک دیے گئے ہیں۔
مسافروں اور گاڑیوں کے مالکان کے لیے اثر:
راستوں کی کمی سے شروع میں ٹریفک کے بہاؤ میں کچھ دباؤ آ سکتا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اس سے شہر میں جرائم اور دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ گاڑیوں کے مالکان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پر ایم ٹیگ کی موجودگی یقینی بنائیں تاکہ سیکیورٹی چیک پوائنٹس سے گزرنے میں آسانی ہو۔
اس منصوبے پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا اور آنے والے دنوں میں مخصوص راستوں کی بندش کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

تبصرے بند ہیں.