ججز اب سرکاری گاڑیاں ایک 150cc موٹر سائیکل کی قیمت میں خرید سکیں گے
ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ کی انتظامیہ نے ایک ایسی اسکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت پنجاب کی عدالتوں میں خدمات انجام دینے والے جوڈیشل افسران (ججز) کو ان کے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیاں انتہائی رعایتی قیمتوں پر خریدنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ججز اب سرکاری گاڑی ایک 150cc بائیک کی قیمت میں خرید سکیں گے
اس اسکیم کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز، سول ججز اور فیملی ججز اپنے زیرِ استعمال سرکاری گاڑیوں کے مالکانہ حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔
-
اس اسکیم میں شامل گاڑیوں میں سوزوکی آلٹو، ٹویوٹا کرولا، اور ہونڈا سٹی کے ماڈلز شامل ہیں۔
-
ان گاڑیوں کی قیمتیں صرف 250,000 روپے سے 350,000 روپے کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔
-
یہ قیمتیں اتنی کم ہیں کہ اس وقت پاکستان میں ایک نئی 150cc بائیک کی قیمت بھی اس سے زیادہ ہے (جیسے سوزوکی GS150 کی قیمت 399,000 روپے ہے)۔
اسکیم کا دائرہ کار اور مستفید ہونے والے ججز
پنجاب بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں، احتساب عدالتوں، بینکنگ کورٹس، ایف آئی اے کی خصوصی عدالتوں، انسدادِ منشیات کی عدالتوں، کسٹمز کورٹس اور لیبر کورٹس میں تعینات ججز بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس کے علاوہ پنجاب کی جوڈیشل سروس کے وہ افسران جو اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان، آئینی عدالت (Constitutional Court) اور وفاقی و صوبائی وزارتِ قانون میں ڈیپوٹیشن پر خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ بھی اس رعایت کے اہل ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 2,000 جوڈیشل افسران اس اقدام سے فائدہ اٹھائیں گے۔
ادائیگی کے لیے 22 جولائی کی ڈیڈ لائن
ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ڈائریکٹر جنرل نے پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو اس اسکیم پر عملدرآمد کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
اہل افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 22 جولائی 2026 تک رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے حق میں پے آرڈر (Pay Order) جمع کرائیں۔ یہ گاڑیاں اس وقت سرکاری ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور فی الحال لاہور ہائیکورٹ کی ملکیت ہیں۔
ماتحت عدلیہ کے ججز کی جانب سے اس فیصلے کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے اور کئی عدالتی افسران نے پے آرڈرز کی تیاری کے لیے بینکوں سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.