کراچی ٹریفک پولیس نے شہر بھر میں رکشوں کے خلاف ایک بڑے کریک ڈاؤن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ حکام کی جانب سے ایک نئی پالیسی تجویز کی گئی ہے جس کے تحت منظور شدہ کرایہ میٹر کے بغیر چلنے والے تمام تھری-ویلرز (رکشوں) پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق، محکمہ سب سے پہلے شاہراہوں سے چنگ چی رکشوں کو ہٹانے اور پھر مرحلہ وار طریقے سے دیگر بغیر میٹر والے رکشوں پر پابندی لگانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس نئی تجویز کردہ پالیسی کے تحت صرف ان رکشوں کو چلنے کی اجازت ہوگی جن میں کرایہ معلوم کرنے والا میٹر لگا ہوا ہوگا۔ تاہم، ابھی تک اس پلان کا کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا اطلاق کی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے۔
میٹر والا رکشہ کیا ہوتا ہے؟
میٹر والا رکشہ وہ ہوتا ہے جس میں ایک ڈیجیٹل یا مینوئل میٹر لگا ہوتا ہے۔ یہ میٹر مسافر سے من مانا کرایہ لینے کے بجائے طے شدہ فاصلے (کلومیٹر) کے حساب سے کرایہ کا تعین کرتا ہے، جس سے مسافروں اور ڈرائیورز کے درمیان بحث تکرار ختم ہو جاتی ہے۔
شہر بھر میں بڑی پابندیوں پر غور
ٹریفک پولیس کا یہ نیا پلان پہلے سے موجود چند مخصوص سڑکوں (جیسے شاہراہِ فیصل، یونیورسٹی روڈ، راشد منہاس روڈ اور کورنگی روڈ) پر عائد پابندیوں سے کہیں بڑا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ حل کرنا، سڑکوں پر روانی لانا اور بغیر لائسنس یا غیر رجسٹرڈ رکشوں کو ایک باقاعدہ قانونی نظام کے تحت لانا ہے۔
رکشہ مالکان کو مہلت دی جائے گی
ٹریفک حکام کے مطابق، اس کریک ڈاؤن کے باقاعدہ آغاز سے پہلے نفاذ کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا تاکہ رکشہ مالکان کو اپنی گاڑیوں میں منظور شدہ فیئر میٹر لگانے کا پورا وقت مل سکے۔
مسافروں کے لیے یہ میٹرز فائدہ مند تو ہوں گے لیکن اس نظام کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت کو کرائے کے سرکاری ریٹس مقرر کرنے ہوں گے، میٹرز کی باقاعدہ انسپکشن کرنی ہوگی اور میٹر میں ہیر پھیر کو روکنے کا سخت نظام بنانا ہوگا۔
شہریوں کے لیے ممکنہ سفری مشکلات
کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں پبلک ٹرانسپورٹ (بسوں) کی کمی ہے، وہاں رکشے عام شہریوں، طلبا اور دفتر جانے والوں کے لیے ایک سستی اور قریبی سواری کا کام کرتے ہیں۔ اگر متبادل ٹرانسپورٹ کا انتظام کیے بغیر شہر بھر میں رکشوں پر پابندی لگائی گئی تو لاکھوں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، رکشہ ڈرائیورز کی جانب سے اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کا بھی امکان ہے۔
موجودہ صورتحال: فی الحال کراچی میں رکشوں پر کوئی شہر بھر کی پابندی نہیں لگی ہے۔ ٹریفک پولیس نے صرف اپنے ایک نئے پلان کا اعلان کیا ہے، اور اس کا حتمی فیصلہ سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی ہوگا۔
کراچی ٹریفک، روڈ قوانین اور پاکستان آٹو مارکیٹ کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.