شمالی علاقہ جات میں جیکو J7 PHEV کے اچانک بند ہو جانے والے واقعے نے اب ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل ہم نے رپورٹ کیا تھا کہ نیلم ویلی میں تاؤبٹ جاتے ہوئے ایک بالکل نئی جیکو J7 PHEV اسکرین پر وارننگ میسجز دکھانے کے بعد اچانک بند ہو گئی تھی۔ گاڑی کو بعد ازاں کمپنی کی ٹیم کے معائنے کے بعد وہاں سے ریکور کر کے واپس لایا گیا تھا۔
اب پاک ویلز نے اس حوالے سے مالک سے دوبارہ رابطہ کیا ہے، اور ان کے مطابق اصل مسئلہ اب صرف گاڑی کا بند ہونا نہیں بلکہ اس کی مرمت کی ہوش رُبا قیمت ہے۔
مالک کے مطابق اب تک کیا ہوا؟
مالک کا کہنا ہے کہ جب گاڑی کو معائنے کے لیے کمپنی کے پاس پہنچایا گیا، تو انہیں بتایا گیا کہ ہائی وولٹیج بیٹری سسٹم سے جڑا ایک کنیکٹر یا حفاظتی جزو ٹوٹ گیا ہے۔
مالک کے بقول، کمپنی نے انہیں مطلع کیا کہ یہ مخصوص کنیکٹر الگ سے دستیاب نہیں ہے، اس لیے اب گاڑی کا مکمل بیٹری پیک تبدیل کرنا پڑے گا۔ اور اس کی قیمت؟ 36 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔
یہیں سے معاملہ مالک کے لیے مزید سنگین ہو گیا۔
مالک کا مطالبہ: “صرف کنیکٹر تبدیل کریں”
مالک نے پاک ویلز کو بتایا کہ انہوں نے کمپنی سے درخواست کی ہے کہ پوری بیٹری تبدیل کرنے کے بجائے صرف ٹوٹا ہوا کنیکٹر فراہم کیا جائے۔ ان کا سادہ سا موقف یہ تھا کہ اگر صرف ایک کنیکٹر ٹوٹا ہے، تو اس کے لیے پوری بیٹری تبدیل کرنے کی کیا منطق ہے؟
تاہم، مالک کے مطابق کمپنی کا جواب یہ تھا کہ کنیکٹر الگ سے فراہم نہیں کیا جاتا اور ان کے پاس اس وقت یہ پرزہ انفرادی طور پر دستیاب نہیں ہے۔
یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟
یہ صورتحال پاکستان میں ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ (PHEV) مالکان کے لیے ایک بڑی تشویش کی بات ہے:
-
کمپلیکس ٹیکنالوجی: جدید PHEVs صرف پیٹرول گاڑیاں نہیں ہوتیں۔ ان کی بیٹری، وائرنگ اور سینسرز ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ یہ کارکردگی کے لیے تو اچھا ہے، لیکن اگر کوئی چھوٹا پرزہ الگ سے دستیاب نہ ہو، تو یہ بہت مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
-
مرمت کی لاگت: اگر مالک کی بات درست ہے، تو ایک معمولی کنیکٹر کا نقصان 36 لاکھ روپے کے بل میں بدل سکتا ہے، جو کسی بھی خریدار کے لیے ڈراؤنا خواب ہے۔
خریداروں کے لیے بڑے سوالات
اس واقعے نے ریپیئر ایبلٹی یعنی مرمت کی سہولت پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ خریداروں کو واضح ہونا چاہیے کہ:
-
کیا بیٹری کے چھوٹے پرزے (شیلڈ، وائرنگ، کنیکٹر) الگ سے دستیاب ہیں؟
-
وارنٹی میں کیا کیا شامل ہے؟ کیا سڑک کے پتھر یا پانی سے ہونے والا نقصان وارنٹی سے باہر ہے؟
-
اگر بیٹری پیک کو ایک “سیلڈ یونٹ” کے طور پر لیا جائے گا، تو معمولی نقصان بھی لاکھوں روپے کا بل بنائے گا۔
کمپنی کا موقف
پاک ویلز نے اس معاملے پر کمپنی سے بھی رابطہ کیا، تاہم موصول ہونے والے جوابات خریدار کے اصل سوال (کنیکٹر کی علیحدہ دستیابی) کی وضاحت کرنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ کمپنی نے مبینہ کنیکٹر کے بارے میں کوئی واضح تبصرہ نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ معاملے کا سب سے اہم حصہ اب بھی مبہم ہے اور پاک ویلز اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاک ویلز کی رائے
جیکو کی ٹیم اس بات کے لیے تعریف کی مستحق ہے کہ انہوں نے دور افتادہ علاقے اور خراب موسم میں پہنچ کر گاڑی کا معائنہ کیا، لیکن اب مرمت کی صورتحال پر بھی اتنی ہی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایک کنیکٹر کے بدلے 36 لاکھ روپے کا بیٹری پیک تبدیل کرنا وہ خوف ہے جو پاکستان میں ہائبرڈ اور ای وی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے۔ جدید گاڑیاں لانچ کرنا ایک بات ہے، لیکن ان کے پرزوں کی دستیابی اور واضح وارنٹی شرائط کے ساتھ خریدار کو تحفظ دینا ہی اصل امتحان ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔


تبصرے بند ہیں.